فکر و غم

  Click to listen highlighted text! نازش ظفر ……السلام علیکم ماضی ایک تجربہ ہے، مستقبل ایک امید ہے اب بتا کیا حال ہے تیرا؟ یعنی آج کی تازہ فکر کیا ہے؟ بہت دن بیتے جب ہمارا بھی محبوب مشغلہ تھا فکر و پریشانی، ہم غم کھاتے تھے اور غم ہمیں کھاتا تھا۔ ہم دونوں کی دوستی بہت دنوں تک رہی۔ معلوم نہیں غم کا کیا بنا لیکن ہم اس کے غم میں شاخِ مجنوں کی طرح دبلے اور عشق لیلےٰ کی طرح زارو قطار ہوگئے۔ غم تنہا کبھی نہیں آتا۔ موقع ملتے ہی اس کی پوری بٹالین حملہ کردیتی ہے۔ تھکاوٹ، بے خوابی، دردسر، درد شکم، درد دل، بزدلی، کم ہمتی، شکست خوردگی، خوف و ہراس۔ خیریت یہ ہوئی کہ ٹی بی کے جراثیم کسی اور فکر میں مشغول تھے۔ پھر کیا ہوا؟ پھر ایک دن ہماری ملاقات ہوگئی۔ کسی حسینہ سے نہیں بلکہ ساٹھ سال کے نوجوان سے جس کی آنکھیں مسکراتی تھیں، جس کے گال کوزہئ شہد تھے۔ اس نے کچھ باتیں ہمیں عقل کی بتائیں۔ الحمدللہ کہ آج پندرہ سال سے نہ کوئی فکر آئی نہ غم اور ہم اس عمر قید سے چھوٹ گئے۔ وہ باتیں عقل کی ہم تیرے فائدے کے لئے آج سناتے ہیں۔ (۱) کیا غم فطری ہے؟ ممکن ہے بعض واقعات سے متاثر ہوئے بغیر انسان نہیں رہ سکتا لیکن کتنا اور کب تک؟ اس کا فیصلہ تیری عقل اور اس پر عمل تیری قوتِ ارادی کے ذمہ ہے۔ جب کوئی ٹریجڈی سامنے آئے تو فیصلہ کرلے کہ کتنی دیر اس پر غم کرنا ہے اور یہ غم کتنا گہرا ہونا چاہیے اور اس غم کے لئے موزوں ترین وقت کیا ہے؟ ایک بیوی صاحبہ جہیز میں غم لے آئی تھیں جو ان کے خون کے پیاسے تھے اور ہر روز چند قیمتی قطرے پی جایا کرتے تھے۔ آخر ایک دن شوہر بے چارے کو حکم دینا پڑا کہ چوبیس گھنٹوں میں صرف چوبیس منٹ نو بج کر دس سے لے کر نوبج کر چونتیس تک ……فکرو غم کو الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ غم اور قوت ارادی ایک کا پھیلاؤ، دوسرے کا سکیڑ ہے۔ ایک کی فتح دوسرے کی شکست ہے۔ فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ (۲)غم کا جواز کیا ہے؟ کیا اس ٹریجڈی کے بنانے میں تیرا ہاتھ ہے؟ اگر ہاں تو ضرور غم کرنا چاہیے۔ اگر نہیں تو غم کا سوال کیا؟ کیا اس کے اثرات کی روک تھام میں تیرا کچھ عمل دخل ہے؟ اگر ہاں تو ضرور فکر و تدبیر کرنی چاہیے۔ اگر نہیں تو غم کا سوال کیا؟ کیا اس کے اثرات تجھ پر کچھ پڑے ہیں؟ اور کیا ان کا کوئی حل تیرے اختیار میں ہے؟ اگر ہاں تو ضرور فکر و تدبیر کرنی چاہیے۔ اگر نہیں تو غم کا سوال کیا؟ جو حالات سامنے آگئے ہیں کیا ان کے بنانے میں تیرے ارادہ کوشش، غفلت، کاہلی یا حماقت اور نادانی کا کوئی دخل ہے؟ اگر ہاں تو آئندہ کے لئے احتیاط۔ اگر نہیں تو غم کیوں؟ کیا حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش تونے پوری پوری کرلی ہے؟ اگر ہاں تو خوشی کا مقام ہے۔ نتیجہ خواہ کچھ ہو۔ وہ مصلحت اللہ تعالیٰ کی ہے اگر نہیں تو اب غم کا فائدہ؟ کیا تو اپنے دماغ اور تجربہ سے معاملہ حل کرسکتی ہے؟ اگر ہاں تو بسم اللہ! اگر نہیں تو تن بہ تقدیر۔ غرض کہ اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمدردی، تعاون، صبر، احتیاط، تدبیر سب کا جواز ہے لیکن غم کا جواز نہیں۔ (۳) بے شک اس محبت کی بنیاد پر جو ایک رشتہ دار کو دوسرے رشتہ دار اور ایک دوست کو دوسرے دوست سے ہوتی ہے کسی قدر غم اور آنسو کی اجازت دی جاسکتی ہے لیکن غم میں مبالغہ کرنا دل اور دماغ سے استعفیٰ دے دینا ہے آہستہ آہستہ بے موت کی موت خریدنا ہے۔ اپنے آپ کو اور دوسروں کو تکلیف دینا ہے۔ اور جس طرح زیادہ غم ذہنی خود کشی ہے اسی طرح زیادہ محبت بھی۔ محبت کی مقدار ہمیشہ صحت مندانہ اور عقلمندانہ ہونی چاہیے۔ بھلا بتا! ماں باپ ہو یا بیٹا بیٹی، یا بھائی بہن یا میاں بیوی یا بہترین دوست۔ کیا وہ فانی نہیں ہے؟ کیا وہ اچانک فنا نہیں ہو سکتا ہے؟ کیا یہ بیماریاں، یہ عمر کی رفتار، یہ حادثات کی خبریں تجھے یہ پتہ نہیں دیتیں کہ یہ سانس کی آس کب تک؟ پھر تو پہلے ہی سے تیار اور ہوشیار کیوں نہیں؟ (۴) کیا کسی نے تجھے نقصان پہنچایا ہے؟ کیا کسی نے تجھے دھوکا دیا ہے؟ آخر تجھے اس انسان سے نفع کی امید ہی کیوں تھی جو کمزور ہے،نادان ہے، بے وفا ہے، انتہا درجہ کا خود غرض،خود پرست اور مکار ہے۔جو خود بدلتے ہوئے حالات زمانہ کا شکار ہے جس کے ارادے خیالات و جذبات ہوا کی لہروں کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔جو مطلب اور مادی فوائد کا پرستار ہے جو وقت پڑنے پر گدھے کو باپ کہتا ہے اور وقت ٹل جانے کے بعد باپ کو گدھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قابل اعتماد انسان نہیں ہوتے لیکن ان کا شمار کتنا اور ان کا بھی اعتبار کتنا؟ اور خبردار کسی کو قابل اعتماد نہ سمجھنا جب تک اس کے مفاد کا ٹکرتیرے مفاد سے نہ ہو اور وہ کم از کم تین بار اپنے آپ کو قابل اعتماد ثابت نہ کردے۔ محبت صرف اللہ سے کرنی چاہیے کہ اسے فنا نہیں۔ وہ حالات کا خالق ہے، حالات اس کے خالق نہیں۔ امید صرف اللہ سے رکھنی چاہیے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ اس کی اپنی کوئی غرض نہیں وہی رحمن اور رحیم ہے وہی فیاض اور کریم ہے۔ (۵) کیا کوئی مال و دولت کی چوری یا بے ایمانی ہوگئی ہے؟ سترھویں صدی کا مشہور برطانوی پادری جریمی ٹیلر کہتا ہے: ”چور اور لٹیرے رات، وہ سب کچھ لے گئے جنہیں میرا کہا جاتا تھا، بہرکیف ذرا ایک بار اور جائزہ لے لوں۔ وہ چاند اور سورج کو چھوڑ گئے ہیں۔ ہواؤں اور فضاؤں، بہارو خزاں کو بھی وہ چھوڑ گئے ہیں۔ ایک محبت کرنے والی شریک حیات کو وہ چھوڑ گئے ہیں۔ میرے دوستوں اور ہمدردوں کو جن میں سے چند میری مدد کرسکتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے نیکیوں کا انعام اور جنت کا وعدہ ہنوز قائم ہے اور مجھے جو طاقت معاف کرنے والی ہے وہ بھلا کون لے سکتا ہے؟ اتنی زیادہ نعمتوں کے درمیان اگر میں غم کروں تو ظاہر ہے کہ مجھے غم سے عشق ہے۔ اگر مجھے گلاب کی پنکھڑیاں چننی ہیں تو راہ میں کانٹے ضرور پڑیں گے۔“ کسی نے کہا۔”مجھے سات بیماریاں ہیں الحمدللہ کہ ستر(۰۷) نہیں۔“ نشہ کی طرح فکر و غم بھی اک لت، ایک دھت، ایک نادانی، ایک فطرت ثانی، ایک مصالحے دار، مزیدار چاٹ ہے۔ یہ عادت زہر کی طرح میٹھی ہے اگرچہ قاتل ہے اور دھیرے دھیرے اپنا کام کرتی ہے۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی اس سے زیادہ خطرناک پانچواں کالم ممکن نہیں۔ عورتوں کو فکر و غم سے کچھ زیادہ محبت ہے شاید، حالات اور حادثات کا اثر وہ زیادہ لیتی ہیں اور دیر تک ……ایک ایک رشتہ دار کے مرنے پر ان کے گرم پانی کا آبشار ہفتوں یا مہینوں چلتا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اسے محبت اور فطرت کاعین تقاضا سمجھتی ہیں اور ابھی ایک غم سے فرصت ہوئی نہیں کہ دوسرا لے بیٹھتی ہیں۔ نازلی! اسی لئے ہم نے اس خط میں یہ نہیں پوچھا کہ آج کی تازہ خبر کیا ہے بلکہ آج کا تازہ غم کیا ہے؟ غم کر زیادہ غم آجائے گا۔ غم مت کر جو کچھ ہے وہ بھی بھاگ جائے گا۔ اگر تیرے پاس غموں کا پہاڑ بھی آگیا ہے تو کوئی غم نہیں، اٹھ جگہ بدل دے۔ نئی آب و ہوا میں نئے نئے لوگوں کے درمیان، نئے نئے مسائل کے پاس جاکر کچھ وقت گزار۔ بیٹی! غم اور مسئلہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، احمق عورتیں ہر مسئلہ کو غم بنالیتی ہیں۔ غم وہ ہے جس کا حل نہیں۔ مسئلہ وہ ہے جس کا حل ممکن ہے اور اسے ضرور ڈھونڈ نکالنا چاہیے۔ (جاری ہے۔۔۔)

نازش ظفر ……السلام علیکم
ماضی ایک تجربہ ہے، مستقبل ایک امید ہے اب بتا کیا حال ہے تیرا؟ یعنی آج کی تازہ فکر کیا ہے؟
بہت دن بیتے جب ہمارا بھی محبوب مشغلہ تھا فکر و پریشانی، ہم غم کھاتے تھے اور غم ہمیں کھاتا تھا۔ ہم دونوں کی دوستی بہت دنوں تک رہی۔ معلوم نہیں غم کا کیا بنا لیکن ہم اس کے غم میں شاخِ مجنوں کی طرح دبلے اور عشق لیلےٰ کی طرح زارو قطار ہوگئے۔ غم تنہا کبھی نہیں آتا۔ موقع ملتے ہی اس کی پوری بٹالین حملہ کردیتی ہے۔ تھکاوٹ، بے خوابی، دردسر، درد شکم، درد دل، بزدلی، کم ہمتی، شکست خوردگی، خوف و ہراس۔ خیریت یہ ہوئی کہ ٹی بی کے جراثیم کسی اور فکر میں مشغول تھے۔
پھر کیا ہوا؟
پھر ایک دن ہماری ملاقات ہوگئی۔ کسی حسینہ سے نہیں بلکہ ساٹھ سال کے نوجوان سے جس کی آنکھیں مسکراتی تھیں، جس کے گال کوزہئ شہد تھے۔ اس نے کچھ باتیں ہمیں عقل کی بتائیں۔ الحمدللہ کہ آج پندرہ سال سے نہ کوئی فکر آئی نہ غم اور ہم اس عمر قید سے چھوٹ گئے۔
وہ باتیں عقل کی ہم تیرے فائدے کے لئے آج سناتے ہیں۔
(۱) کیا غم فطری ہے؟ ممکن ہے بعض واقعات سے متاثر ہوئے بغیر انسان نہیں رہ سکتا لیکن کتنا اور کب تک؟ اس کا فیصلہ تیری عقل اور اس پر عمل تیری قوتِ ارادی کے ذمہ ہے۔
جب کوئی ٹریجڈی سامنے آئے تو فیصلہ کرلے کہ کتنی دیر اس پر غم کرنا ہے اور یہ غم کتنا گہرا ہونا چاہیے اور اس غم کے لئے موزوں ترین وقت کیا ہے؟
