کُلچے والا
والا ہر ایک سے اکڑو انداز اور غصے میں بات کررہا تھا۔ اسی اکھڑ پن میں کبھی وہ نان جلا دیتا تو کبھی کچا نکال لیتا۔گاہکوں کا رش بڑھتا گیا اور پہلے سے موجود گاہک
والا ہر ایک سے اکڑو انداز اور غصے میں بات کررہا تھا۔ اسی اکھڑ پن میں کبھی وہ نان جلا دیتا تو کبھی کچا نکال لیتا۔گاہکوں کا رش بڑھتا گیا اور پہلے سے موجود گاہک
پیارے بچو!شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ
ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، ا±سے سارا دن کھلاتا پلاتا اور ا±سکے ساتھ کھیلتا تھا۔سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے
۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔ (ڈاکٹر اقبال)۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ (امام
ایک شہر میں اکرم نامی امیر آدمی رہتا تھا۔ وہ امیر ہونے کے علاوہ بڑا مہربان اور انصاف پسند بھی تھا۔ اس کے محل کے پاس ایک بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں دو بھائی(احمد
ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنے لگا۔گھوڑے کامالک کسان تھا جو کنارے پر کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا۔جب اسے کوئی طریقہ نہیں
حمید معمول کے خلاف آج جلدی گھر آگیا تھا وہ بہت خوش تھا ابو نے اس سے پوچھا: حمید! آج کیوں جلدی آگئے ہو؟ ہر روز تم دیر سے آتے تھے۔ حمید نے کہا: ابا
پیارے بچو!قدیم زمانے میں جب کوئی شخص یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ اس کی ملکیت میں کتنے جانور ہیں تو وہ عددوں کا نظام استعمال نہیں کرتا تھا بلکہ ہر جانور کے بدلے میں
دوستو!مسکراہٹ دوستی کا پاسپورٹ ہے۔اس جملے پر آپ جس قدر غور کریں گے اس کی سچائی پر اتنا ہی مکمل یقین ہوتا چلا جائے گا۔ کامیاب اور ہردلعزیز شخصیتوں کا جائزہ لیجئے۔ آپ کو معلوم
¿٭۔۔۔ایک صاحب خود کشی کے بے حد خلاف تھے۔ موقع بے موقع وہ خود کشی پر لیکچر دیتے تھے ایک مرتبہ وہ ایک جلسے میں تقریر کررہے تھے، اتفاق سے موضوع بھی خود کشی ہی