دو مائیں ، تربیت کے دو طریقے اور دو مختلف نتائج ایک مثال سے۔
پہلی ماںایک ماں اپنے بچے کے ساتھ سڑک پر جا رہی تھی کہ سامنے ایک شکستہ حال بھکاری آگیا.ماں نے اپنے بچے کو کہا دیکھو اس بھکاری کو. اگر تم نہیں پڑھو گے تو اس
پہلی ماںایک ماں اپنے بچے کے ساتھ سڑک پر جا رہی تھی کہ سامنے ایک شکستہ حال بھکاری آگیا.ماں نے اپنے بچے کو کہا دیکھو اس بھکاری کو. اگر تم نہیں پڑھو گے تو اس
بچوں کو خدا، جنت اور جہنم کا تعارف کس عمر میں اور کیسے کروائیں؟ مہم نکتہجنت اور جہنم غیبی امور میں سے ہیں اور بچے سات سال تک صرف ان چیزوں کو سمجھتے ہیں جنہیں
ہم بڑوں کے بارے میں نصیحت کی گئی ہے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ کیا بچوں کے بارے میں بھی یہ بات اسی طرح سے ہے؟ اگر بچوں کے بارے
بچے کو تربیت کرنے کا صرف اور صرف راستہ وعظ و نصیحت نہیں ہے کیونکہ ابھی تک اس کی شناخت اس سطح تک نہیں پہنچی بلکہ اس کی کہانیوں، ڈرائنگ، گیمز اور مختلف طریقوں کے
کان کی تکلیف انسان کو تڑپا دیتی ہے۔ اسکی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر انسان کو ایک بار بھی کان کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ جائے تو
ماں کا حق یہ ہے کہ اس نے اپنا خون جگر تمہیں پلایا جبکہ اس طرح کوئی بھی فداکاری نہیں کرتا لہذا ان زحمتوں کی قدر کرتے ہوئے اپنی ماں کا شکر ادا کرو۔ تمہاری
ہماری روایات کے مطابق طبیعت اور نیچر، بچوں کی تخلیقی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لہٰذا بچے کو طبیعت کے نظارے دیکھانے لے جایا کریں تا کہ اس کی خلاقیت میں اضافہ ہو۔ یہ
تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ زوجہ کو خدا نے تمہارے لیے باعثِ سکون و آرام، مونس و انیس اور نگہبان قرار دیا ہے۔ میاں بیوی پر فرض ہے کہ اپنے شریک حیات کے وجود
آج کی نفسیات کہتی ہے کہ بچوں کے ساتھ بچہ بن کے رہیں اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ماں یا باپ بچوں کے ساتھ ان ہی کی زبان میں بات کریں جو
جب والدین بچوں کو اس طرح مخاطب کرتے ہیں کہ خاک ہو تمہارے سر پر، تم کچھ نہیں بن سکتے، تم گدھے ہو، تم بدبخت ہو، تم کچھ بھی نہیں کر سکتے لیکن تمہاری خالہ