دوسروں سے موازنہ کرنا بچے میں حسد کا باعث بنتا ہے۔
مثال کے طور پر جب آپ اس کا موازنہ دوسروں سے کریںاور کہیں: اپنی خالہ کی بیٹی کو دیکھو جو تم سے ایک سال چھوٹی ہے، اس کا کمرہ ہمیشہ صاف ستھرا رہتا ہے۔ جبکہ
مثال کے طور پر جب آپ اس کا موازنہ دوسروں سے کریںاور کہیں: اپنی خالہ کی بیٹی کو دیکھو جو تم سے ایک سال چھوٹی ہے، اس کا کمرہ ہمیشہ صاف ستھرا رہتا ہے۔ جبکہ
خواتین شہید بناتی ہیں، جس کا اجر شہادت سے دس گنا زیادہ ہے۔ خواتین کو نہ جہاد کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی شہادت کی کہ جس کے زریعے وہ اعلیٰ مقام حاصل کرلیں،
اس کے پاس کتنے زیادہ کھلونے تھے یا اس کے بچپن میں گھر کتنا صاف ستھرا تھا یا گھر کا ڈیکوریشن اب ٹو ڈیٹ تھا یا نہیں اس کے ذہن میں صرف ایک تصویر رہے
ہوشیار ماںنہیں کہتی مت بھاگو سر میز کے کونے پہ لگ جائے گا بلکہ میز پر ایک کمبل ڈال دیتی ہے ہوشیار ماںنہیں کہتی کہ سیڑھیوں سے اوپر نہیں جاؤ، گر جاؤ گے بلکہ اپنے
روزے ہمارے لیے کئی طرح سے صحت بخش فوائد کا حامل ہے، لیکن جیسا کہ ہم ہر چیز کے پیچھے سائنسی تحقیق تلاش کرتے ہیں، بہت سے مطالعات اور تحقیقوں سے بھی اس بات کی
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے شاگرد ''مفضل '' سے فرماتے ہیں: اے مفضل! اگرحیا ء نہ ہوتی تو انسان کبھی مہمان قبو ل نہیں کرتا، اپنے وعدہ کو وفا نہیں کرتا، لوگوں کی
جب انسان عقل و شعور اور رشد فکری کا مرحلہ طے کرتا ہے تو اپنے اور کائنات کی دوسری مخلوقات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور یہ درک کر لیتا ہے کہ
آیت الله العظمی بهجت قدس سرہ: ہم نے دین کو ترک کیا تاکہ اپنی دنیا کو بہتر کرسکیں لیکن جہاں معنویات ہاتھ سے گئیں دنیا بھی اجڑ گئی اور ہر قسم کی خیر و برکت
میرے پیارے بچے! یہ سوال بہت اہم ہے اور اکثر بچوں نے پوچھا ہے۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی بھی نیکی کرتا ہے تو ہم اس کے مقابلے میں کچھ کلمات ادا کرتے ہیں مثلا آپ
ارشاد خداوندی ہے:اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالی