حضرت زینب ؑ کا کردار و عمل

  Click to listen highlighted text! حضرت زینب (س) تن تنہا اپنے بھائی امام حسین(ع) کی پوری صلاحیت رکھتی تھیں۔بشیر ابن خزیم کے بقول:’’یوں تقریر کررہی تھیں جیسے حضرت امیر المومنین ؑ کی زبان زلزلہ افگن بول رہی ہو۔ وہ بول رہی تھیں اور لوگوں کی سانس سینوں میں رک رہی تھی۔ خطبہ سننے والے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے۔ خدا کی قسم ! زندگی میں ایسی فصاحت و بلاغت اور قدرت سخن رکھنے والی خاتون نہ دیکھی نہ سنی۔”زینب ؑ اپنے بھائی کے فلسفے اور امام زین العابدین ؑ کے مشورے سے اسیروں کے قافلے کا طریق کار معین کرتی تھیں وہی ہر منزل پر تبلیغ کی خدمت انجام دیتی تھیں ظلم کی مذمت کرتیں شہادت کو سرمایہ افتخار بتاتی تھیں دشمن کی بدکرداری و ذلت و حقارت کو عیاں فرماتی تھیں ، دوسری خواتین کی کارکردگی پر نظر رکھتی تھیں۔بیمار امام ؑ کی دیکھ بھال بھی حضرت زینب ؑ کا کام تھا۔ امام زین العابدین ؑ کربلا سے بیمار چلے، راستے کی اذیتوں نے اور نڈھال کر دیا تھا۔حضرت زینب ؑ ان کی تیمارداری کے ساتھ ساتھ متوقع خطرات سے حفاظت کا بھی خیال رکھتی تھیں ۔شام کے جس کھنڈر میں قیدی رکھے گئے تھے، ایک دن امام ؑ کے چاہنے والے ’’منہال‘‘ کسی طرح پہنچ گئے اور امام ؑ سے باتیں کرنے لگے۔بی بی زینب ؑ نے محسوس کیا کہ اگر دشمن نے دیکھ لیا تو نقصان پہنچائے گا۔ شہزادی نے آگے بڑھ کر احتیاط سے بھتیجے کو اٹھایا اور کونے میں لاکر بٹھا دیا۔ دشمن کی نظر سے دور۔قید خانہکربلا کے قیدی شام کے ایسے زندان میں رکھے گئے جو کھنڈر تھا۔ نہ دن کی دھوپ نہ رات کی ہوا، خستہ و بوسیدہ درودیوار ، قصر یزید سے قریب ایسے کھنڈر میں قید کرنے کا مقصد اسیروں کی نفسیات کو متاثر کرنا تھا تاکہ انہیں اپنی بے بسی اور یزید کے اقتدار کا یقین ہو جائے۔دربار یزیدقیدی کچھ دن کھنڈر میں رہے اور خادمان دربار نے اجلاس کی تیاریاں کرلیں ۔ دولت مند شہری، متعدد سفرا، غیر ملکی مہمان اور فوجی وغیر فوجی ملازمین کے نام دعوت نامے بھیجے گئے۔ مقرر دن اور معین وقت پر جاہ و جلال کا مظاہرہ ہوا، دربار آراستہ یزیدکرسی پر حشم و خدم دائیں بائیں ۔آل رسولؐ بحال تباہ ، قیدیوں کی حالت میں رسن بستہ، یتیم بچے اور بچیاں ، رسول اللہؐ کی نواسیاں زنجیروں میں جکڑی ہوئی، امام زین العابدین ؑ دربار میں طلب ہوئے۔ان لوگوں نے ناپسندیدگی کا اظہار اور نہ جانے پراصرار کرکے اپنی خودداری ثابت کی۔ مگر دربار میں انہیں بھی ایک پیام دینا تھا ظالم زبردستی لے گئے۔یزید مست و مغرور، تخت پر، اور سرامام حسین ؑ طشت طلا میں سامنے رکھا تھا قیدی سامنے کھڑے تھے ۔ ایک نوکرآل رسولؐ کا تعارف کرارہا تھا۔امام زین العابدین ؑ نے پہل کی:’’یزید! تیرا خیال کیا ہے، اگر رسول اللہؐ ہمیں اس حال میں دیکھ لیں تو کیا ہو؟