اسلامی تحریک کے ہزاروں حامی سڑکوں پر نکل آئے، سانحہ زاریا کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور آیت اللہ زکزاکی کی رہائی کا مطالبہ
گومبے میں بھی ہزاروں افراد کی شیخ زکزاکی کی رہائی کیلئے ریلی، قتل عام کے دوران بچوں ، خواتین اور بوڑھوں سمیت کسی کو بھی نہیں بخشا گیا،ترجمان اسلامی تحریک
ابوجا(نیوزڈیسک) نائیجیریا میں سانحہ زاریا کے شہدا کی پانچویں برسی پر دارلحکومت ابوجا سمیت مختلف شہروں میں اسلامی تحریک کے ہزاروں حامی سڑکوں پر نکل آئے اور سانحہ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور 5سال سے غیرقانونی طور پر نظربند آیت اللہ زکزاکی کی رہائی کا مطالبہ کیا، نائیجیرین سیکورٹی فورسز نے 12دسمبر 2015کو ریاست کادونا کے شہر زاریا میں اسلامی تحریک کے زیراہتمام مجلس عزا پر دھاوا بول کر قتل عام کیا جس میں میں 548مرداور 320خواتین جس میں 23حاملہ تھیں کو شہید کیا گیا، ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ 15دسمبر تک جاری رہا جب فورسز نے آیت اللہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ مالمہ زینت کو بھی گولیاں مارکرزخمی کیا اور گرفتار کرلیا جب سے اب تک وہ قید میں ہی ہیں ، دہشت گردی کے اس مظاہرے میں شیخ زکزاکی کے گھر سمیت کروڑوں روپے کی املاک بھی جلادی گئیں ،سانحہ کے پانچ سال پورے ہونے پر دارالحکومت ابوجا میں ہزاروں افراد زکزاکی کی تصاویر اور بینرزاٹھائے سڑکوں پر نکل آئے مظاہرین نے برجر جنکشن کے قریب جمع ہوکر شدید احتجاج کیا اور آیت اللہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کوغیرقانونی قید سے رہا کرنے کا مطالبہ کیا، ابوجا میں ہی مظاہرین کی بڑی تعداد وفاقی سیکریٹریٹ کے سامنے بھی جمع ہوئی اور آیت اللہ شیخ زکزاکی کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا،ریاست گومبے کے دارلحکومت گومبے میں بھی ہزاروں افراد نے شیخ زکزاکی کی رہائی کیلئے احتجاجی ریلی نکالی اور سانحہ زاریا کیخلاف شدید احتجاج کیا، اسلامی تحریک کے ترجمان عبد الہٰی موسیٰ نے افسوسناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قتل عام کے دوران بچوں ، خواتین اور بوڑھوں سمیت کسی کو بھی نہیں بخشا گیا،حاملہ خواتین تک کو بے رحمی سے گولیاں ماری گئیں ، جو بچے اپنے ماں با پ کو تلاش کرتے پھر رہے تھے ،درندہ صفت فوجیوں نے ایسے چھوٹے بچوں کوبھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا،یہ ایک افسوسناک اور مکروہ واقعہ تھا
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- افریقہ
- سانحہ زاریا کے 5سال، نائیجیریا میں ہزاروں افراد کا احتجاج…


































