
مودی سرکار نے خستہ حال مندروں کی تعمیر نوکے نام پر کئی تاریخی مساجد اوردرگاہوںکی نشاندہی کی ہے جنہیں گراکر ان کی جگہ مندر تعمیر کیے جارہے ہیں
مساجدہندوو ں کے قدیم مذہبی مقامات پر تعمیر کی گئی تھیں،مودی سرکار کا دعویٰ،آبادی کا تناسب منظم انداز میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر قتل عام
سری نگر(نیوز ڈیسک)ہندو انتہا پسند مودی سرکارکی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو ہندو علاقے میں بدلنے کیلئے بھارت کے مختلف شہروں سے انتہا پسند ہندووں کومقبوضہ کشمیرمیں لاکر بسایا جارہا ہے جبکہ مذموم منصوبے کے تحت 50 ہزار مندر قائم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کردیا گیاہے، مودی سرکار نے خستہ حال مندروں کی تعمیر نوکے نام پر کئی تاریخی مساجد اوردرگاہوںکی نشاندہی کی ہے جہاں یہ مندر قائم کیے جارہے ہیں جوکہ آر ایس ایس اور بی جے پی گٹھ جوڑ کا بدنام زمانہ طریقہ واردات رہا ہے، بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مساجدہندوو ¿ں کے قدیم مذہبی مقامات پر تعمیر کی گئی تھیں ،قابض انتظامیہ اس مذموم منصوبے پر عمل درآمد کیلئے کشمیری پنڈتوں کے ایک مخصوص ٹولے کو استعمال کر رہی ہے ،مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو منظم انداز میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر قتل عام، جبری گمشدگیوں، ظلم وتشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، کشمیر میڈیا سروس کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت پرتشدد کارروائیوں کو منظم اور ادارہ جاتی انداز میں استعمال کر رہا ہے ، بھارت میں مشہور تاریخی بابری مسجد کو مسمار کرکے مندر بنانے کا کام پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔


