‘‘یزید شرمندہ ہوگیا قیدیوں کی رسیاں کھل گئیں ۔خاتون معظم، قائد قافلہ احرار، حامل اسرار شہادت، بی بی زینب ؑ نے گفتگو شروع کی اور شرم آفرین حقائق کی طرف حاضرین کی توجہ مبذول کرائی:’’تیرا خیال ہے کہ زمین و آسمان کے راستے تو نے ہم پر بند کردیئے؟ فرعونیت و غرور کے عالم میں فتح کی خوشیاں منا رہا ہے؟ یہ عدل و انصاف ہے کہ اپنی خواتین کو حرم سرا کی چار دیواری اور پردے میں رکھا ہے اور دختران پیغمبرؐ کو اس حالت میں سردربار کھڑا کیا ہے؟ جس نے ہمارے شہیدوں کے کلیجے چبائے ہوں اس سے اور کیا امید رکھی جاسکتی ہے؟ تو اپنے اس کام کو صحیح اور آبرو مندانہ سمجھتا ہے؟‘‘خاتون معظم کے خطبے اور جواب طلبی نے یزید کے حواس اڑا دیئے ۔ مسرتوں کو خاک میں ملا دیا۔ ستم گری کی مستی اور فتح و پیروزی کا نشہ ہرن ہوگیا۔خطبہ سن کر یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ بولنے والی داغداردل اور سوگوار فکر سے بول رہی ہے۔ لہجہ کی گرج اور بولوں کا زور بتا رہا ہے کہ خطیبہ کرب سے آزاد ہو کر ایک بامقصد پیام لوگوں تک پہنچا رہی ہے۔سفر شام کا نتیجہقیدیوں کا شام لے جایا جانا، یزید کی برتری و مسرت کی بجائے اس کی زیادہ سے زیادہ رسوائی اور بدنامی کا سبب ہوا۔شامی عوام تقریباً چالیس سال سے اہلبیت رسولؐ کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار تھے حضرت علی ؑ اور ان کی اولاد کو برا بھلا کہنا اور سمجھنا عام تھا خود کلمہ گو ہونے کے باوجود، انہیں غیر مسلم سمجھتے تھے۔ وہ قنوت میں ان پر تبرا کیا کرتے تھے۔یہ لمحہ ان کی خوشی کا تھا کہ ایسے شخص کا بیٹا مارا گیا ، خاندان قید ہوا، لیکن کچھ عرصے سے ان کی آنکھیں کھل رہی تھیں ان قیدیوں کے بارے میں ان کے خیالات بدل رہے تھے۔بنی امیہ کا پروپیگنڈا بالکل جھوٹ اور قطعی طور پر غلط ثابت ہورہا تھا۔ابھی وہ کچھ اور جاننا چاہتے تھے:صورتحال یزید کے لئے خطرناک تھی، سلطنت کی بنیاد ہل رہی تھی، خود اس کے گھر کے اندر کھلبلی کے آثار تھے۔ اس نے صلاح دید کے بعد اسیروں کو شام سے رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔بہتر یہی سمجھا کہ معافی کا اعلان کرکے سب کو مدینے واپس کردے اسی سوچ بچار میں عرصہ گزر گیا۔حالات بگڑ گئے۔ گھر کے افراد مخالف ہوگئے، اس کی سرزنش ہونے لگی اس کے کرتوت کو غیر شریفانہ قرار دیا گیا۔احتجاج ہونے لگا۔اس بنا پر خاندان امام حسین ؑ کی اسیری یزید کو مہنگی پڑی۔ ایسے آثار نظر آنے لگے جو مستقبل قریب میں انقلاب کی خبر دے رہے تھے۔یزید نے اس منصوبے سے میٹھا پھل اور خوشبودار پھول توڑنے کے بجائے اپنے سر پر عذاب مول لے لیا۔یزید نے اہلبیت ؑ کو مدینے واپس بھیجنے کا حکم شرمندگی یا رحم دلی کی وجہ سے نہیں دیا بلکہ اس کا بڑا سبب خود اپنی جان بچانے اور حکومت سے دل سوزی کی بنا پر تھا۔ ReplyReply allForward

