اولاد کی تربیت

  Click to listen highlighted text! باجی! یہ ہمارے امی ابو بھی عجیب ہیں۔۔۔حسّان صاحب مغرب کی نماز پڑھ کر آئے تھے کہ کانوں میں مدہم سی آواز آئی۔ وہ دروازے سے کان لگا کر سننے لگے۔“امی کو دیکھو تو ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔ کہیں جانے نہیں دیتیں۔ ابو بھی بس ہر وقت نماز پڑھو، برے لڑکوں سے دوستی نہ رکھو، باہر نہ جاو ¿۔ ہر وقت نصیحتیں ہی کرتے رہتے ہیں۔ آج اجمل کی سالگرہ تھی۔ امی نے جانے کی اجازت نہیں دی۔ میں بھی بتائے بغیر چلا گیا۔ سچ باجی کیا بتاو ¿ں، کتنا مزہ آیا۔ مزے مزے کی کھانے کی چیزیں، رنگ برنگے غبارے۔ اور اجمل کو اتنے ڈھیر سارے تحفے بھی ملے۔ بہت مزہ آیا۔”“ہوں! تم تو پھر چلے گئے۔ نرجس اپنی سالگرہ پر مجھ سے اتنا اصرار کر رہی تھی مگر امی نے نہیں جانے دیا۔” باجی نے بھی اپنا دکھ بیان کیا۔“ہائے کاش ہماری بھی سالگرہ ہو۔ کتنا مزہ آئے۔”دونوں نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ ان کی اس حسرت نے ابو کو کچھ سوچنے پرمجبور کر دیا۔ بالآخر انھوں نے ایک فیصلہ کر ہی لیا۔دوسرے دن امی بچوں کو جگانے آئیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ عفیفہ جائے نماز پر کھڑی تھی اور قاسم ابو کے ساتھ خوشی خوشی مسجد جا رہا تھا۔ کہاں انہیں کھینچ کھینچ کر نماز کے لئے اٹھانا اور کہاں یہ خوشگوار تبدیلی۔ انہوں نے محبت سے بچوں کے منہ چوم لئے۔اب تو یہ روز کامعمول بن گیا۔ بچے پابندی سے نمازیں ادا کرتے۔ شام کو حسّان صاحب بھی بچوں کو کافی ٹائم دیتے تھے۔ انکے ساتھ باتیں کرتے، گیمز کھیلتے، سیر کے لیے لے جاتے۔ ہوم ورک میں مدد کرتے۔ بچوں کو جب گھر میں بھرپور توجہ ملی تو روز روز باہر دوستوں کے ساتھ جانے کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔ امی تو بچوں اور شوہر میں یہ تبدیلی دیکھ کر شکر کرتے کرتے نہ تھکتی تھیں۔ حالانکہ اس تبدیلی کی وجہ وہ ابھی تک سمجھ نہ پائی تھیں۔ اسی طرح ایک سال گزر گیا۔“تم ذرا سب کو فون کر دینا کہ ہفتہ کو بچوں کی سالگرہ ہے۔ سب دوستوں اور کزنز نے آنا ہے۔”حسّان صاحب کی بات نے بیگم کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ وہ تو ایسی رسموں کے سخت خلاف تھے۔گھر خوب سجا ہوا تھا۔ امی نے کھانے پینے کی مزے مزے کی ڈھیر ساری چیزیں بنائی تھیں۔ تحفے اور مبارکباد وصول کرتے وقت قاسم اور عفیفہ کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔تقریب کے اختتام پر حسان صاحب نے مہمانوں کی حیرت دور کرتے ہوئے کہا.. “آپ سب حیران ہیں کہ سالگرہ کی تقریب اور وہ بھی میرے گھر میں۔ آپکی حیرت بجا ہے مگر یہ سالگرہ کی تقریب اس خوشی میں منعقد کی گئی ہے کہ آٹھ سالہ قاسم اور دس سالہ عفیفہ نے پورا سال باقاعدگی سے نماز پڑھی۔ پہلے انکی والدہ پریشان رہتی تھیں کہ بچے وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ بچے بھی ہر وقت کی نصیحتوں سے چڑ گئے تھے۔ لہٰذا میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر سال بھر پابندی سے نماز پڑھیں اور سالگرہ کا خرچ اپنی جیب سے ادا کریں تو انکی خواہش پوری کی جائے گی۔اس مقصد کے لئے دن بھر کی نمازوں کا حساب رکھا جاتا۔ پانچ نمازوں کے روزانہ دس روپے ملتے اور نماز قضا ہونے پر دس روپے کاٹ لیتا۔ اس طرح عفیفہ نے 2850 اور قاسم نے 2770 روپے حاصل کئے۔”انہوں نے انعام کی رقم بچوں کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے وضاحت کی۔ “تو یہ سالگرہ نہیں ‘ بچوں کی تربیت کا پہلا سالانہ اجلاس ہے۔ اگلے سال جو ایک نماز بھی قضا نہیں کرے گا، اسے خصوصی انعام دیا جائے گا اور اصل انعام تو اللہ پاک کی طرف سے دیا جائے گا۔ اس مرتبہ جو قضا نمازوں کے پیسے کٹے ہیں، وہ آپکی طرف سے صدقہ کر دیئے جائیں گے۔ بولو منظور؟”بچے فوراً بولے: “اس بار منظور، اگلی بار نامنظور…… کیونکہ اگلی بار ان شاءاللہ نماز قضا نہیں ہو گی !!” ReplyReply allForward

