یوکرائن اور روس کا مسئلہ کیا ہے؟

  Click to listen highlighted text! تحریر: سید اسد عباس یوکرائن سوویت یونین سے علیحدگی سے قبل روس کا حصہ تھا، 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یوکرائن نے روس سے آزادی حاصل کی اور روسی تسلط سے مکمل چھٹکارے کے لیے مغرب سے تعلقات کو بہتر کرنا شروع کیا۔ یوکرائن مشرقی یورپ کا ایک ملک ہے، جس کی آبادی تقریبا 41.3 ملین ہے۔ اس ملک کی سرحدیں بیلاروس، پولینڈ، سلواکیا، ہنگری، رومینیا، مولڈوا اور روس سے ملتی ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے روس کے بعد یوکرائن مشرقی یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس ملک میں صدارتی نظام رائج ہے، یہ ملک اقوام متحدہ اور کونسل آف یورپ کا رکن ہے۔ یوکرائن کی روس سے آزادی کے بعد مغربی ممالک اور روس نے یوکرائنی سیاست میں مداخلت کا آغاز کیا۔ روس کے لیے یوکرائن میں مخالف حکومت اس کی سکیورٹی کا مسئلہ تھی اور مغرب کے لیے روس کی مخالف حکومت ایک کھلونا۔ کہا جاتا ہے کہ 2004ء کے انتخابات میں روسی حمایت یافتہ صدارتی امیدوار وکٹر یناکووچ کے انتخاب کو یوکرائن کی عدلیہ نے کالعدم قرار دیا، جس کے سبب مغرب کے حمایت یافتہ امیدوار وکٹر یشنکوو کے حق میں عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ ان مظاہروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں مغرب کی مالی اور تربیتی مدد حاصل تھی۔ گارڈین کے مطابق مدد کرنے والوں میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، یو ایس ایڈ اور اسی طرح کے کئی ایک ادارے شامل تھے۔ روس کی جانب سے اپنے حمایت یافتہ امیدوار کو بھرپور مدد فراہم کی گئی اور وہ دوبارہ 2006ء میں ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ 2013ء میں روس نواز یوکرائنی صدر وکٹر یناکووچ کی جانب سے یورپی یونین کے بجائے رشین فیڈریشن کو ترجیح دیئے جانے کے سبب ایک مرتبہ پھر ملک گیر مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔ یوکرائن کے یہ مظاہرین نان وائلنٹ پروٹسٹ آرگنائزیشن کے تربیت یافتہ اور مغرب کی جانب سے مالی امداد کے حامل تھے۔ ان ملک گیر مظاہروں کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر وکٹر یناکووچ کو کرسی صدارت سے اترنا پڑا۔ یوکرائن میں سیاسی تناؤ کے جواب کے طور پر روسی پارلیمان نے کرائمیا کے جزیرے کو روس سے ملحق کرنے کی قرارداد پاس کی۔ کرائمیا کی زیادہ آبادی روسی نژاد ہے، روس نے اس جزیرے پر قبضے کے ساتھ ہی وہاں ریفرنڈم کروایا، جس کے نتائج کے مطابق وہاں کی 97 فیصد آبادی روس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ مغربی ممالک اس ریفرنڈم کو قبول نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس نے مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسند مسلح جدوجہد کی مدد شروع کر دی۔ مغرب اور یوکرائن نے روس پر الزام لگایا کہ وہ علیحدگی پسندوں کی ہتھیاروں اور فوجی بھیج کر مدد کر رہا ہے، جس کی روس نے تردید کی اور کہا کہ علیحدگی پسند تحریک میں شامل ہونے والے افراد اپنی مرضی سے رضاکارانہ طور پر وہاں گئے ہیں۔ ماسکو کا موقف ہے کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی یوکرائن کو ہتھیار اور تربیت فراہم کر رہے ہیں، نیز یوکرائنی افواج کے ہمراہ فوجی مشقیں کرتے ہیں، جو کہ روس کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ گذشتہ برس روس نے یوکرائن کی سرحد پر اپنی افواج کی تعداد کو بڑھا دیا، جس کے سبب دونوں اطراف افواج کے مابین چھوٹی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس وقت روسی افواج کی ایک کثیر تعداد یوکرائن کی سرحد پر موجود ہے، جو کسی بھی وقت بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عمل کے پیچھے نیٹو ممبران کی روس کی سرحدوں پر فوجی مراکز قائم کرنے کی خواہش موجود ہے، جسے وہ روس کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ روس نے امریکا کو یوکرائن کے حوالے سے جو مطالبات کی فہرست دی ہے، اس میں روسی سرحدوں کے پاس نیٹو کی مشقوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ ولادمیر پیوٹن یہ بھی چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ سے نکل جائے۔ پیوٹن یوکرائن کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کے بجائے قانونی گارنٹیز کے متقاضی ہیں۔ ترکی کی مانند یوکرائن کو بھی نیٹو کا حصہ بنانے کے حوالے سے نیٹو ممالک کے مابین تشویش پائی جاتی ہے، بعض کا خیال ہے کہ جب تک یوکرائن سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک وہ نیٹو کا حصہ نہیں بن سکتا۔ بعض یوکرائن کو نیٹو کا حصہ بنانے کے حامی ہیں جبکہ بعض دیگر اس وقت روس سے اپنے تعلقات کو مزید خراب کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ موجودہ تناؤ کی فضا میں امریکہ نے تقریبا آٹھ ہزار فوجیوں کو مشرقی یورپ کے لیے مخصوص کیا ہے اور نیٹو نے یورپ کی مشرقی سرحدوں کے تحفظ کے لیے جنگی بیٹرے اور جہاز روانہ کیے ہیں۔ ولادمیر پیوٹن کی ترجمان پیسکوو کا کہنا ہے کہ ہم امریکا اور نیٹو ممبران کی پیش رفت کو دیکھ رہے ہیں، یہ اقدامات یوکرائن کی تناؤ والی فضا کو مزید گھمبیر کرنے کے مترادف ہیں۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ولادمیر پیوٹن اس صورتحال میں یوکرائن پر مکمل قبضے کا حکم دے سکتے ہیں، تاکہ وہ مغرب اور نیٹو کے ساتھ زیادہ موثر انداز سے نمٹ سکیں۔ روس اگر یوکرائن میں اپنی افواج کو داخل کرتا ہے تو اس صورت میں نیٹو ممالک کا روس کے خلاف ردعمل مختلف نوعیت کا ہوسکتا ہے۔ اب تک برطانیہ نے یوکرائن کو ہتھیار مہیا کیے ہیں، جرمنی فیلڈ میڈیکل فیسلٹی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ دیگر ممالک روس کے خلاف معاشی پابندیوں کا سوچ رہے ہیں، تاہم یوکرائن سرد جنگ کے بعد روس اور مغرب کے درمیان ایک زندہ محاذ ہے، جہاں چھوٹی سی غلطی ایک بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

