حسنِ اخلاق یعنی کیا؟
حُسنِ اخلاق تین چیزوں میں پوشیدہ ہے۔حرام کاموں سے دور رہنااپنے خاندان کے لیے رزق حلال تلاش کرنااور ان کے لیے آسائش و بہبود کا سامان فراہم کرنا۔
حُسنِ اخلاق تین چیزوں میں پوشیدہ ہے۔حرام کاموں سے دور رہنااپنے خاندان کے لیے رزق حلال تلاش کرنااور ان کے لیے آسائش و بہبود کا سامان فراہم کرنا۔
بچے مہربانی کو قدرتی امر جانتے ہیں اور اس پر زیادہ دھیان نہیں دیتے لیکن نامہربانی ان کی روح کو ٹھیس پہنچاتی ہے جسے وہ بڑی جلدی اپنے ذہن میں جاگزیں کر لیتے ہیں۔ اس
گھرانہ تنظیم سازی کا سب سے پہلا مرکز ہے۔ جو شخص گھریلو زندگی میں محبت اور رواداری کرنا سیکھے گا وہی شخص اجتماعی زندگی میں حتیٰ اس سے بھی بالاتر کسی تنظیم میں، محبت اور
ماں کی محبت اور مامتا، بچوں کی صحیح تربیت اور انھیں محنتی بنانے میں مددگار ہونی چاہئے، ورنہ بچے راحت طلب اور عیش پسند بن جائیں گے۔ اسی طرح باپ کی خوش تدبیری سے بچوں
بچوں کے موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال کس نوعیت کا ہونا چاہیے میڈیا سے آگاہی نہ ہونا اور بچے کو سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی قسم کی پابندی کے بغیر آزاد چھوڑ دینا بالکل
خواتین شہید بناتی ہیں، جس کا اجر شہادت سے دس گنا زیادہ ہے۔ خواتین کو نہ جہاد کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی شہادت کی کہ جس کے زریعے وہ اعلیٰ مقام حاصل کرلیں،
جب آپ کا دل کسی اچھے کام کی تمنا کرے تو آپ اس کام کے پیچھے ضرور جائیں اور اسے انجام دیں۔ لیکن جب آپ کا دل کسی برے کام کی تمنا کرے تو اس
صبر یعنی مشکلات میں استقامت دکھائیں اور اس کا سب سے مشکل مرحلہ یہ ہے کہ دوسروں کی برائیوں کو برداشت کیا جائے۔ صبر کی علامت یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود سرگرم رہیں اور
اسلام نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے۔ بچوں کی عمر کا ابتدائی حصہ سیکھنے کے عمل میں زیادہ تاثیر گذار شمار ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچے کسی بڑے کے مقابلے
بس اتنا کافی ہے کہ دینی عقائد کی تعلیم سے پہلے، اپنے بچوں کو باادب بنا دیا جائے۔ تب ہم دیکھیں گے کہ مومن اور دین دار بننا ہمارے بچوں کے لئے کتنا آسان اور