بچوں کی خوراک کا تعین
ہم بڑوں کے بارے میں نصیحت کی گئی ہے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ کیا بچوں کے بارے میں بھی یہ بات اسی طرح سے ہے؟ اگر بچوں کے بارے
ہم بڑوں کے بارے میں نصیحت کی گئی ہے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ کیا بچوں کے بارے میں بھی یہ بات اسی طرح سے ہے؟ اگر بچوں کے بارے
بچے کو تربیت کرنے کا صرف اور صرف راستہ وعظ و نصیحت نہیں ہے کیونکہ ابھی تک اس کی شناخت اس سطح تک نہیں پہنچی بلکہ اس کی کہانیوں، ڈرائنگ، گیمز اور مختلف طریقوں کے
ہماری روایات کے مطابق طبیعت اور نیچر، بچوں کی تخلیقی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لہٰذا بچے کو طبیعت کے نظارے دیکھانے لے جایا کریں تا کہ اس کی خلاقیت میں اضافہ ہو۔ یہ
آج کی نفسیات کہتی ہے کہ بچوں کے ساتھ بچہ بن کے رہیں اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ماں یا باپ بچوں کے ساتھ ان ہی کی زبان میں بات کریں جو
جب والدین بچوں کو اس طرح مخاطب کرتے ہیں کہ خاک ہو تمہارے سر پر، تم کچھ نہیں بن سکتے، تم گدھے ہو، تم بدبخت ہو، تم کچھ بھی نہیں کر سکتے لیکن تمہاری خالہ
میری تین سالہ بیٹی ہے اسے کیسے مصروف رکھوں؟ کیا اس عمر کے بچے کو ابھی اسکول بھیجنا صحیح رہے گا؟ اس سوال کے جواب میں ایک مختصر نکتے کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے
ہر سالم اور مفید کھیل جس میں بچہ مشغول ہوتا ہے، وہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے، تھوڑی سی توجہ کرنے سے اس کا بچے کی نفسیاتی و شخصیتی نشوونما میں اہمیت کا
والدین اور اساتذہ کو اس بات کی طرف دھیان دینا چاہیے کہ انعامات صرف اور صرف پیسوں کی صورت میں نہ ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بچہ سوداگر بن جائے اور ہر اچھے کام
ہر سالم اور مفید کھیل جس میں بچہ مشغول ہوتا ہے، وہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے، تھوڑی سی توجہ کرنے سے اس کا بچے کی نفسیاتی و شخصیتی نشوونما میں اہمیت کا
میرا بچہ میری کوئی بات نہیں سنتا اور میری کوئی بات نہیں مانتا۔ میرا سوال ہے کہ میں کیسے اپنے بچے کے لیے رول ماڈل بنوں؟* جواب: والدین کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