پر اعتماد
*بچوں میں خود اعتمادی کی خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: خود اعتمادی کا پہلا درجہ اپنے بارے میں مثبت رائے رکھنا ہے یعنی بچہ جس
*بچوں میں خود اعتمادی کی خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: خود اعتمادی کا پہلا درجہ اپنے بارے میں مثبت رائے رکھنا ہے یعنی بچہ جس
دانتوں کو صاف اور صحتمند رکھنا بہت ضروری ہے کیوں کہ اگر دانت خراب ہوں یا ان میں جراثیم موجود ہوں تو اس سے انسان کی مجموعی صحت خراب ہوسکتی ہے۔ آج کے جدید دور
بچہ بڑوں کی نسبت زیادہ محبت کی خواہش رکھتا ہے۔ بچے کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ جھونپڑی میں رہ رہا ہے یا محل میں اور نہ ہی اس کی غذا
محبت آب و غذا کی مانند ہے اگر متوازن اور مناسب وقت پر ملے تو ہی اپنا اثر دکھائے گی لہذا محبت میں زیادہ روی نہ صرف بچے کے لیے مفید نہیں بلکہ تربیت میں
جن بچوں میں خود اعتمادی کا فقدان ہوتا ہے وہ نئے تجربات اور کاموں سے کتراتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ معمولی نوعیت کی ناکامیوں کو بھی برداشت نہیں کر
پیغمبر خدا صلیاللهعلیهوآلهوسلّم فرماتے ہیں ترجمہ:تم میں سے سب سے بہترین خاتون وہ ہے جو محبت سے اولاد پیدا کرنے والی ہو اور بدترین خاتون وہ ہے جو ضدی اور ڈھٹائی سے کام لے. خاتون
ہر سالم اور مفید کھیل جس میں بچہ مشغول ہوتا ہے، وہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے، تھوڑی سی توجہ کرنے سے اس کا بچے کی نفسیاتی و شخصیتی نشوونما میں اہمیت کا
دمہ کی بیماری*ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کم بھاگ دوڑ والے بچوں میں گہری اور باقاعدگی سے سانس لینے (جو کہ سانس کی نالی کے مکمل کھلنے اور دمہ کی بیماری سے بچاؤ
جناب موسیؑ نے کہا یااللہ! میرا جنت کا ساتھی کون ہے؟ فرمایا: فلاں قصائی۔ موسیؑ حیران ہوئے کہ قصائی! دیکھنے گئے کہ ہے کون؟ دیکھا ایک قصائی عام قصائیوں کی طرح گوشت بیچ رہا ہے۔
اگر بچہ گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ لڑ پڑے اور بچوں کے زخمی ہونے کا ڈر نہ ہو تو والدین کو اس میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بچوں کے روزمرہ فطری معمولی جھگڑوں