موجودہ دور کے بچے بدتمیز کیوں ہوتے جارہے ہیں؟

  Click to listen highlighted text! بچے اللہ تعالی کی نعمت ہیں جو اگر نہ ہوں تو انسان ان کی طلب میں کیا کچھ نہیں کرتا اور اگر ہوجائیں اور فرمانبردار نہ ہوں تو بھی انتہائی تکلیف دہ چیز ہے اور والدین کے لیے ایسے بچے درد سر بن جاتے ہیں اور انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔نافرمانبرداری کا الزام آج کے دور کے بچوں پر عام لگایا جارہا ہے اور اس الزام کے پیچھے حقیقت بھی ک ±چھ ایسی ہی ہے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے موجودہ دور کے بچے پچھلے عہد کے بچوں سے کہیں زیادہ گستاخ اور نافرمانبراد ہیں اور اس کے پیچھے ماہرین کا کہنا ہے 5 وجوہات ہیں۔ نمبر 1 بچوں کی رشتہ داروں سے دوری آج کے دور کے والدین پسند نہیں کرتے کے کوئی دوسرا ان کے بچوں کو کوئی بات سمجھائے اور اس کی وجہ والدین خودمختار بننا چاہتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا ان کی مدد کرنا چاہے حتی کہ بچے کے دادا دادی اور نانا نانی وغیرہ بھی تو وہ سمجھتے ہیں کے یہ ان کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔پچھلی نسلوں میں یہ چیز موجود تھی کہ وہ جانتے تھے کہ بچے کی تربیت میں رشتے داروں کا بڑا کردار ہوتا ہے چنانچہ وہ بچوں کو دوسرے رشتہ داروں کا ادب بھی سیکھاتے تھے مگر آج کے دور کے بچے رشتہ داروں مثلاً چاچا تایا ماموں وغیرہ کو اہمیت نہیں دیتے اور اگر وہ انہیں کوئی بات سمجھائیں تو بچوں سمیت ان کے والدین بھی ناراض ہوجاتے ہیں اور یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ بچے بڑوں کے ادب سے د ±ور ہوتے جارہے ہیں۔ نمبر 2 بچوں کے نخرے برداشت کیے جارہے ہیں۔ آج کے دور کے بچے اگر کوئی گستاخی کرتے ہیں تو والدین ان کی بدتمیزی کو برداشت کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ابھی بچے ہیں اور جب بڑے ہوں گے تو یہ خودبخود سمجھنے لگ جائیں گے اور یہ ایک غلطی ہے کیونکہ بچے بہت تیزی سے سیکھتے ہیں اور اگر انہیں کسی غلط بات پر ٹوکا نہ جائے تو وہ اس غلطی کو دہرائیں گے اور ان کے اندر یہ بات نہیں آئے گی کہ وہ غلطی کر رہے ہیں لہذا بچوں کو ہر غلط کام پر روکنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ نمبر 3 والدین بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے شارٹ کٹ استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ ہی سال پہلے بچوں کو ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ا ±نہیں کارٹون یا اپنا کوئی پروگرام دیکھنے کے لیے صبح سویرے اٹھنا پڑتا تھا اور شام کو مخصوص وقت پر والدین سے درخواست کر کے اپنا پسندیدہ ٹی وی شو وغیرہ دیکھنا پڑتا تھا مگر آج کے دور کے بچوں کے پاس آئی پوڈز، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ موجود ہیں جن پر وہ بغیر کسی کی اجازت طلب کیے جب چاہے اور جتنی دیر چاہیں اپنے پروگرامز دیکھتے ہیں۔چیزوں کی اس فراوانی کا ایک نقصان یہ ہے کہ بچے جو پہلے چھوٹی عمر میں اجازت لینا سکھتے تھے اب اپنی ع ±مر سے پہلے ان تمام چیزوں پر خود مختار ہو رہے ہیں اور اگر ا ±نہیں کوئی دوسرا بڑا ایسا کرنے سے منع کرتا ہے تو وہ ناراض ہوتے ہیں اور بدتمیزی کرتے ہیں۔ نمبر 4 بچے والدین کی نرمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں موجودہ دور میں والدین بچوں کی ہر بات س ±نتے ہیں اور مانتے ہیں اور بچوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں، بچوں کی رائے کو اہمیت دینا ایک اچھی بات ہے مگر جب ہر کام میں بچے دخل اندازی شروع کریں اور والدین انہیں سختی سے منع نہ کریں تو یہ چیز بچوں کی تربیت پر اثر انداز ہوتی ہے اور انہیں بدتمیز بناتی ہے۔ نمبر 5 والدین کا تمام وقت بچوں کے لیے بچے لاڈ پیار اور والدین کے وقت کے حق دار ہوتے ہیں مگر والدین کو اپنی ذات کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بات بچوں کو سمجھانا بہت ضروری ہے کہ والدین کی بچوں کے علاوہ بھی اپنی زندگی ہے جہاں ان کو وقت دینا بہت ضروری ہے اور والدین کی اس زندگی میں دخل اندازی کرنا بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے، مثال کے طور پر والد اگر گھر سے کہیں کام جارہا ہے تو عام طور پر بچے موٹر سائیکل یا گاڑی پر اس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں اور وہ اس کام کے لیے ضد کرتے ہیں ایسے موقع پر والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ادب سیکھائیں اور انہیں بتائیں کے کہ ضروری نہیں ہے کہ بچے ہر جگہ والدین کے ساتھ جائیں۔

