اگر بچے آپس میں لڑیں تو ان چیزوں کا خیال رکھیں۔
اگر بچے آپس میں لڑیں تو ان چیزوں کا خیال رکھیں۔ جہاں تک ہوسکےان کی ہر چھوٹی لڑائی میں دخالت نہ کریں۔ انہیں خود حل کرنے یا اپنا دفاع کرنے دیں۔ ہاں اگر مار پیٹ
اگر بچے آپس میں لڑیں تو ان چیزوں کا خیال رکھیں۔ جہاں تک ہوسکےان کی ہر چھوٹی لڑائی میں دخالت نہ کریں۔ انہیں خود حل کرنے یا اپنا دفاع کرنے دیں۔ ہاں اگر مار پیٹ
بچوں سے نرمی اور احترام سے بات کرنا بچوں سے سختی سے بات نہ کرنا بلکہ ان کی غلطیوں کو پیار و محبت سے درست کرنا چاہیے۔ جب بچہ کسی جذباتی کیفیت میں ہو تو
چھوٹے بچوں کی لڑائیاں اور ہمارا ردعمل|انفوگرافک س: سات سال سے کم عمر بچوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں پر ہمیں کس طرح کا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے؟بچہ جھگڑالو کیوں ہوتا ہے؟اگر آپ دیکھتے
غلط تربیت، گھر میں بچوں کے حقوق ضائع کرنا ہے بعض گھروں میں بچوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا، بچوں کے حقوق کی پامالی صرف یہ نہیں ہے کہ انسان اُن کے ساتھ
ہم جوائن فیملی میں رہتے ہیں۔ میرا ڈیڑھ سالہ بچہ دوسروں پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ پتہ نہیں کس سے سیکھا ہے۔ کیسے اسے اس کام سے روکیں؟ مارنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ 1️
شرمیلا بچہ (حصہ اول) میرا بیٹا بہت شرمیلا، لوگوں کے درمیان جانے سے گبھراتا اور بہت مشکل سے اپنے احساسات کا اظہار کرتا ہے۔ مجھے اس کے ساتھ کیسا رویہ اپنانا چاہیے۔ کم گوئی کی
کچھ لوگوں کے خوش رہنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں سب کچھ اچھا ہے۔ وہ خوش ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں "اچھی چیزیں" دیکھ سکتے ہیں۔ درحقیقت، کسی کی
بچے کچھ حقائق اور قوانین نہ جاننے کی وجہ سے یا بڑوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کبھی کبھی جھوٹ بولتے ہیں۔ لیکن چھوٹی عمر میں جھوٹ بولنے پر بڑوں کی طرف سے سرزنش
بچوں کے جھوٹ بولنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ تین سے چھے سال کے بچوں کے لیے جھوٹ بولنا ایسے نہیں ہوتا جیسے بڑے سمجھتے ہیں۔ ان کا مقصد کبھی بھی دوسروں کو دھوکہ
شاید آپ سوچیں کہ بچے سے یہ پوچھنا کہ آپ کو دودھ کا فل گلاس چاہیے یا آدھا گلاس؟؟ بہت بے اہمیت بات ہے لیکن ہر چھوٹا انتخاب یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بچہ