
عبدالعلی مزاری شہید کی برسی کے اجتماع پر دہشت گردانہ حملہ، نزدیک واقع زیر تعمیر عمارت سے فائرنگ کی گئی، فورسز نے دونوں دہشت گروں کو ٹھکانے لگادیا
عبداللہ عبداللہ، کریم خلیلی اور سابق صدر حامد کرزئی موقع پہ موجود تھے،داعش نے ذمہ داری قبول کرلی، شر پسند امن پر آمادہ نظر نہیں آتے،افغان صدر اشرف غنی
کابل (نیوز ڈیسک) افغانستان میں ہزارہ برادری ایک بار پھر تکفیری دہشت گردوں کا نشانہ بن گئی، کابل میں حزب وحدت اسلامی کے بانی عبدالعلی مزاری شہید کی برسی کے اجتماع پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا، جس سے 32 افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے اجتماع پر اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب وہاں انتہائی اہم سیاسی اور مذہبی شخصیات موجود تھیں، حملے کے وقت عبداللہ عبداللہ، کریم خلیلی اور سابق صدر حامد کرزئی موقع پہ موجود تھے تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے، تقریب جاری تھی کہ نزدیک واقع زیر تعمیر عمارت سے فائرنگ کی گئی جس سے لوگ شہید اور زخمی ہوئے،سیکیورٹی فورسز نے دونوں دہشت گروں کو ٹھکانے لگادیا، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے،جبکہ طالبان نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے،افغان صدر اشرف غنی نے خودکش حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے واقعے کی پر زور مذمت کی، انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے بعد سے پْر تشدد کارروائیاں تھم جانا چاہئے تھی لیکن شر پسند امن پر آمادہ نظر نہیں آتے۔


