ایک بیوی صاحبہ جہیز میں غم لے آئی تھیں جو ان کے خون کے پیاسے تھے اور ہر روز چند قیمتی قطرے پی جایا کرتے تھے۔ آخر ایک دن شوہر بے چارے کو حکم دینا پڑا کہ چوبیس گھنٹوں میں صرف چوبیس منٹ نو بج کر دس سے لے کر نوبج کر چونتیس تک ……فکرو غم کو الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد ان کا داخلہ ممنوع ہے۔
غم اور قوت ارادی ایک کا پھیلاؤ، دوسرے کا سکیڑ ہے۔ ایک کی فتح دوسرے کی شکست ہے۔ فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے۔
(۲)غم کا جواز کیا ہے؟
کیا اس ٹریجڈی کے بنانے میں تیرا ہاتھ ہے؟ اگر ہاں تو ضرور غم کرنا چاہیے۔ اگر نہیں تو غم کا سوال کیا؟ کیا اس کے اثرات کی روک تھام میں تیرا کچھ عمل دخل ہے؟ اگر ہاں تو ضرور فکر و تدبیر کرنی چاہیے۔ اگر نہیں تو غم کا سوال کیا؟ کیا اس کے اثرات تجھ پر کچھ پڑے ہیں؟ اور کیا ان کا کوئی حل تیرے اختیار میں ہے؟ اگر ہاں تو ضرور فکر و تدبیر کرنی چاہیے۔ اگر نہیں تو غم کا سوال کیا؟
جو حالات سامنے آگئے ہیں کیا ان کے بنانے میں تیرے ارادہ کوشش، غفلت، کاہلی یا حماقت اور نادانی کا کوئی دخل ہے؟ اگر ہاں تو آئندہ کے لئے احتیاط۔ اگر نہیں تو غم کیوں؟
کیا حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش تونے پوری پوری کرلی ہے؟ اگر ہاں تو خوشی کا مقام ہے۔ نتیجہ خواہ کچھ ہو۔ وہ مصلحت اللہ تعالیٰ کی ہے اگر نہیں تو اب غم کا فائدہ؟
کیا تو اپنے دماغ اور تجربہ سے معاملہ حل کرسکتی ہے؟ اگر ہاں تو بسم اللہ! اگر نہیں تو تن بہ تقدیر۔
غرض کہ اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمدردی، تعاون، صبر، احتیاط، تدبیر سب کا جواز ہے لیکن غم کا جواز نہیں۔
(۳) بے شک اس محبت کی بنیاد پر جو ایک رشتہ دار کو دوسرے رشتہ دار اور ایک دوست کو دوسرے دوست سے ہوتی ہے کسی قدر غم اور آنسو کی اجازت دی جاسکتی ہے لیکن غم میں مبالغہ کرنا دل اور دماغ سے استعفیٰ دے دینا ہے آہستہ آہستہ بے موت کی موت خریدنا ہے۔ اپنے آپ کو اور دوسروں کو تکلیف دینا ہے۔
اور جس طرح زیادہ غم ذہنی خود کشی ہے اسی طرح زیادہ محبت بھی۔ محبت کی مقدار ہمیشہ صحت مندانہ اور عقلمندانہ ہونی چاہیے۔ بھلا بتا! ماں باپ ہو یا بیٹا بیٹی، یا بھائی بہن یا میاں بیوی یا بہترین دوست۔ کیا وہ فانی نہیں ہے؟ کیا وہ اچانک فنا نہیں ہو سکتا ہے؟ کیا یہ بیماریاں، یہ عمر کی رفتار، یہ حادثات کی خبریں تجھے یہ پتہ نہیں دیتیں کہ یہ سانس کی آس کب تک؟ پھر تو پہلے ہی سے تیار اور ہوشیار کیوں نہیں؟
(۴) کیا کسی نے تجھے نقصان پہنچایا ہے؟ کیا کسی نے تجھے دھوکا دیا ہے؟
آخر تجھے اس انسان سے نفع کی امید ہی کیوں تھی جو کمزور ہے،نادان ہے، بے وفا ہے، انتہا درجہ کا خود غرض،خود پرست اور مکار ہے۔جو خود بدلتے ہوئے حالات زمانہ کا شکار ہے جس کے ارادے خیالات و جذبات ہوا کی لہروں کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔جو مطلب اور مادی فوائد کا پرستار ہے جو وقت پڑنے پر گدھے کو باپ کہتا ہے اور وقت ٹل جانے کے بعد باپ کو گدھا۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ قابل اعتماد انسان نہیں ہوتے لیکن ان کا شمار کتنا اور ان کا بھی اعتبار کتنا؟ اور خبردار کسی کو قابل اعتماد نہ سمجھنا جب تک اس کے مفاد کا ٹکرتیرے مفاد سے نہ ہو اور وہ کم از کم تین بار اپنے آپ کو قابل اعتماد ثابت نہ کردے۔
