جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے ٹوٹکے
تحریر: سائرہ شاہد سر کی جوئیں خواتین کا ایک عام اور اہم مسئلہ ہے ۔ خاص طور سے اسکول جانے والے بچوں کی مائیں اس کو لے کر کافی پریشان رہتی ہیں ۔ اسکول میں
تحریر: سائرہ شاہد سر کی جوئیں خواتین کا ایک عام اور اہم مسئلہ ہے ۔ خاص طور سے اسکول جانے والے بچوں کی مائیں اس کو لے کر کافی پریشان رہتی ہیں ۔ اسکول میں
صحت خدا کی عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت سے لاپروائی برتنا مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ صحت کی قدر اور اس کی حفاظت ایک مسلمان کا فرض ہے۔ کسی نے بہت پیاری مثال دی کہ
موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ایڑیاں پھٹنے یا اس جگہ کی کھال سخت ہونے کے مسائل کافی عام ہوجاتے ہیں۔آج کے مصروف طرز زندگی کے باعث بیشتر افراد سارا دن چلتے پھرتے گزارتے
باجی! یہ ہمارے امی ابو بھی عجیب ہیں۔۔۔حسّان صاحب مغرب کی نماز پڑھ کر آئے تھے کہ کانوں میں مدہم سی آواز آئی۔ وہ دروازے سے کان لگا کر سننے لگے۔"امی کو دیکھو تو ہر
بچے والدین کی زندگی کا محور ہوتے ہیں جن کی کھلکھلاہٹ گھر کے آنگن کو مہکاتی ہے۔ماں باپ کی زندگی بچوں کے گرد ہی گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ان کا ہنسنا،رونا اور کھلکھلانا زندگی کا
بچے ہمارے گھر کے آنگن میں مہکتے ہوئے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں، جن سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہیں، جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔بچوں کی
حضرت زینب (س) تن تنہا اپنے بھائی امام حسین(ع) کی پوری صلاحیت رکھتی تھیں۔بشیر ابن خزیم کے بقول:’’یوں تقریر کررہی تھیں جیسے حضرت امیر المومنین ؑ کی زبان زلزلہ افگن بول رہی ہو۔ وہ بول
بچے اللہ تعالی کی نعمت ہیں جو اگر نہ ہوں تو انسان ان کی طلب میں کیا کچھ نہیں کرتا اور اگر ہوجائیں اور فرمانبردار نہ ہوں تو بھی انتہائی تکلیف دہ چیز ہے اور
جناب زینب سلام اللہ علیہا کا نماز شب کی پابند ہونے کا اندازہ، امام حسینؑ کے اس فقرہ سے لگایا جا سکتا ہے جو امامؑ نے رخصت ہوتے وقت فرمایا تھا: ’’ يا أختاه لا تنسيني
کربلا ہمارے لئے درسگاہ ہے اس کی ہرچیز ہمارے لئے مشعل راہ ہے،ہر انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت،بوڑھا ہو یا جوان اگر عبرت اور سبق لینے کی غرض سے کربلا کا مطالعہ کرے