بعض گروہ پاک افغان تعلقات کو خراب کرنے کو کوششوں میں مصروف ہیں
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان میں موجود استحکام کو مزید تقویت فراہم کرے گا لیکن اگر افغانستان میں تشدد کم نہ ہوا تو افغان امن عمل میں پیشرفت کو یقینی بنانا مشکل ہو گا، اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف ا سٹریٹجک اسٹڈیز میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے مختلف شدت پسند گروہوں کا سامنا کیا اور امن بحال کرنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور یہ گروہ اب بھی معاملات کو خراب کرنے کو کوششوں میں مصروف ہیں،ہمیں ایسے عناصر/گروپس کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے، عبد اللہ عبد اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کسی بھی شدت پسند تنظیم کو کسی دوسری قوم یا ملک کے لیے خطرات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل میں پاکستان کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہاکہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور سرحدی سالمیت کا احترام کرتا ہے ، پاکستان کے افغانستان میں کوئی ’فیورٹس‘ (پسندیدہ گروہ یا شخصیات) نہیں ہیں اور اسی لیے پاکستان کبھی بھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کی مرضی کو قبول کرے گا کیونکہ پاکستان کو یقین ہے کہ صرف افغان عوام اپنا مستقبل طے کر سکتے ہیں اور ان پر زور زبردستی کسی کو مسلط نہیں کیا جا سکتا،دورہ پاکستان میں عبداللہ عبداللہ نے آرمی چیف جنرل باجوہ ،وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- تشدد ختم نہ ہوا تو امن عمل میں پیشرفت نہیں…


































