
متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران 53 افراد ہلاک ہوئے،بیشتر مسلمان تھے، 11 مساجد، 5 مدارس، ایک درگاہ اور قبرستان پر حملہ کیا گیا
مسلمانوں کی دکانوں، مکانوں اور گاڑیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ، پولیس نے فسادات روکنے کے بجائے بلوائیوں کا ساتھ دیا ، اقلیتی کمیشن کی رپورٹ
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) فروری میں متنازع شہریت قانون کیخلاف دہلی کے خونریز فسادات میں مسلمانوں کی منظم نسل کشی کی گئی، جس دوران مسلمانوں کو قتل کرنے کے علاوہ ان کی دکانوں، مکانوں اور گاڑیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ۔ شہریت کے نئے اور متنازعہ قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران 53 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے جن کی بھاری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی ،دہلی اقلیتی کمیشن نے ان فسادات کے بارے میں تفتیشی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کی منظم نسل کشی تھی جس میں مسلمانوں کے قتلِ عام اور ان کی املاک کو تباہ کرنے کے علاوہ مجموعی طور پر 11 مساجد، 5 مدارس، ایک درگاہ اور مسلمانوں کے ایک قبرستان پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا گیا ،اس رپورٹ میں بطورِ خاص دہلی پولیس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب فسادات کے دوران ”جے شری رام“ کے نعرے لگاتے ہوئے نقاب پوش، مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کی املاک کو تباہ کرنے میں مصروف تھے، اس وقت دہلی پولیس کے اہلکار بھی قریب ہی موجود تھے مگر وہ خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے، پولیس نے فسادات روکنے کے بجائے بلوائیوں کا ساتھ دیا


































