
اشرف غنی صدر جبکہ عبداللہ عبداللہ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان کی ٹیم کے ارکان کو کابینہ میں بھی شامل کیا جائے گا،معاہدہ ہوگیا
کئی دہائیوں سے جاری تشدد اور تنازعات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی،پاکستان ،ہم ان کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ وہ امن کے لیے کام کریں،امریکا
کابل /اسلام آباد /واشنگٹن(نیوز ڈیسک)افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان ایک بار پھر شرکت اقتدار کا معاہدہ طے پاگیا ،اشرف غنی صدر رہیں گے جبکہ عبداللہ عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان کی ٹیم کے ارکان کو کابینہ میں بھی شامل کیا جائے گا ،وہ گذشتہ دور حکومت میں بھی ایک معاہدے کے تحت اقتدار میں شریک تھے اور انہیں افغان چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ حاصل تھا، پاکستان نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری تشدد اور تنازعات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور فریقین کو جنگ زدہ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام لانے میں مل جل کر کام کرنے کا موقع ملے گا، دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نازک موڑ پر یہ انتہائی اہم ہے کہ تمام افغان قائدین مل کر تعمیری انداز میں افغان عوام کے مفاد میں کام کریں ، افغان رہنماو¿ں کو چاہیے کہ وہ کئی دہائیوں کے تشدد اور تنازعات سے متاثرہ ملک میں دیرپا امن و استحکام لانے میں مل جل کر کام کریں ، امریکا، طالبان امن معاہدے نے ایک تاریخی موقع پیدا کیا جسے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے تمام افغان اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ اٹھانا ہوگا، امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان میں حالیہ پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ،انہوں نے کہا کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے معاہدے کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی ، ہم ان کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ وہ افغانستان میں امن کے لیے کام کریں۔


































