بچوں کے سامنے مت لڑیں
جب والدین بچے کے سامنے لڑتے ہیں، ایک دوسرے پہ چیختے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں،تو بچے کی ساری دنیا ہی الٹ پلٹ ہوجاتی ہے۔ گھبراہٹ، ناامنی اور پریشانی۔۔۔اسٹرس ہارمونز کے اخراج کا سبب بنتا
جب والدین بچے کے سامنے لڑتے ہیں، ایک دوسرے پہ چیختے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں،تو بچے کی ساری دنیا ہی الٹ پلٹ ہوجاتی ہے۔ گھبراہٹ، ناامنی اور پریشانی۔۔۔اسٹرس ہارمونز کے اخراج کا سبب بنتا
خوشحال گھرانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں کسی ایک فرد کی حاکمیت ہو یعنی آخری فیصلہ لینے والا کوئی ایک ہو تاکہ خاندانی نظام تعطل کا شکار نہ ہو۔ البتہ اس کا یہ
ماؤں کی محبت ایسی ہونی چاہئے کہ بچوں میں خودسازی پیدا ہو اور وہ مستعد اور محنتی بن کر نکلیں وگرنہ ماؤں کی بے جا محبت انھیں آرام طلب اور اپنی خواہشات کا غلام بنا
خاندان ایک معاشرے کا سب سے اہم عنصر ہے اسی وجہ سے معاشرے کی ترقی اور تنزلی کا انحصار بھی اسی پر ہے۔ درحقیقت معاشرے کی اساس، نئی نسل کی درس گاہ اور پہلا مدرسہ
کھانا کھانے کا مزہ، میٹھی نیند کا مزہ، کتاب پڑھنے کا مزہ، گھر کے کام کرنے کا مزہ، ورزش کرنے کا مزہ، بات کرنے کا مزہ باہر جانے کا مزہ، خریدنے کا مزہ…. خلاصہ یہ
ماں باپ کے متعلق احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ اولاد کا ان پر سختی کرنا فقہی لحاظ سے حرام ہے۔ چاہے نازیبا الفاظ استعمال کر کے اذیت پہنچائے یا ناشائستہ فعل کے ذریعے
ایک دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ بچوں نے انہیں گھیر لیا کہ ان کے ساتھ کھیلیں۔ حضور پاک نے تھوڑا کھیلا اور اپنے صحابی بلال حبشی کو
اے میرے معبود ! میری اولاد کی بقا اور ان کی اصلاح اور ان سے بہرہ مندی کے سامان مہیا کر کے مجھے ممنون احسان فرما۔اور میرے سہارے کے لیے ان کی عمروں میں برکت
خداوند عالم کی خاص عنایت سے کل سے ایک اور نفسیاتی بیماری کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے
عالم اسلام کے مستقبل سے اہل حق کی بے اعتنائی* دوسرا عامل کہ جس کی وجہ سے یہ حالات پیش آئے اور جسے انسان آئمہ طاہرین کی زندگی میں بھی مشاہدہ کرتا ہے وہ یہ