حضرت زینب (س) تن تنہا اپنے بھائی امام حسین(ع) کی پوری صلاحیت رکھتی تھیں۔بشیر ابن خزیم کے بقول:’’یوں تقریر کررہی تھیں جیسے حضرت امیر المومنین ؑ کی زبان زلزلہ افگن بول رہی ہو۔ وہ بول رہی تھیں اور لوگوں کی سانس سینوں میں رک رہی تھی۔ خطبہ سننے والے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے۔ خدا کی قسم ! زندگی میں ایسی فصاحت و بلاغت اور قدرت سخن رکھنے والی خاتون نہ دیکھی نہ سنی۔”زینب ؑ اپنے بھائی کے فلسفے اور امام زین العابدین ؑ کے مشورے سے اسیروں کے قافلے کا طریق کار معین کرتی تھیں وہی ہر منزل پر تبلیغ کی خدمت انجام دیتی تھیں ظلم کی مذمت کرتیں شہادت کو سرمایہ افتخار بتاتی تھیں دشمن کی بدکرداری و ذلت و حقارت کو عیاں فرماتی تھیں ، دوسری خواتین کی کارکردگی پر نظر رکھتی تھیں۔بیمار امام ؑ کی دیکھ بھال بھی حضرت زینب ؑ کا کام تھا۔ امام زین العابدین ؑ کربلا سے بیمار چلے، راستے کی اذیتوں نے اور نڈھال کر دیا تھا۔حضرت زینب ؑ ان کی تیمارداری کے ساتھ ساتھ متوقع خطرات سے حفاظت کا بھی خیال رکھتی تھیں ۔شام کے جس کھنڈر میں قیدی رکھے گئے تھے، ایک دن امام ؑ کے چاہنے والے ’’منہال‘‘ کسی طرح پہنچ گئے اور امام ؑ سے باتیں کرنے لگے۔بی بی زینب ؑ نے محسوس کیا کہ اگر دشمن نے دیکھ لیا تو نقصان پہنچائے گا۔ شہزادی نے آگے بڑھ کر احتیاط سے بھتیجے کو اٹھایا اور کونے میں لاکر بٹھا دیا۔ دشمن کی نظر سے دور۔قید خانہکربلا کے قیدی شام کے ایسے زندان میں رکھے گئے جو کھنڈر تھا۔ نہ دن کی دھوپ نہ رات کی ہوا، خستہ و بوسیدہ درودیوار ، قصر یزید سے قریب ایسے کھنڈر میں قید کرنے کا مقصد اسیروں کی نفسیات کو متاثر کرنا تھا تاکہ انہیں اپنی بے بسی اور یزید کے اقتدار کا یقین ہو جائے۔دربار یزیدقیدی کچھ دن کھنڈر میں رہے اور خادمان دربار نے اجلاس کی تیاریاں کرلیں ۔ دولت مند شہری، متعدد سفرا، غیر ملکی مہمان اور فوجی وغیر فوجی ملازمین کے نام دعوت نامے بھیجے گئے۔ مقرر دن اور معین وقت پر جاہ و جلال کا مظاہرہ ہوا، دربار آراستہ یزیدکرسی پر حشم و خدم دائیں بائیں ۔آل رسولؐ بحال تباہ ، قیدیوں کی حالت میں رسن بستہ، یتیم بچے اور بچیاں ، رسول اللہؐ کی نواسیاں زنجیروں میں جکڑی ہوئی، امام زین العابدین ؑ دربار میں طلب ہوئے۔ان لوگوں نے ناپسندیدگی کا اظہار اور نہ جانے پراصرار کرکے اپنی خودداری ثابت کی۔ مگر دربار میں انہیں بھی ایک پیام دینا تھا ظالم زبردستی لے گئے۔یزید مست و مغرور، تخت پر، اور سرامام حسین ؑ طشت طلا میں سامنے رکھا تھا قیدی سامنے کھڑے تھے ۔ ایک نوکرآل رسولؐ کا تعارف کرارہا تھا۔امام زین العابدین ؑ نے پہل کی:’’یزید! تیرا خیال کیا ہے، اگر رسول اللہؐ ہمیں اس حال میں دیکھ لیں تو کیا ہو؟‘‘یزید شرمندہ ہوگیا قیدیوں کی رسیاں کھل گئیں ۔