صحت ایک عظیم نعمت

  Click to listen highlighted text!  صحت خدا کی عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت سے لاپروائی برتنا مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ صحت کی قدر اور اس کی حفاظت ایک مسلمان کا فرض ہے۔ کسی نے بہت پیاری مثال دی کہ ’’جس طرح حقیر دیمک بڑے بڑے کتب خانوں کو چاٹ کر تباہ کرڈالتی ہے، اسی طرح صحت کے معاملے میں معمولی سی غفلت بھی حقیر سی بیماری کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔‘‘انسانی صحت کے تقاضوں سے غفلت برتنا اور اس کی حفاظت میں کوتاہی کرنا بے حسی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری بھی۔ایک عظیم مفکر صحت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’انسانی زندگی کا اصل جوہر عقل و اخلاق اور ایمان و شعور ہے۔ اور عقل و اخلاق اور ایمان و شعور کی صحت کا دارومدار بھی بڑی حد تک جسمانی صحت پر ہے۔ عقل و دماغ کی نشوونما، فضائلِ اخلاق کے تقاضے اور دینی فرائض کو ادا کرنے کے لیے جسمانی صحت بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘چونکہ بحیثیت خواتین ہم سب کی ذمے داری گھر کے ایک تنکے کو اٹھانے سے لے کر گھر کے پہاڑ نما کام سرانجام دینے کی ہوتی ہے اس لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم خواتین اپنی صحت کا خیال بہت زیادہ رکھیں۔صحت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے سب سے بنیادی چیز اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا کہ اس نے ہمیں مکمل صحت یابی سے نوازا ہے۔ اس پر جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے گھروں اور اسپتالوں میں کیسی کیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بس جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ اسی میں عافیت ہے اور عافیت میں صحت ہے۔ دوسری چیز ہے سحر خیزی، اس کی عادت ڈالیں۔ خود بھی صبح جلد اٹھیں، رات جلد سوئیں اور بچوں کو بھی جلد سونے اور جلد اٹھنے کی عادت ڈالیں۔ آج کل اس کے بالکل برعکس ہورہا ہے۔ بچے ساری ساری رات انٹرنیٹ، موبائل فون اور کیبل میں گزار دیتے ہیں اور دن ڈھلے تک سوتے رہتے ہیں۔ یہ صحت کے لیے بہت مضر ہے۔رات کی نیند کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آپ سارا دن بھی سو لیں گے تو وہ رات کی نیند پوری نہیں کرے گا۔ تیسری چیز، کاموں کی منصوبہ بندی کریں۔ روزانہ صبح اٹھ کر یا رات ہی سے آنے والے دن کی بہتر منصوبہ بندی کریں کہ کیا کیا کام کرنے ہیں؟ اور پھر ان کو انجام دیں۔ شوہر کو آفس اور بچوں کو اسکول بھیج کر پہلے خود ناشتا کریں، چلتے پھرتے نہیں بلکہ آرام سے بیٹھ کر۔ اپنی منصوبہ بندی میں اس کو سرفہرست رکھیں۔ ناشتے میں ہی صحت ہے۔ جتنا ناشتا صحت بخش غذا پر مشتمل ہوگا اتنی ہی آپ کی صحت اچھی رہے گی اور آپ سارا دن چست رہیں گی۔ منصوبہ بندی میں جو چیزیں آج کے لیے درج ہیں ان کو ایک ایک کرکے کرتی جائیں۔ ہانڈی چڑھانی ہو یا کپڑے دھونے کی مشین لگی ہو، اس دوران قرآن اور حدیث کے لیکچر سن سکتی ہیں۔ ذہنی طور پر منصوبہ بندی کرسکتی ہیں۔ اپنی ڈائری میں ان کے نکات لکھ سکتی ہیں۔اسلام کی خوبی اعتدال اور میانہ روی کو اپنائیں۔ چاہے وہ جسمانی محنت ہو، دماغی کاوش ہو، ازدواجی تعلق، کھانے پینے، سونے اور آرام کرنے کا معاملہ ہو… فکرمند رہنے کا معاملہ ہو یا ہنسنے ہنسانے میں تفریح کا معاملہ ہو… عبادت، رفتار اور گفتار غرض ہر چیز میں اعتدال کا رویہ اختیار کریں۔ حدیث ہے ’’اخراجات میں میانہ روی سے معاشی مسئلہ نصف رہ جاتا ہے۔‘‘پانچویں چیز، صحت کو بہتر بنانے کے لیے خواتین ’’ضبطِ نفس‘‘ کی عادت اپنائیں۔ اپنے جذبات، خیالات اور خواہشات پر قابو رکھیں۔ خواہشات کی بے راہ روی اور نظر کی آوارگی سے بھی قلب و دماغ چونکہ سکون و عافیت سے محروم ہوجاتے ہیں جس سے صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے، چہرے کی رونق ختم ہوجاتی ہے، فقر و افلاس نازل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عمر کوتاہ ہوتی ہے۔اگلی چیز جو خواتین کی صحت کو بہتر سے بہتر بناتی ہے وہ ہے محنت و مشقت، جفاکشی اور سخت کوشی کی زندگی گزارنا۔ اپنے ہاتھوں سے گھر کے کام کاج کرنا، چلنے پھرنے اور تکلیف برداشت کرنے کی عادت ڈالنا، آرام طلبی، سستی و کاہلی سے حتی الامکان پرہیز کرنا، اولادوں کو سخت کوش، جفاکش اور سخت جاں بنائیں۔ اگر ملازم ہوں تب بھی ان کا سہارا ہر کام میں لینے کے بجائے خود کام کریں تاکہ بچوں کو اپنا کام کرنے کی خود عادت ہو۔ صحابیاتؓ بھی اپنے گھر کے کام کاج خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی تھیں۔ وہ چکی بھی پیسا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ضرورت پڑنے پر میدانِ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے اور پانی پلانے کا کام بھی سنبھالتی تھیں۔ آپ خود دیکھیں گی کہ ان تمام کاموں کو انجام دینے سے خود آپ کو کتنی مسرت ہوگی کہ میں نے یہ اپنے ہاتھوں سے انجام دیا ہے۔ اس سے خواتین کی صحت بھی بہتر رہتی ہے، اخلاق بھی صحت مند رہتے ہیں اور ان کے اپنے بچوں پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔اسلام کی نظر میں پسندیدہ بیوی وہی ہے جو گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی ہو، شب و روز اس طرح اپنی گھریلو ذمے داریوں میں لگی رہتی ہو کہ اس کے چہرے بشرے سے محنت کی تکان بھی نمایاں رہے اور باورچی خانے کی سیاہی اور دھویں کا ملگجا پن بھی ظاہر ہورہا ہو۔ایک اور چیز، وہ یہ کہ ہر وقت خوش رہنے کی کوشش کیجیے۔ خوش و خرم، ہشاش بشاش اور چاق و چوبند رہنا صحت مندی کی علامت ہے۔ خوش باش رہیں اور زندہ دلی سے اپنی زندگی کو آراستہ، پُرکشش اور صحت مند رکھیں۔ ہر وقت فکرمندی، غم و غصہ، رنج، جلن، حسد، مُردہ دلی سے دور رہنا چاہیے۔ یہ اخلاقی بیماریاں اور ذہنی الجھنیں معدے کو بہت بری طرح متاثر کرتی ہیں اور معدے کا فساد صحت کا بدترین دشمن ہے۔ ReplyReply allForward

 صحت خدا کی عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت سے لاپروائی برتنا مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ صحت کی قدر اور اس کی حفاظت ایک مسلمان کا فرض ہے۔ کسی نے بہت پیاری مثال دی کہ ’’جس طرح حقیر دیمک بڑے بڑے کتب خانوں کو چاٹ کر تباہ کرڈالتی ہے، اسی طرح صحت کے معاملے میں معمولی سی غفلت بھی حقیر سی بیماری کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔‘‘انسانی صحت کے تقاضوں سے غفلت برتنا اور اس کی حفاظت میں کوتاہی کرنا بے حسی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری بھی۔ایک عظیم مفکر صحت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’انسانی زندگی کا اصل جوہر عقل و اخلاق اور ایمان و شعور ہے۔ اور عقل و اخلاق اور ایمان و شعور کی صحت کا دارومدار بھی بڑی حد تک جسمانی صحت پر ہے۔ عقل و دماغ کی نشوونما، فضائلِ اخلاق کے تقاضے اور دینی فرائض کو ادا کرنے کے لیے جسمانی صحت بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘چونکہ بحیثیت خواتین ہم سب کی ذمے داری گھر کے ایک تنکے کو اٹھانے سے لے کر گھر کے پہاڑ نما کام سرانجام دینے کی ہوتی ہے اس لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم خواتین اپنی صحت کا خیال بہت زیادہ رکھیں۔صحت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے سب سے بنیادی چیز اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا کہ اس نے ہمیں مکمل صحت یابی سے نوازا ہے۔ اس پر جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے گھروں اور اسپتالوں میں کیسی کیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بس جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ اسی میں عافیت ہے اور عافیت میں صحت ہے۔ دوسری چیز ہے سحر خیزی، اس کی عادت ڈالیں۔ خود بھی صبح جلد اٹھیں، رات جلد سوئیں اور بچوں کو بھی جلد سونے اور جلد اٹھنے کی عادت ڈالیں۔ آج کل اس کے بالکل برعکس ہورہا ہے۔ بچے ساری ساری رات انٹرنیٹ، موبائل فون اور کیبل میں گزار دیتے ہیں اور دن ڈھلے تک سوتے رہتے ہیں۔ یہ صحت کے لیے بہت مضر ہے۔رات کی نیند کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آپ سارا دن بھی سو لیں گے تو وہ رات کی نیند پوری نہیں کرے گا۔ تیسری چیز، کاموں کی منصوبہ بندی کریں۔ روزانہ صبح اٹھ کر یا رات ہی سے آنے والے دن کی بہتر منصوبہ بندی کریں کہ کیا کیا کام کرنے ہیں؟ اور پھر ان کو انجام دیں۔ شوہر کو آفس اور بچوں کو اسکول بھیج کر پہلے خود ناشتا کریں، چلتے پھرتے نہیں بلکہ آرام سے بیٹھ کر۔ اپنی منصوبہ بندی میں اس کو سرفہرست رکھیں۔ ناشتے میں ہی صحت ہے۔ جتنا ناشتا صحت بخش غذا پر مشتمل ہوگا اتنی ہی آپ کی صحت اچھی رہے گی اور آپ سارا دن چست رہیں گی۔ منصوبہ بندی میں جو چیزیں آج کے لیے درج ہیں ان کو ایک ایک کرکے کرتی جائیں۔ ہانڈی چڑھانی ہو یا کپڑے دھونے کی مشین لگی ہو، اس دوران قرآن اور حدیث کے لیکچر سن سکتی ہیں۔ ذہنی طور پر منصوبہ بندی کرسکتی ہیں۔ اپنی ڈائری میں ان کے نکات لکھ سکتی ہیں۔اسلام کی خوبی اعتدال اور میانہ روی کو اپنائیں۔ چاہے وہ جسمانی محنت ہو، دماغی کاوش ہو، ازدواجی تعلق، کھانے پینے، سونے اور آرام کرنے کا معاملہ ہو… فکرمند رہنے کا معاملہ ہو یا ہنسنے ہنسانے میں تفریح کا معاملہ ہو… عبادت، رفتار اور گفتار غرض ہر چیز میں اعتدال کا رویہ اختیار کریں۔ حدیث ہے ’’اخراجات میں میانہ روی سے معاشی مسئلہ نصف رہ جاتا ہے۔‘‘پانچویں چیز، صحت کو بہتر بنانے کے لیے خواتین ’’ضبطِ نفس‘‘ کی عادت اپنائیں۔ اپنے جذبات، خیالات اور خواہشات پر قابو رکھیں۔ خواہشات کی بے راہ روی اور نظر کی آوارگی سے بھی قلب و دماغ چونکہ سکون و عافیت سے محروم ہوجاتے ہیں جس سے صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے، چہرے کی رونق ختم ہوجاتی ہے، فقر و افلاس نازل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عمر کوتاہ ہوتی ہے۔اگلی چیز جو خواتین کی صحت کو بہتر سے بہتر بناتی ہے وہ ہے محنت و مشقت، جفاکشی اور سخت کوشی کی زندگی گزارنا۔ اپنے ہاتھوں سے گھر کے کام کاج کرنا، چلنے پھرنے اور تکلیف برداشت کرنے کی عادت ڈالنا، آرام طلبی، سستی و کاہلی سے حتی الامکان پرہیز کرنا، اولادوں کو سخت کوش، جفاکش اور سخت جاں بنائیں۔ اگر ملازم ہوں تب بھی ان کا سہارا ہر کام میں لینے کے بجائے خود کام کریں تاکہ بچوں کو اپنا کام کرنے کی خود عادت ہو۔ صحابیاتؓ بھی اپنے گھر کے کام کاج خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی تھیں۔ وہ چکی بھی پیسا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ضرورت پڑنے پر میدانِ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے اور پانی پلانے کا کام بھی سنبھالتی تھیں۔ آپ خود دیکھیں گی کہ ان تمام کاموں کو انجام دینے سے خود آپ کو کتنی مسرت ہوگی کہ میں نے یہ اپنے ہاتھوں سے انجام دیا ہے۔ اس سے خواتین کی صحت بھی بہتر رہتی ہے، اخلاق بھی صحت مند رہتے ہیں اور ان کے اپنے بچوں پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔اسلام کی نظر میں پسندیدہ بیوی وہی ہے جو گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی ہو، شب و روز اس طرح اپنی گھریلو ذمے داریوں میں لگی رہتی ہو کہ اس کے چہرے بشرے سے محنت کی تکان بھی نمایاں رہے اور باورچی خانے کی سیاہی اور دھویں کا ملگجا پن بھی ظاہر ہورہا ہو۔ایک اور چیز، وہ یہ کہ ہر وقت خوش رہنے کی کوشش کیجیے۔ خوش و خرم، ہشاش بشاش اور چاق و چوبند رہنا صحت مندی کی علامت ہے۔ خوش باش رہیں اور زندہ دلی سے اپنی زندگی کو آراستہ، پُرکشش اور صحت مند رکھیں۔ ہر وقت فکرمندی، غم و غصہ، رنج، جلن، حسد، مُردہ دلی سے دور رہنا چاہیے۔ یہ اخلاقی بیماریاں اور ذہنی الجھنیں معدے کو بہت بری طرح متاثر کرتی ہیں اور معدے کا فساد صحت کا بدترین دشمن ہے۔

ReplyReply allForward