
مائیک پومپیوسیاسی کشیدگی کے خاتمے اور حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر جمود توڑنے کابل پہنچے،اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ پر مفاہمت پر زور
مشن میں ناکامی پر افغانستان کی امداد میں ایک ارب ڈالر کٹوتی کا اعلان کردیا، تمام پروگراموں اور امدادی کانفرنس کے فیصلے پربھی نظر ثانی کررہے ہیں،پومپیو
کابل (نیوز ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا مشن کابل ناکام ہوگیا، مشن کی ناکامی پر امریکا نے افغانستان کی امداد میں ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کردی، امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوغیر اعلامیہ دورے پر اچانک کابل پہنچے،ان کے دورے کا مقصد افغانستان میں جاری سیاسی کشیدگی اور کابل حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے پیدا جمود کو توڑنا تھا،انہوں نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں ان کے متوازی حکومت کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے اختلافات پر تبادلہ خیال کیا گیا، مائیک پومپیو نے اشرف غنی کے بعد عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی، مائیک پومپیو نے دونوں رہنماؤں کے درمیان مفاہمت پر زور دیا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے، مشن کی ناکامی پر مائیک پومپیو نے افغانستان کی امداد میں ایک ارب ڈالر کمی کا اعلان کردیا، مائیک پومپیو نے کہا کہ افغان قیادت کے اختلافات دور نہ ہونے کی وجہ سے امداد میں کمی کررہے ہیں، آئندہ سال مزید ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کی جائے گی، افغانستان کے لئے تمام پروگراموں اور امدادی کانفرنس کے فیصلے پربھی نظر ثانی کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ افغان قیادت کی ناکامی امریکی قومی مفاد کیلئے براہ راست خطرہ ہے۔افغان رہنماؤ ں کو ایک مستحکم حکو مت قائم کر نی چا ہئے جو سیکیورٹی فرا ہم کر سکے اور امن عمل کا حصہ بن سکے، صدر اشرف غنی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کیلئے اقتصادی امداد میں ایک ارب امریکی ڈالر کٹوتی کا ملک کے کلیدی شعبہ جات اور محکموں پر اثر نہیں پڑے گا، حکومتوں کے پاس ہمیشہ تدبر کے حالات کیلئے منصوبے ہوتے ہیں،غیر متوقع حالات کے لئے ہمارے پاس بھی کچھ بنیادی منصوبے ہیں،ہم متبادل وسائل کی مدد سے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کریں گے۔


































