بچوں سے مہربانی
بچے مہربانی کو قدرتی امر جانتے ہیں اور اس پر زیادہ دھیان نہیں دیتے لیکن نامہربانی ان کی روح کو ٹھیس پہنچاتی ہے جسے وہ بڑی جلدی اپنے ذہن میں جاگزیں کر لیتے ہیں۔ اس
بچے مہربانی کو قدرتی امر جانتے ہیں اور اس پر زیادہ دھیان نہیں دیتے لیکن نامہربانی ان کی روح کو ٹھیس پہنچاتی ہے جسے وہ بڑی جلدی اپنے ذہن میں جاگزیں کر لیتے ہیں۔ اس
بچوں کے موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال کس نوعیت کا ہونا چاہیے میڈیا سے آگاہی نہ ہونا اور بچے کو سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی قسم کی پابندی کے بغیر آزاد چھوڑ دینا بالکل
جب آپ کا دل کسی اچھے کام کی تمنا کرے تو آپ اس کام کے پیچھے ضرور جائیں اور اسے انجام دیں۔ لیکن جب آپ کا دل کسی برے کام کی تمنا کرے تو اس
اسلام نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے۔ بچوں کی عمر کا ابتدائی حصہ سیکھنے کے عمل میں زیادہ تاثیر گذار شمار ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچے کسی بڑے کے مقابلے
بس اتنا کافی ہے کہ دینی عقائد کی تعلیم سے پہلے، اپنے بچوں کو باادب بنا دیا جائے۔ تب ہم دیکھیں گے کہ مومن اور دین دار بننا ہمارے بچوں کے لئے کتنا آسان اور
بچوں سے مہربانی سے پیش آئیں بچے مہربانی کو فطری عمل سمجھتے ہیں اور اس کی جانب بہت زیادہ توجہ بھی نہیں کرتے لیکن مہربانی نہ کرنے سے ان کی روح متاثر ہوتی ہے اور
حقیقی مومن کی صفات مومن میں جب تک یہ تین صفات نہ پائی جائیں حقیقی مومن نہیں کہلا سکتا: 1️⃣ پردوگار کی سنت 2️⃣ اپنے رسول کی سنت 3️⃣ اپنے امام کی سنت اس کے
دوسروں کا احترام ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا چاہیے کہ وہ ہر چیز کا احترام کریں حتی کلاس میں موجود کرسی کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔ باور کروائیں کہ جب انسان کی ادنی تخلیق کا
والدین کے رویوں کا بچوں پر اثر (1) اگر آپ کا بچہ ضدی ہے ،تو اس کا مطلب ہے آپ سخت مزاج ہیں ، (2) اگر آپ کا بچہ تنہائی پسند ہے ،تو اس کا
صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہم جانتے ہیں کہ انسانی افعال کو ذہن کنٹرول کرتا ہے۔ ہمیں بچے کی ذہنی پرورش کے ذریعے اس کی مختلف امور میں صحیح فیصلہ کرنے کی