جناب زینب ؑاور نماز شب

  Click to listen highlighted text! جناب زینب سلام اللہ علیہا کا نماز شب کی پابند ہونے کا اندازہ، امام حسینؑ کے اس فقرہ سے لگایا جا سکتا ہے جو امامؑ نے رخصت ہوتے وقت فرمایا تھا: ’’ يا أختاه لا تنسيني في نافلة الليل  ‘‘ ( اے بہن مجھے نماز شب میں فراموش نہ کرنا)۔ امامؑ یہ اپنی بہن سے التماس نہیں کر رہے ہیں بلکہ دنیا والوں کو جناب زینب  سلام اللہ علیہا کے عابدۂ شب زندہ دار ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے سلسلہ میں، دختر امام حسینؑ (فاطمہؐ) سے نقل ہوا  کہ انہوں نے فرمایا: اس رات میری پھوپھی استغاثہ میں  مشغول تھیں اور اس رات ہم میں سے کوئی بھی نہیں سویا اور نہ ہی کسی کے نالہ و شیون کی صدا قطع ہوئی۔یہ اس وقت کی بات ہے جب امام حسینؑ زندہ تھے اور آپ سر زمین کربلا پر تھیں لیکن بعد حسینؑ جب  ظالمین آپ کو اسیر کر کے کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام لے جا رہے تھے تو کیا آپ نے نماز شب اور دیگر عبادتوں کو جاری رکھا؟ جی ہاں! ایسے سخت ماحول میں بھی آپ نے اپنے مالک سے راز و نیاز کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا،  جس کی توضیح امام سجادؑ اس طرح دیتے ہیں’’ میری پھوپھی زینب  سلام اللہ علیہا کوفہ و شام کے اس پر مشقت راستہ اور سفر میں اپنی واجب اور مستحب  نمازوں کو بھی کھڑی ہو کر اور کبھی بیٹھ کر پڑھتی تھیں اور یہ کیفیت ان میں بھوک کی بنا پر پید ہوئی تھی کیونکہ تین راتیں ہو چکی تھیں کہ جو کھانا ان کو دیا جاتا تھا، آپ اس کو بچوں کو کھلا دیتی تھیں کیونکہ وہ سنگ دل لوگ ہم کو ہر شب و روز میں ایک روٹی سے زیادہ نہیں دیتے تھے۔”یہ روایات جہاں حضرت زینب  سلام اللہ علیہا کی بندگی و اطاعت کی بلند مثال ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں وہیں ان کے اس عظیم مرتبہ کا بھی پتہ دیتی ہیں، آپ ائمہ ہدی ؑ حضرات کے نزدیک رہتی تھیں جس نے آپ کی نورانی شخصیت میں اور درخشندگی پیدا کر دی ہے۔

جناب زینب سلام اللہ علیہا کا نماز شب کی پابند ہونے کا اندازہ، امام حسینؑ کے اس فقرہ سے لگایا جا سکتا ہے جو امامؑ نے رخصت ہوتے وقت فرمایا تھا: ’’ يا أختاه لا تنسيني في نافلة الليل  ‘‘ ( اے بہن مجھے نماز شب میں فراموش نہ کرنا)۔ امامؑ یہ اپنی بہن سے التماس نہیں کر رہے ہیں بلکہ دنیا والوں کو جناب زینب  سلام اللہ علیہا کے عابدۂ شب زندہ دار ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے سلسلہ میں، دختر امام حسینؑ (فاطمہؐ) سے نقل ہوا  کہ انہوں نے فرمایا: اس رات میری پھوپھی استغاثہ میں  مشغول تھیں اور اس رات ہم میں سے کوئی بھی نہیں سویا اور نہ ہی کسی کے نالہ و شیون کی صدا قطع ہوئی۔یہ اس وقت کی بات ہے جب امام حسینؑ زندہ تھے اور آپ سر زمین کربلا پر تھیں لیکن بعد حسینؑ جب  ظالمین آپ کو اسیر کر کے کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام لے جا رہے تھے تو کیا آپ نے نماز شب اور دیگر عبادتوں کو جاری رکھا؟ جی ہاں! ایسے سخت ماحول میں بھی آپ نے اپنے مالک سے راز و نیاز کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا،  جس کی توضیح امام سجادؑ اس طرح دیتے ہیں’’ میری پھوپھی زینب  سلام اللہ علیہا کوفہ و شام کے اس پر مشقت راستہ اور سفر میں اپنی واجب اور مستحب  نمازوں کو بھی کھڑی ہو کر اور کبھی بیٹھ کر پڑھتی تھیں اور یہ کیفیت ان میں بھوک کی بنا پر پید ہوئی تھی کیونکہ تین راتیں ہو چکی تھیں کہ جو کھانا ان کو دیا جاتا تھا، آپ اس کو بچوں کو کھلا دیتی تھیں کیونکہ وہ سنگ دل لوگ ہم کو ہر شب و روز میں ایک روٹی سے زیادہ نہیں دیتے تھے۔”یہ روایات جہاں حضرت زینب  سلام اللہ علیہا کی بندگی و اطاعت کی بلند مثال ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں وہیں ان کے اس عظیم مرتبہ کا بھی پتہ دیتی ہیں، آپ ائمہ ہدی ؑ حضرات کے نزدیک رہتی تھیں جس نے آپ کی نورانی شخصیت میں اور درخشندگی پیدا کر دی ہے۔