Wed Feb 21, 2024

اسرائیل کے فضائی حملے، خواتین و بچوں سمیت مزید 80 فلسطینی شہید برازیل نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا حزب اللہ نے اسرائیل کے اندر تک سرنگیں بنا رکھی ہیں، فرانسیسی اخبار شہباز شریف وزیراعظم، زرداری صدر، حکومت سازی کا معاہدہ ہوگیا امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی تیسری قرارداد بھی ویٹو کردی سپاہ پاسداران انقلاب کے بری دستوں میں خودکش ڈرونز شامل اسرائیل فلسطینی قیدی خواتین کو بانجھ بنارہا ہے، اقوام متحدہ یمنی فوج کے دشمن کے جہازوں پر حملے، برطانوی جہاز ڈوب گیا خطے میں مزاحمت کی فکری بنیادیں واقعہ کربلا سے جنم لیتی ہیں، صیہونی اخبار یمن نے امریکا اور برطانیہ کو دشمن ملک قرار دے دیا طالبان نے دوحہ مذاکرات کیلئے ناقابل قبول شرائط رکھیں، گوتریس صیہونی فوج کے حملے جاری، مزید 107 فلسطینی شہید، 145 زخمی غزہ جنگ نے اسرائیلی معیشت تباہ کردی، آخری سہ ماہی میں 19.4 فیصد گراوٹ غزہ میں بھوک سے روزانہ درجنوں اموات ہو رہی ہیں، اقوام متحدہ ماہ رمضان میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کا داخلہ محدود کرنے کا فیصلہ

روزانہ کی خبریں

کون بنے گا وزیراعظم پاکستان؟ جوڑ توڑ شروع، پرانے اتحادی پھر سرگرم

لاہور: پاکستان کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا اس حوالے سے پرانے اتحادی ایک بار پھر سرگرم ہو گئے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں نمبرز گیم پوری کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
نئی حکومت کی تشکیل کیلئے ن لیگ، پیپلزپارٹی، ق لیگ اور ایم کیوایم کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا جبکہ قائد ن لیگ نواز شریف سے چودھری شجاعت حسین کی ملاقات بھی اسلام آباد میں ہوگی۔
دوسری جانب گزشتہ روز شہباز شریف کی قیادت میں لیگی وفد کی آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی جس میں ملکی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
لیگی قیادت نے وفاق میں حکومت بنانے کیلئے پیپلزپارٹی سے تعاون مانگ لیا جبکہ دونوں جماعتوں نے ملک کو سیاسی استحکام سے ہمکنار کرنے کیلئے تعاون کرنے پر اصولی اتفاق کیا۔ ادھر مسلم لیگ ن نے وزارت عظمیٰ کیلئے پیپلزپارٹی سے تعاون کی درخواست کر دی ہے جبکہ لیگی قیادت صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ کے عہدے پیپلز پارٹی کو دینے کیلئے تیار ہے۔
ن لیگ نے پاکستان پیپلز پارٹی کو وزیر اعلیٰ بلوچستان سمیت وفاق اور پنجاب میں اہم وزارتوں کی بھی پیش کش کر دی۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری پوزیشن مضبوط ہے، وزارت عظمیٰ کیلئے تعاون کا فیصلہ بہت مشکل ہے، ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ صدر پاکستان اور وزارت عظمیٰ پیپلز پارٹی کے پاس رہے، ن لیگ ہمیں سپورٹ کرے۔
پی پی قیادت نے مزید کہا کہ اگر آپ صدر اور وزارت عظمیٰ کیلئے ہمیں سپورٹ کرتے ہیں تو چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر شپ کیلئے آپ سے تعاون کر سکتے ہیں جس پر شہباز شریف نے درخواست کی کہ آپ ہماری تجاویز پر بھی غور کریں۔
بعدازاں لیگی قیادت سے ملاقات کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو لاہور سے اسلام آباد چلے گئے۔
علاوہ ازیں حکومت سازی کیلئے جاتی امراء میں بھی میل ملاقاتیں اور جوڑ توڑ عروج پر ہے، جاتی امراء میں بڑی سیاسی بیٹھک ہوئی جس میں ایم کیو ایم وفد نے نوازشریف اور شہباز شریف سے ملاقات کی اور دونوں جماعتوں کی قیادت نے مل کر چلنے اور سیاسی تعاون پر اتفاق کیا۔
مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم میں بنیادی نکات طے پا گئے، دونوں جماعتوں نے حکومت سازی کے مشاورتی عمل کیلئے مشترکہ کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ نمائندہ کمیٹی دیگر پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔
ملاقات کے دوران سندھ سے آزاد نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی جبکہ دونوں جماعتوں کے نمائندہ وفود نے آئندہ ہفتے پھر ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular