اقتباس | امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ کی وصیت (دوسرا حصہ)
امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے- ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہونے کے بعد دیکھو یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور ان کے فاقوں کی نوبت نہ آجائے اوروہ تمہاری نگاہوں
امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے- ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہونے کے بعد دیکھو یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور ان کے فاقوں کی نوبت نہ آجائے اوروہ تمہاری نگاہوں
اس سوال کا بہترین جواب سورہ بقرہ کی آیت نمبر 21 میں موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں
جب اپنے بیٹے سے بات کریں تو جملے واضح، مختصر، عقلی اور اضافی تشریحات سے دور ہوں کیونکہ لڑکے اضافی تفصیلات، لمبے جملے اور مکالموں کو سن کر تھک جاتے ہیں اور ممکن ہے دھیان
مثال کے طور پر جب آپ اس کا موازنہ دوسروں سے کریںاور کہیں: اپنی خالہ کی بیٹی کو دیکھو جو تم سے ایک سال چھوٹی ہے، اس کا کمرہ ہمیشہ صاف ستھرا رہتا ہے۔ جبکہ
خواتین شہید بناتی ہیں، جس کا اجر شہادت سے دس گنا زیادہ ہے۔ خواتین کو نہ جہاد کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی شہادت کی کہ جس کے زریعے وہ اعلیٰ مقام حاصل کرلیں،
روزے ہمارے لیے کئی طرح سے صحت بخش فوائد کا حامل ہے، لیکن جیسا کہ ہم ہر چیز کے پیچھے سائنسی تحقیق تلاش کرتے ہیں، بہت سے مطالعات اور تحقیقوں سے بھی اس بات کی
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے شاگرد ''مفضل '' سے فرماتے ہیں: اے مفضل! اگرحیا ء نہ ہوتی تو انسان کبھی مہمان قبو ل نہیں کرتا، اپنے وعدہ کو وفا نہیں کرتا، لوگوں کی
آیت الله العظمی بهجت قدس سرہ: ہم نے دین کو ترک کیا تاکہ اپنی دنیا کو بہتر کرسکیں لیکن جہاں معنویات ہاتھ سے گئیں دنیا بھی اجڑ گئی اور ہر قسم کی خیر و برکت
میرے بچے آپ لگتا ہے بڑے ہو گئے ہیں، بڑے اہم اہم سوال پوچھ لگے ہیں۔میں چند مثالوں کے ذریعے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر آپ سے کوئی پوچھے
اللہ تعالی نے انسان کو محترم اور صاحب عزت بنایا ہے اور تمام مخلوقات پر اس کو احترام دیتے ہوئے اس کے لیے طیبات حلال کیے ہیں جیساکہ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے۔ رسول