باجی! یہ ہمارے امی ابو بھی عجیب ہیں۔۔۔
حسّان صاحب مغرب کی نماز پڑھ کر آئے تھے کہ کانوں میں مدہم سی آواز آئی۔ وہ دروازے سے کان لگا کر سننے لگے۔
“امی کو دیکھو تو ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔ کہیں جانے نہیں دیتیں۔ ابو بھی بس ہر وقت نماز پڑھو، برے لڑکوں سے دوستی نہ رکھو، باہر نہ جاو ¿۔ ہر وقت نصیحتیں ہی کرتے رہتے ہیں۔ آج اجمل کی سالگرہ تھی۔ امی نے جانے کی اجازت نہیں دی۔ میں بھی بتائے بغیر چلا گیا۔ سچ باجی کیا بتاو ¿ں، کتنا مزہ آیا۔ مزے مزے کی کھانے کی چیزیں، رنگ برنگے غبارے۔ اور اجمل کو اتنے ڈھیر سارے تحفے بھی ملے۔ بہت مزہ آیا۔”
“ہوں! تم تو پھر چلے گئے۔ نرجس اپنی سالگرہ پر مجھ سے اتنا اصرار کر رہی تھی مگر امی نے نہیں جانے دیا۔” باجی نے بھی اپنا دکھ بیان کیا۔
“ہائے کاش ہماری بھی سالگرہ ہو۔ کتنا مزہ آئے۔”
دونوں نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ ان کی اس حسرت نے ابو کو کچھ سوچنے پرمجبور کر دیا۔ بالآخر انھوں نے ایک فیصلہ کر ہی لیا۔
دوسرے دن امی بچوں کو جگانے آئیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ عفیفہ جائے نماز پر کھڑی تھی اور قاسم ابو کے ساتھ خوشی خوشی مسجد جا رہا تھا۔ کہاں انہیں کھینچ کھینچ کر نماز کے لئے اٹھانا اور کہاں یہ خوشگوار تبدیلی۔ انہوں نے محبت سے بچوں کے منہ چوم لئے۔
اب تو یہ روز کامعمول بن گیا۔ بچے پابندی سے نمازیں ادا کرتے۔ شام کو حسّان صاحب بھی بچوں کو کافی ٹائم دیتے تھے۔ انکے ساتھ باتیں کرتے، گیمز کھیلتے، سیر کے لیے لے جاتے۔ ہوم ورک میں مدد کرتے۔ بچوں کو جب گھر میں بھرپور توجہ ملی تو روز روز باہر دوستوں کے ساتھ جانے کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔ امی تو بچوں اور شوہر میں یہ تبدیلی دیکھ کر شکر کرتے کرتے نہ تھکتی تھیں۔ حالانکہ اس تبدیلی کی وجہ وہ ابھی تک سمجھ نہ پائی تھیں۔ اسی طرح ایک سال گزر گیا۔
“تم ذرا سب کو فون کر دینا کہ ہفتہ کو بچوں کی سالگرہ ہے۔ سب دوستوں اور کزنز نے آنا ہے۔”
حسّان صاحب کی بات نے بیگم کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ وہ تو ایسی رسموں کے سخت خلاف تھے۔
گھر خوب سجا ہوا تھا۔ امی نے کھانے پینے کی مزے مزے کی ڈھیر ساری چیزیں بنائی تھیں۔ تحفے اور مبارکباد وصول کرتے وقت قاسم اور عفیفہ کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔
تقریب کے اختتام پر حسان صاحب نے مہمانوں کی حیرت دور کرتے ہوئے کہا.. “آپ سب حیران ہیں کہ سالگرہ کی تقریب اور وہ بھی میرے گھر میں۔ آپکی حیرت بجا ہے مگر یہ سالگرہ کی تقریب اس خوشی میں منعقد کی گئی ہے کہ آٹھ سالہ قاسم اور دس سالہ عفیفہ نے پورا سال باقاعدگی سے نماز پڑھی۔ پہلے انکی والدہ پریشان رہتی تھیں کہ بچے وقت پر نماز ادا نہیں کرتے۔ بچے بھی ہر وقت کی نصیحتوں سے چڑ گئے تھے۔ لہٰذا میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر سال بھر پابندی سے نماز پڑھیں اور سالگرہ کا خرچ اپنی جیب سے ادا کریں تو انکی خواہش پوری کی جائے گی۔
اس مقصد کے لئے دن بھر کی نمازوں کا حساب رکھا جاتا۔ پانچ نمازوں کے روزانہ دس روپے ملتے اور نماز قضا ہونے پر دس روپے کاٹ لیتا۔ اس طرح عفیفہ نے 2850 اور قاسم نے 2770 روپے حاصل کئے۔”انہوں نے انعام کی رقم بچوں کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے وضاحت کی۔ “تو یہ سالگرہ نہیں ‘ بچوں کی تربیت کا پہلا سالانہ اجلاس ہے۔ اگلے سال جو ایک نماز بھی قضا نہیں کرے گا، اسے خصوصی انعام دیا جائے گا اور اصل انعام تو اللہ پاک کی طرف سے دیا جائے گا۔ اس مرتبہ جو قضا نمازوں کے پیسے کٹے ہیں، وہ آپکی طرف سے صدقہ کر دیئے جائیں گے۔ بولو منظور؟”
بچے فوراً بولے: “اس بار منظور، اگلی بار نامنظور…… کیونکہ اگلی بار ان شاءاللہ نماز قضا نہیں ہو گی !!”

ReplyReply allForward