بھارت 2019 میں مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا، مودی سرکار کے شہریت ایکٹ نے مسلمانوں کو خطرے سے دوچار کر دیا،امریکی کمیشن
بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر نے پر بھی شدید تنقید، پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیاہے، بھارت کو 2004 کے بعد پہلی بار مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویشناک ملک قرار دیا گیا ہے،کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارت 2019 میں مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا، رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کے شہریت ترمیمی ایکٹ نے مسلمانوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے، بھارت کے چار سالہ نیشنل رجسٹریشن پروگرام کی تکمیل کے بعد لاکھوں بھارتی مسلمانوں کو قیدوبند، جلاوطنی اور ریاست کی شناخت کھونے جیسے خطرات کا سامنا ہو گا،رپورٹ میں امریکی انتظامیہ سے مذہبی آزادی کو پامال کرنے والے ملکوں سے کڑا حساب لینے کی سفارش کی گئی ہے،امریکی کمیشن نے بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر نے پر بھی شدید تنقید کی ہے، رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا، کرتارپور راہداری کھولنے پر پاکستانی اقدامات کی تعریف کی گئی، سکھ یونیورسٹی، تعلیمی مواد پر نظرثانی کے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- بھارت اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار،کڑا حساب لینے کی سفارش،…


































