
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام نے انتخابات سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر پارلیمانی پارٹیوں کی تجویز مسترد کردی
سیاسی مخالفت کے بعد حکومت اب سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہے ،5 اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا بھی منصوبہ ہے
اسلام آباد( نیوزڈیسک)پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں،تینوں جماعتوں نے انتخابات سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر پارلیمانی پارٹیوں کی تجویز مسترد کردی ہے جس سے تعطل مزید سخت ہوگیا ہے، حکومت اب سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ایک ایسا کمیشن تشکیل دیا جا سکے جو قومی اہمیت کے حامل اس معاملے پر غور کرے، حکومت نے 5 اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں سینیٹ بھی اپنے سیشن میں ہوگی جہاں گلگت بلتستان کے حوالے سے قانون سازی ہونا ہے،گلگت بلتستان کیلئے قانون سازی اہمیت کی حامل ہوگئی ہے کیونکہ بھارت گلگت بلتستان کی غیر نمائندہ حیثیت کو متنازع بنانا چاہتا ہے، بھارت اکثر و بیشتر اس علاقے پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے لیکن پاکستان نے ا ±سے ہمیشہ مسترد کیا ہے، حکام نے گلگت بلتستان میں سیاسی قیادت سے رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں بھی اعتماد میں لیا جا سکے


































