پہلا اخبار کہاں سے شائع ہوا؟

  Click to listen highlighted text! اخبار آج کے انسان کی روز مرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ عام طور پر دن کا آغاز اخبار بینی(اخبارپڑھنے) سے ہوتا ہے اور اگر کبھی کسی وجہ سے اخبار نہ ملے تو انسان اپنی زندگی کے معمولات میں کمی سی محسوس کرتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے حالات اور واقعات سے باخبر رہنا چاہتا ہے۔ پرانے زمانوں میں موجودہ زمانے جیسے خبر رسانی کے ذرائع نہیں تھے۔ ان دنوں خبریں سینہ بہ سینہ چلتی تھیں۔ اگر حکومت کو کوئی اہم اعلان کرانا ہوتا، تو وہ شہر میں منادی(اعلان) کراتی۔ اس کے بعد اخبار چھپنا شروع ہوا، لیکن اس بات کا علم بہت کم لوگوں کو ہوگا کہ دنیا کا پہلا اخبار کہاں سے شائع ہوا! آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے چینی حکومت نے اخبار کی ضرورت محسوس کی اور چنگ پاؤ (Tching Pao)کے نام سے ایک اخبار شائع کرنا شروع کیا۔ اس نام کا مطلب ”دارالحکومت کی خبریں“تھا، اور اب تک اسی کو دنیا کا سب سے پرانا اخبار خیال کیا جاتا ہے۔ اس نام کا مطلب، حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کام لیا جانا تھا۔ قدیم روم میں بھی ایک سرکاری اخبار شائع ہوتا تھا جس کا نام ایکٹا ڈائی ارنا یعنی ”روزانہ واقعات“ تھا۔ جیسے جیسے اخبارات میں دلچسپی بڑھی، لوگوں نے اخبارات خرید کر پڑھنا شروع کردیئے۔ سولہویں صدی کے آغاز میں وینس (Venice) کی حکومت نے ایک اخبار شائع کیا جس کا نام ”نورٹزے سٹرٹ“ (Nortizie Stritte) یعنی ”تحریری خبریں“ تھا۔ یہ اخبار ایک گزیٹا(Gezetta) کے عوض ملتا تھا۔ گزیٹا ان دنوں میں وینس کی کرنسی کا نام تھا۔ اٹھارہویں صدی میں ایک اور تبدیلی یہ ہوئی کہ اخبارات میں خبروں کے ساتھ ساتھ تبصرے بھی شامل کئے جانے لگے۔ ایسا ہی ایک اخبار 1663ء میں لندن سے نکالا گیا۔ اس کا نام ”ڈی انٹیلی جنسر“ تھا۔ اس دور میں چھپائی اور ترسیل کا کام بہت سست رفتاری سے ہوتا تھا اور لوگوں کو مہینے میں صرف ایک ہی اخبار پڑھنے کو ملتا تھا۔ جدید مشینوں کی ایجاد سے چھپائی اور ترسیل کے کام میں تیزی آگئی اور اخبارات روزانہ شائع ہونا شروع ہوگئے۔ بڑے شہروں میں تو صبح اور شام کے الگ الگ اخبار ات شائع ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ”جام جہاں نما“ کو اردو کا پہلا اخبار کہا جاتا ہے۔ یہ 27 مارچ 1822ء کو کلکتہ سے چھپنا شروع ہوا۔ یہ اخبار فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوا کرتا تھا۔ یہ اخبار ہفتے میں ایک بار نکلتا تھا۔ اردو صحافت کے تاریخ دان کہتے ہیں کہ اردو کا پہلا باقاعدہ اخبار”دہلی اردو اخبار“ تھا، جو مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے 1836ء میں دہلی سے جاری کیا تھا۔

اخبار آج کے انسان کی روز مرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ عام طور پر دن کا آغاز اخبار بینی(اخبارپڑھنے) سے ہوتا ہے اور اگر کبھی کسی وجہ سے اخبار نہ ملے تو انسان اپنی زندگی کے معمولات میں کمی سی محسوس کرتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے حالات اور واقعات سے باخبر رہنا چاہتا ہے۔ پرانے زمانوں میں موجودہ زمانے جیسے خبر رسانی کے ذرائع نہیں تھے۔ ان دنوں خبریں سینہ بہ سینہ چلتی تھیں۔ اگر حکومت کو کوئی اہم اعلان کرانا ہوتا، تو وہ شہر میں منادی(اعلان) کراتی۔
اس کے بعد اخبار چھپنا شروع ہوا، لیکن اس بات کا علم بہت کم لوگوں کو ہوگا کہ دنیا کا پہلا اخبار کہاں سے شائع ہوا!
آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے چینی حکومت نے اخبار کی ضرورت محسوس کی اور چنگ پاؤ (Tching Pao)کے نام سے ایک اخبار شائع کرنا شروع کیا۔ اس نام کا مطلب ”دارالحکومت کی خبریں“تھا، اور اب تک اسی کو دنیا کا سب سے پرانا اخبار خیال کیا جاتا ہے۔ اس نام کا مطلب، حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کام لیا جانا تھا۔ قدیم روم میں بھی ایک سرکاری اخبار شائع ہوتا تھا جس کا نام ایکٹا ڈائی ارنا یعنی ”روزانہ واقعات“ تھا۔
جیسے جیسے اخبارات میں دلچسپی بڑھی، لوگوں نے اخبارات خرید کر پڑھنا شروع کردیئے۔ سولہویں صدی کے آغاز میں وینس (Venice) کی حکومت نے ایک اخبار شائع کیا جس کا نام ”نورٹزے سٹرٹ“ (Nortizie Stritte) یعنی ”تحریری خبریں“ تھا۔ یہ اخبار ایک گزیٹا(Gezetta) کے عوض ملتا تھا۔ گزیٹا ان دنوں میں وینس کی کرنسی کا نام تھا۔
اٹھارہویں صدی میں ایک اور تبدیلی یہ ہوئی کہ اخبارات میں خبروں کے ساتھ ساتھ تبصرے بھی شامل کئے جانے لگے۔ ایسا ہی ایک اخبار 1663ء میں لندن سے نکالا گیا۔ اس کا نام ”ڈی انٹیلی جنسر“ تھا۔ اس دور میں چھپائی اور ترسیل کا کام بہت سست رفتاری سے ہوتا تھا اور لوگوں کو مہینے میں صرف ایک ہی اخبار پڑھنے کو ملتا تھا۔ جدید مشینوں کی ایجاد سے چھپائی اور ترسیل کے کام میں تیزی آگئی اور اخبارات روزانہ شائع ہونا شروع ہوگئے۔ بڑے شہروں میں تو صبح اور شام کے الگ الگ اخبار ات شائع ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں ”جام جہاں نما“ کو اردو کا پہلا اخبار کہا جاتا ہے۔ یہ 27 مارچ 1822ء کو کلکتہ سے چھپنا شروع ہوا۔ یہ اخبار فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوا کرتا تھا۔ یہ اخبار ہفتے میں ایک بار نکلتا تھا۔ اردو صحافت کے تاریخ دان کہتے ہیں کہ اردو کا پہلا باقاعدہ اخبار”دہلی اردو اخبار“ تھا، جو مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے 1836ء میں دہلی سے جاری کیا تھا۔