*ماؤں کی محبت اور ہمدردی اور باپ کی دور اندیشی
ماؤں کی محبت ایسی ہونی چاہئے کہ بچوں میں خودسازی پیدا ہو اور وہ مستعد اور محنتی بن کر نکلیں وگرنہ ماؤں کی بے جا محبت انھیں آرام طلب اور اپنی خواہشات کا غلام بنا
ماؤں کی محبت ایسی ہونی چاہئے کہ بچوں میں خودسازی پیدا ہو اور وہ مستعد اور محنتی بن کر نکلیں وگرنہ ماؤں کی بے جا محبت انھیں آرام طلب اور اپنی خواہشات کا غلام بنا
کھانا کھانے کا مزہ، میٹھی نیند کا مزہ، کتاب پڑھنے کا مزہ، گھر کے کام کرنے کا مزہ، ورزش کرنے کا مزہ، بات کرنے کا مزہ باہر جانے کا مزہ، خریدنے کا مزہ…. خلاصہ یہ
ایک دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ بچوں نے انہیں گھیر لیا کہ ان کے ساتھ کھیلیں۔ حضور پاک نے تھوڑا کھیلا اور اپنے صحابی بلال حبشی کو
اے میرے معبود ! میری اولاد کی بقا اور ان کی اصلاح اور ان سے بہرہ مندی کے سامان مہیا کر کے مجھے ممنون احسان فرما۔اور میرے سہارے کے لیے ان کی عمروں میں برکت
عالم اسلام کے مستقبل سے اہل حق کی بے اعتنائی* دوسرا عامل کہ جس کی وجہ سے یہ حالات پیش آئے اور جسے انسان آئمہ طاہرین کی زندگی میں بھی مشاہدہ کرتا ہے وہ یہ
جب بھی بچہ آپ کو کوئی بات بتانا چاہے تو کتاب یا موبائل جو بھی آپ کے ہاتھ میں ہے تھوڑی دیر کے لئے سائیڈ میں رکھ دیں، اور کوشش کریں تمام توجہ کے ساتھ
جب بھی بچہ آپ کو کوئی بات بتانا چاہے تو کتاب یا موبائل جو بھی آپ کے ہاتھ میں ہے تھوڑی دیر کے لئے سائیڈ میں رکھ دیں، اور کوشش کریں تمام توجہ کے ساتھ
درخواست کی سب سے عام قسم جو ہم بچوں میں دیکھتے ہیں وہ ہے کھلونے، کھانا، اسٹیشنری اور سامان مانگنا جو دوسرے بچوں کے پاس ہے اور اس کے پاس نہیں ہے۔ ایسے حالات ہیں
قیام امام حسین نقطہ اتصال ہے تمام خدائی انقلابوں کا۔ اگر یہ واقعہ صرف تاریخی حیثیت رکھتا تو کہنا پڑتا کہ ایک امام تھے، کربلا میں شہید ہوگئے، وہیں دفن ہو گئے اور والسلام۔۔۔لیکن نہیں
ہم سب انسان خاص طور پر والدین نصیحت کرنا پسند کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ سب سے سادہ راستہ ہے جو ہمارے ذہن میں کسی کو سمجھانے کا آتا