اقتباس |امام حسین (ع) کے قدم بقدم ہونے کا کیا مطلب ہے؟
اے انسان! تجھے اپنے پرودگار کی طرف سختیوں کے ساتھ سفر کرنا ہے اُس کے بعد تو اُس سے ملاقات کرے گا‘‘، اِن تمام زحمتوں اور سختیوں کا ہدف خدا سے ملاقات (فَمُلَاقِیہِ)ہے۔ جو بھی
اے انسان! تجھے اپنے پرودگار کی طرف سختیوں کے ساتھ سفر کرنا ہے اُس کے بعد تو اُس سے ملاقات کرے گا‘‘، اِن تمام زحمتوں اور سختیوں کا ہدف خدا سے ملاقات (فَمُلَاقِیہِ)ہے۔ جو بھی
n *زینبؑ کبریٰ مغرور اور متکبر حکمرانوں کے مقابلے میں، مقاومتی اور معنوی اقتدار کی مظہر ہیں۔ کوفہ میں جب ابن زیاد نے اپنی گستاخانہ زبان کھولی کہ مثال کے طور پر: ہاں! آپ نے
اب تک یہ بات ہوئی کہ نوجوان کیونکہ stable ہونا چاہتا ہے تو زور زبردستی کے بجائے، اس کی سوچنے کی صلاحیت کو پروان چڑھائیں۔ اگر ہمیں اپنے نوجوان سے کوئی مشکل درپیش ہے یا
کسی بھی کام میں خدا کو نہ بھولیں اور اس وقت تک کسی بھی کام کے سلسلے میں اقدام نہ کریں جب تک یقین نہ ہو کہ وہ کام خدا کی مرضی کے خلاف نہیں
نہیں نہ۔۔! اگر کسی پودے یا پھول میں کوئی مشکل پیش آجائے مثلا کوئی کیڑا لگ گیا ہویا پتہ پیلا پڑ گیا ہو تو مالی اس مشکل کی جڑ کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور
| گمراہی سے نجات دلانا* زیارت اربعین میں ملتا ہے:* انہوں نے اپنے پاک خون کو تیری راہ میں نثار کردیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت کی گمراہی اور حیرت سے نجات مل جائے۔ امام
اہل کوفہ کے نام امام حسین(ع) نے اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا: امام فقط وہی ہے جو صرف کتاب الٰہی کے مطابق حکومت کرے، عدل و انصاف کو قائم کرے، ملک، معاشرے اور قانون کو
روایت ہے کہ جب سید الشہدا علیہ السلام کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا یا اضافہ ہونا شروع ہوا تو امام علیہ السلام کو یقین ہو گیا کہ اب کوئی راہِ نجات نہیں ہے
کیسے؟! کہتی ہیں کہ میرا بچہ نشے میں نہ پڑے، انجینئر بنے، اچھی بیوی ملے، خوش رہے، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ آپ کو کچھ کیوں نہیں چاہیے؟ ایک بلند ہمت ماں کے لئے اچھا
۱- لامسہ۲- سامعہ۳- باصرہ خاص طور پر اپنی بیٹیوں کو ان تین حسوں میں محبت سے مالا مال کریں۔ لامسہ(چھونے کی حس) بیٹیوں والے والدین جانتے ہیں کہ یہ شہزادیاں کبھی بابا کی گود میں