
افغان حکومت نے فرانس اور آسٹریلیا کے اعتراض پر طالبان کی رہائی روک دی، تشویش کو دور کرنے کیلئے پارٹنرس کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، افغان ترجمان
طالبان کو چاہئے کہ حقیقی قیام امن کی کوشش کریں مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو دنیا بالخصوص خطے کے لئے اسکے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے،افغان صدر
کابل (نیوز ڈیسک)افغانستان کی جانب سے طالبان قیدیوں کی رہائی روکنے کے باعث امن مذاکرات پھر کھٹائی میں پڑگئے ہیں، فرانس اور آسٹریلیا کی جانب سے اپنے فوجیوں پر حملوں میں ملوث طالبان کو رہا کرنے پر اعتراض کیا گیا تھا جس پر افغان حکومت نے کہا کہ وہ طالبان کے باقی 320 قیدیوں کو رہا نہیں کرے گی، لویہ جرگے میں فریقین کے درمیان آخری 400 قیدیوں کی رہائی پر اتفاق رائے ہوا تھااور افغان حکومت نے 80قید رہا کردئے تھے، مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کی وجہ سے امن مذاکرات ایک بار پھر معطل ہو گئے ہیں، افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ان قیدیوں کے حوالے سے تشویش کو دور کرنے کے سلسلے میں اپنے پارٹنرس کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے،انہوں نے کہا کہ طالبان اپنے قبضے میں موجود افغان شہریوں کو رہا نہیں کررہے ہیں ، افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے امریکی خارجہ تعلقات کونسل سے خطاب میں کہا کہ جنگ بندی، جنگ کے خاتمے کے لئے سیاسی چوکھٹے کا قیام، منشیات کے خلاف مہم اور دہشت گردی کا خاتمہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفد کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے وہ تمام اقدامات کئے ہیں کہ جن سے افغانستان میں امن کا قیام عمل میں آ سکے اور طالبان کو چاہئے کہ ملک میں حقیقی قیام امن کی کوشش کریں ، اشرف غنی نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مقالے میں لکھا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو دنیا بالخصوص خطے کے لئے اسکے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے ، لویہ جرگہ امن مشاورتی کمیٹی نے جو چار سو خطرناک طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا، یہ در حقیقت ایک بہت بڑا خطرہ ہے جسے افغان عوام نے صلح حاصل کرنے کے لئے قبول کیا ہے


