بچے اللہ تعالی کی نعمت ہیں جو اگر نہ ہوں تو انسان ان کی طلب میں کیا کچھ نہیں کرتا اور اگر ہوجائیں اور فرمانبردار نہ ہوں تو بھی انتہائی تکلیف دہ چیز ہے اور والدین کے لیے ایسے بچے درد سر بن جاتے ہیں اور انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔نافرمانبرداری کا الزام آج کے دور کے بچوں پر عام لگایا جارہا ہے اور اس الزام کے پیچھے حقیقت بھی ک ±چھ ایسی ہی ہے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے موجودہ دور کے بچے پچھلے عہد کے بچوں سے کہیں زیادہ گستاخ اور نافرمانبراد ہیں اور اس کے پیچھے ماہرین کا کہنا ہے 5 وجوہات ہیں۔
نمبر 1 بچوں کی رشتہ داروں سے دوری
آج کے دور کے والدین پسند نہیں کرتے کے کوئی دوسرا ان کے بچوں کو کوئی بات سمجھائے اور اس کی وجہ والدین خودمختار بننا چاہتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا ان کی مدد کرنا چاہے حتی کہ بچے کے دادا دادی اور نانا نانی وغیرہ بھی تو وہ سمجھتے ہیں کے یہ ان کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔پچھلی نسلوں میں یہ چیز موجود تھی کہ وہ جانتے تھے کہ بچے کی تربیت میں رشتے داروں کا بڑا کردار ہوتا ہے چنانچہ وہ بچوں کو دوسرے رشتہ داروں کا ادب بھی سیکھاتے تھے مگر آج کے دور کے بچے رشتہ داروں مثلاً چاچا تایا ماموں وغیرہ کو اہمیت نہیں دیتے اور اگر وہ انہیں کوئی بات سمجھائیں تو بچوں سمیت ان کے والدین بھی ناراض ہوجاتے ہیں اور یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ بچے بڑوں کے ادب سے د ±ور ہوتے جارہے ہیں۔
نمبر 2 بچوں کے نخرے برداشت کیے جارہے ہیں۔
آج کے دور کے بچے اگر کوئی گستاخی کرتے ہیں تو والدین ان کی بدتمیزی کو برداشت کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ابھی بچے ہیں اور جب بڑے ہوں گے تو یہ خودبخود سمجھنے لگ جائیں گے اور یہ ایک غلطی ہے کیونکہ بچے بہت تیزی سے سیکھتے ہیں اور اگر انہیں کسی غلط بات پر ٹوکا نہ جائے تو وہ اس غلطی کو دہرائیں گے اور ان کے اندر یہ بات نہیں آئے گی کہ وہ غلطی کر رہے ہیں لہذا بچوں کو ہر غلط کام پر روکنا بہت زیادہ ضروری ہے۔
نمبر 3 والدین بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے شارٹ کٹ استعمال کر رہے ہیں۔
کچھ ہی سال پہلے بچوں کو ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ا ±نہیں کارٹون یا اپنا کوئی پروگرام دیکھنے کے لیے صبح سویرے اٹھنا پڑتا تھا اور شام کو مخصوص وقت پر والدین سے درخواست کر کے اپنا پسندیدہ ٹی وی شو وغیرہ دیکھنا پڑتا تھا مگر آج کے دور کے بچوں کے پاس آئی پوڈز، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ موجود ہیں جن پر وہ بغیر کسی کی اجازت طلب کیے جب چاہے اور جتنی دیر چاہیں اپنے پروگرامز دیکھتے ہیں۔چیزوں کی اس فراوانی کا ایک نقصان یہ ہے کہ بچے جو پہلے چھوٹی عمر میں اجازت لینا سکھتے تھے اب اپنی ع ±مر سے پہلے ان تمام چیزوں پر خود مختار ہو رہے ہیں اور اگر ا ±نہیں کوئی دوسرا بڑا ایسا کرنے سے منع کرتا ہے تو وہ ناراض ہوتے ہیں اور بدتمیزی کرتے ہیں۔
نمبر 4 بچے والدین کی نرمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں
موجودہ دور میں والدین بچوں کی ہر بات س ±نتے ہیں اور مانتے ہیں اور بچوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں، بچوں کی رائے کو اہمیت دینا ایک اچھی بات ہے مگر جب ہر کام میں بچے دخل اندازی شروع کریں اور والدین انہیں سختی سے منع نہ کریں تو یہ چیز بچوں کی تربیت پر اثر انداز ہوتی ہے اور انہیں بدتمیز بناتی ہے۔
نمبر 5 والدین کا تمام وقت بچوں کے لیے
بچے لاڈ پیار اور والدین کے وقت کے حق دار ہوتے ہیں مگر والدین کو اپنی ذات کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بات بچوں کو سمجھانا بہت ضروری ہے کہ والدین کی بچوں کے علاوہ بھی اپنی زندگی ہے جہاں ان کو وقت دینا بہت ضروری ہے اور والدین کی اس زندگی میں دخل اندازی کرنا بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے، مثال کے طور پر والد اگر گھر سے کہیں کام جارہا ہے تو عام طور پر بچے موٹر سائیکل یا گاڑی پر اس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں اور وہ اس کام کے لیے ضد کرتے ہیں ایسے موقع پر والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ادب سیکھائیں اور انہیں بتائیں کے کہ ضروری نہیں ہے کہ بچے ہر جگہ والدین کے ساتھ جائیں۔