خاتون معظم، قائد قافلہ احرار، حامل اسرار شہادت، بی بی زینب ؑ نے گفتگو شروع کی اور شرم آفرین حقائق کی طرف حاضرین کی توجہ مبذول کرائی:’’تیرا خیال ہے کہ زمین و آسمان کے راستے تو نے ہم پر بند کردیئے؟ فرعونیت و غرور کے عالم میں فتح کی خوشیاں منا رہا ہے؟ یہ عدل و انصاف ہے کہ اپنی خواتین کو حرم سرا کی چار دیواری اور پردے میں رکھا ہے اور دختران پیغمبرؐ کو اس حالت میں سردربار کھڑا کیا ہے؟ جس نے ہمارے شہیدوں کے کلیجے چبائے ہوں اس سے اور کیا امید رکھی جاسکتی ہے؟ تو اپنے اس کام کو صحیح اور آبرو مندانہ سمجھتا ہے؟‘‘خاتون معظم کے خطبے اور جواب طلبی نے یزید کے حواس اڑا دیئے ۔ مسرتوں کو خاک میں ملا دیا۔ ستم گری کی مستی اور فتح و پیروزی کا نشہ ہرن ہوگیا۔خطبہ سن کر یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ بولنے والی داغداردل اور سوگوار فکر سے بول رہی ہے۔ لہجہ کی گرج اور بولوں کا زور بتا رہا ہے کہ خطیبہ کرب سے آزاد ہو کر ایک بامقصد پیام لوگوں تک پہنچا رہی ہے۔سفر شام کا نتیجہقیدیوں کا شام لے جایا جانا، یزید کی برتری و مسرت کی بجائے اس کی زیادہ سے زیادہ رسوائی اور بدنامی کا سبب ہوا۔شامی عوام تقریباً چالیس سال سے اہلبیت رسولؐ کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار تھے حضرت علی ؑ اور ان کی اولاد کو برا بھلا کہنا اور سمجھنا عام تھا خود کلمہ گو ہونے کے باوجود، انہیں غیر مسلم سمجھتے تھے۔ وہ قنوت میں ان پر تبرا کیا کرتے تھے۔یہ لمحہ ان کی خوشی کا تھا کہ ایسے شخص کا بیٹا مارا گیا ، خاندان قید ہوا، لیکن کچھ عرصے سے ان کی آنکھیں کھل رہی تھیں ان قیدیوں کے بارے میں ان کے خیالات بدل رہے تھے۔بنی امیہ کا پروپیگنڈا بالکل جھوٹ اور قطعی طور پر غلط ثابت ہورہا تھا۔ابھی وہ کچھ اور جاننا چاہتے تھے:صورتحال یزید کے لئے خطرناک تھی، سلطنت کی بنیاد ہل رہی تھی، خود اس کے گھر کے اندر کھلبلی کے آثار تھے۔ اس نے صلاح دید کے بعد اسیروں کو شام سے رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔بہتر یہی سمجھا کہ معافی کا اعلان کرکے سب کو مدینے واپس کردے اسی سوچ بچار میں عرصہ گزر گیا۔حالات بگڑ گئے۔ گھر کے افراد مخالف ہوگئے، اس کی سرزنش ہونے لگی اس کے کرتوت کو غیر شریفانہ قرار دیا گیا۔احتجاج ہونے لگا۔اس بنا پر خاندان امام حسین ؑ کی اسیری یزید کو مہنگی پڑی۔ ایسے آثار نظر آنے لگے جو مستقبل قریب میں انقلاب کی خبر دے رہے تھے۔یزید نے اس منصوبے سے میٹھا پھل اور خوشبودار پھول توڑنے کے بجائے اپنے سر پر عذاب مول لے لیا۔یزید نے اہلبیت ؑ کو مدینے واپس بھیجنے کا حکم شرمندگی یا رحم دلی کی وجہ سے نہیں دیا بلکہ اس کا بڑا سبب خود اپنی جان بچانے اور حکومت سے دل سوزی کی بنا پر تھا۔

ReplyReply allForward