شہید نوجوان کے جسم پر کیمیائی مواد کے ذرات کی تصدیق، بھارتی فوجی مکانوں کو آگ لگا کر تباہ اور لاشیں مسخ کرنے کیلئے کیمیائی ہتھیار استعمال کررہے ہیں
ضلع اسلام آباد، بڈگاماور سری نگر میں کیمیائی مواد کا استعمال، 13 ماہ کے غیر قانونی محاصر ے کے دوران237 کشمیری شہید، 1482سے زیادہ زخمی
سری نگر(نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں نے کیمیائی مواد استعمال کرکے لاشوں کو مسخ کرنا شروع کردیا،نہتے کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف سری نگر میں شہید نوجوان کے جسم پرملنے والے کیمائی مواد کے ذرات سے ہوا، نوجوان یسین احمد اسلام آباد کے ضلع سرہاما میں نام نہاد ریسکیو آپریشن کے دوران بھارتی فوجیوں کی جانب سے ایک گھر میں نصب کی گئی بارودی ڈیوائس پھٹنے سے زخمی ہوا تھا جو بعد میں دم توڑ گیا، دھماکے سے 3ابچے اور نوجوان بھی زخمی ہوئے تھے،بھارتی فوجی ایک سازش کے تحت کیمیکلز سے مکانوں کو آگ لگا کر تباہ کرنے کے بعد مکان کے ملبے میں دھماکہ خیز مواد نصب کر دیتے ہیں تاکہ امدادی کارروائیاں کرنے والے لوگوں کو شہید کیا جاسکے اور لاشیں قابل شناخت نہ رہیں، مسلح جھڑپوں کے دوران کیمیکل استعمال کرکے لاشوں کو مسخ کیا جا رہا ہے،اسلام آباد کے ہی علاقے بیج بہارا میں بھی ایسی ہی کیمیائی مواد کی ڈیوائس پھٹنے سے ایک نوجوان کے اعضا ضائع ہوگئے تھے،جبکہ بڈگام اور سری نگر میں بھی آپریشن کے دوران کیمیائی مواد کے استعمال کے شواہد ملے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی اقدام کو تقریباً 13 ماہ ہوگئے ہیں، قابض بھارتی فوج نے وادی کو جیل میں تبدیل کر رکھا ہے، 13 ماہ کے دوران قابض بھارتی فوج کی جارحیت سے237 سے زائد کشمیری شہید ہوئے،قابض بھارتی حکومت کے 13 ماہ کے محاصرے کے دوران 1482سے زیادہ کشمیریوں زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے خواتین سمیت 13 ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو گرفتار کیا
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- بھارتی درندگی،مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی مواد کا استعمال


