محبت صرف اللہ سے کرنی چاہیے کہ اسے فنا نہیں۔ وہ حالات کا خالق ہے، حالات اس کے خالق نہیں۔ امید صرف اللہ سے رکھنی چاہیے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ اس کی اپنی کوئی غرض نہیں وہی رحمن اور رحیم ہے وہی فیاض اور کریم ہے۔
(۵) کیا کوئی مال و دولت کی چوری یا بے ایمانی ہوگئی ہے؟
سترھویں صدی کا مشہور برطانوی پادری جریمی ٹیلر کہتا ہے:
”چور اور لٹیرے رات، وہ سب کچھ لے گئے جنہیں میرا کہا جاتا تھا، بہرکیف ذرا ایک بار اور جائزہ لے لوں۔ وہ چاند اور سورج کو چھوڑ گئے ہیں۔ ہواؤں اور فضاؤں، بہارو خزاں کو بھی وہ چھوڑ گئے ہیں۔ ایک محبت کرنے والی شریک حیات کو وہ چھوڑ گئے ہیں۔ میرے دوستوں اور ہمدردوں کو جن میں سے چند میری مدد کرسکتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے نیکیوں کا انعام اور جنت کا وعدہ ہنوز قائم ہے اور مجھے جو طاقت معاف کرنے والی ہے وہ بھلا کون لے سکتا ہے؟ اتنی زیادہ نعمتوں کے درمیان اگر میں غم کروں تو ظاہر ہے کہ مجھے غم سے عشق ہے۔ اگر مجھے گلاب کی پنکھڑیاں چننی ہیں تو راہ میں کانٹے ضرور پڑیں گے۔“
کسی نے کہا۔”مجھے سات بیماریاں ہیں الحمدللہ کہ ستر(۰۷) نہیں۔“
نشہ کی طرح فکر و غم بھی اک لت، ایک دھت، ایک نادانی، ایک فطرت ثانی، ایک مصالحے دار، مزیدار چاٹ ہے۔ یہ عادت زہر کی طرح میٹھی ہے اگرچہ قاتل ہے اور دھیرے دھیرے اپنا کام کرتی ہے۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی اس سے زیادہ خطرناک پانچواں کالم ممکن نہیں۔ عورتوں کو فکر و غم سے کچھ زیادہ محبت ہے شاید، حالات اور حادثات کا اثر وہ زیادہ لیتی ہیں اور دیر تک ……ایک ایک رشتہ دار کے مرنے پر ان کے گرم پانی کا آبشار ہفتوں یا مہینوں چلتا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اسے محبت اور فطرت کاعین تقاضا سمجھتی ہیں اور ابھی ایک غم سے فرصت ہوئی نہیں کہ دوسرا لے بیٹھتی ہیں۔
نازلی! اسی لئے ہم نے اس خط میں یہ نہیں پوچھا کہ آج کی تازہ خبر کیا ہے بلکہ آج کا تازہ غم کیا ہے؟
غم کر زیادہ غم آجائے گا۔ غم مت کر جو کچھ ہے وہ بھی بھاگ جائے گا۔
اگر تیرے پاس غموں کا پہاڑ بھی آگیا ہے تو کوئی غم نہیں، اٹھ جگہ بدل دے۔ نئی آب و ہوا میں نئے نئے لوگوں کے درمیان، نئے نئے مسائل کے پاس جاکر کچھ وقت گزار۔
بیٹی! غم اور مسئلہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، احمق عورتیں ہر مسئلہ کو غم بنالیتی ہیں۔ غم وہ ہے جس کا حل نہیں۔ مسئلہ وہ ہے جس کا حل ممکن ہے اور اسے ضرور ڈھونڈ نکالنا چاہیے۔
(جاری ہے۔۔۔)