عراق کے نئے وزیراعظم کا اعلان اور پہاڑ جیسے چیلنج
اکتوبر 2019ء میں عراق میں مظاہروں کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ 30 نومبر 2019ء یعنی عادل عبدل المہدی کے استعفیٰ تک جاری رہا۔ عراق کے صدر برہم صالح نے یکم فروری 2020ء کے دن
اکتوبر 2019ء میں عراق میں مظاہروں کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ 30 نومبر 2019ء یعنی عادل عبدل المہدی کے استعفیٰ تک جاری رہا۔ عراق کے صدر برہم صالح نے یکم فروری 2020ء کے دن
غاصب صہیونی حکومت اسرائیل آج کل انتخابات کی زد میں ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں اسرائیل میں تین پے در پے انتخابات ہوچکے ہیں۔ لیکن کسی پارٹی کو اکثریت نہیں مل رہی، جس کی وجہ
شام کے شہر ادلب میں شامی اور ترک فوج کے درمیان لڑائی سے جہاں انسانی بحران کی کیفیت پیدا ہوئی وہیں روس اور ترکی کے درمیان براہ راست جنگ کے خطرات بھی منڈلانے لگے، اس
رجب طیب اردوغان کا ترکی جس سمت میں جا رہا ہے، اس پر دو طرح کے تبصرے سامنے آرہے ہیں۔ ایک تبصرہ یہ ہے کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن اور اثر و رسوخ کو
امریکی صدر نے کئی بار موخر کرنے کے بعد 28 جنوری کو اپنے شیطانی منصوبے کو دنیا کے سامنے پیش کردیا جسے وہ سینچری ڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس
ہندوستان آج اپنا 71واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے، ہندوستانی میڈیا کے مطابق پورے ملک میں جشن کا سماں ہے۔ جشن کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ سرکاری، موسمی، ثقافتی وغیرہ۔ لیکن ایک جشن ایسا
عراق اور شام کی طرح امریکہ افغانستان میں بھی عام شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔ جنگ زدہ ملک افغانستان، طالبان گروہ کے حملوں کی وجہ سے مشہور ہے اور عالمی میڈیا میں بھی
ایران نے شہید قاسم سلیمانی کی تدفین کے فوری بعد عراق میں امریکی اڈوں پرحملے کرکے امریکا کو واضح پیغام دے دیا، عالمی میڈیا اس حملے کو انتقام قرار دے رہا ہے لیکن ولی امر
قصاص اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے اور قرآنی تعلیمات میں قصاص کو حیات و زندگی قرار دیا گیا ہے۔ قصاص ہمیشہ عادلانہ اور منصفانہ ہوتا ہے۔ عدل و انصاف اور مساوات و برابری
عراق میں تعینات امریکی فوجیوں نے حشدالشعبی کے فوجی مراکز پر حملہ کرکے ایک ایسے گھناونے اقدام کا ارتکاب کیا ہے، جس پر امریکا کے اتحادی بھی انگشت بدانداں ہیں۔ سعودی ہوائی اڈوں سے اْڑنے