
داعش کے 2200 ارکان افغانستان میں موجود ،ٹی ٹی پی کے کئی ارکان داعش میں شامل، امریکا افغان معاہدہ کے مخالف طالبان کو شامل کرنے کی کوشش
پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی ہوتی ہے، 6ہزار دہشت گرد افغانستا ن میں روپوش، پاک فوج اور شہریوں پر حملوں میں ملوث ، اقوام متحدہ
نیویارک (نیوزڈیسک )افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان اور داعش نے گٹھ جوڑ کرلیا،داعش ان طالبان جنگجووں کو بھی اپنی جانب راغب کر رہی ہے جو امریکااور افغانستان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے خلاف ہیں، یہ انکشاف اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے، ، تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان میں موجو د داعش سے تعلقات استوار کرلئے ہیں جبکہ اس کے کئی افراد داعش میں شامل بھی ہو چکے ہیں ،داعش کا افغانستان کے مغربی علاقوں میں کافی اثر و رسوخ موجود ہے اور اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بھی اسی علاقے میں بنایا ہوا ہے ، رپورٹ کے مطابق داعش کے افغانستان میں 2200 کے قریب ارکان موجود ہیں تاہم اس کی قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے ،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی ہوتی ہے اور چھ ہزار دہشت گرد افغانستا ن میں چھپے ہوئے ہیں،، رپورٹ کے مطابق افغانستان میں چھپے عسکریت پسندوں میں اکثر کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے جو پاک فوج اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے


