تحریر: سید اسد عباس

یوکرائن سوویت یونین سے علیحدگی سے قبل روس کا حصہ تھا، 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یوکرائن نے روس سے آزادی حاصل کی اور روسی تسلط سے مکمل چھٹکارے کے لیے مغرب سے تعلقات کو بہتر کرنا شروع کیا۔ یوکرائن مشرقی یورپ کا ایک ملک ہے، جس کی آبادی تقریبا 41.3 ملین ہے۔ اس ملک کی سرحدیں بیلاروس، پولینڈ، سلواکیا، ہنگری، رومینیا، مولڈوا اور روس سے ملتی ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے روس کے بعد یوکرائن مشرقی یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس ملک میں صدارتی نظام رائج ہے، یہ ملک اقوام متحدہ اور کونسل آف یورپ کا رکن ہے۔ یوکرائن کی روس سے آزادی کے بعد مغربی ممالک اور روس نے یوکرائنی سیاست میں مداخلت کا آغاز کیا۔ روس کے لیے یوکرائن میں مخالف حکومت اس کی سکیورٹی کا مسئلہ تھی اور مغرب کے لیے روس کی مخالف حکومت ایک کھلونا۔

کہا جاتا ہے کہ 2004ء کے انتخابات میں روسی حمایت یافتہ صدارتی امیدوار وکٹر یناکووچ کے انتخاب کو یوکرائن کی عدلیہ نے کالعدم قرار دیا، جس کے سبب مغرب کے حمایت یافتہ امیدوار وکٹر یشنکوو کے حق میں عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ ان مظاہروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں مغرب کی مالی اور تربیتی مدد حاصل تھی۔ گارڈین کے مطابق مدد کرنے والوں میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، یو ایس ایڈ اور اسی طرح کے کئی ایک ادارے شامل تھے۔ روس کی جانب سے اپنے حمایت یافتہ امیدوار کو بھرپور مدد فراہم کی گئی اور وہ دوبارہ 2006ء میں ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ 2013ء میں روس نواز یوکرائنی صدر وکٹر یناکووچ کی جانب سے یورپی یونین کے بجائے رشین فیڈریشن کو ترجیح دیئے جانے کے سبب ایک مرتبہ پھر ملک گیر مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔ یوکرائن کے یہ مظاہرین نان وائلنٹ پروٹسٹ آرگنائزیشن کے تربیت یافتہ اور مغرب کی جانب سے مالی امداد کے حامل تھے۔

ان ملک گیر مظاہروں کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر وکٹر یناکووچ کو کرسی صدارت سے اترنا پڑا۔ یوکرائن میں سیاسی تناؤ کے جواب کے طور پر روسی پارلیمان نے کرائمیا کے جزیرے کو روس سے ملحق کرنے کی قرارداد پاس کی۔ کرائمیا کی زیادہ آبادی روسی نژاد ہے، روس نے اس جزیرے پر قبضے کے ساتھ ہی وہاں ریفرنڈم کروایا، جس کے نتائج کے مطابق وہاں کی 97 فیصد آبادی روس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ مغربی ممالک اس ریفرنڈم کو قبول نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس نے مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسند مسلح جدوجہد کی مدد شروع کر دی۔ مغرب اور یوکرائن نے روس پر الزام لگایا کہ وہ علیحدگی پسندوں کی ہتھیاروں اور فوجی بھیج کر مدد کر رہا ہے، جس کی روس نے تردید کی اور کہا کہ علیحدگی پسند تحریک میں شامل ہونے والے افراد اپنی مرضی سے رضاکارانہ طور پر وہاں گئے ہیں۔

ماسکو کا موقف ہے کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی یوکرائن کو ہتھیار اور تربیت فراہم کر رہے ہیں، نیز یوکرائنی افواج کے ہمراہ فوجی مشقیں کرتے ہیں، جو کہ روس کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ گذشتہ برس روس نے یوکرائن کی سرحد پر اپنی افواج کی تعداد کو بڑھا دیا، جس کے سبب دونوں اطراف افواج کے مابین چھوٹی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس وقت روسی افواج کی ایک کثیر تعداد یوکرائن کی سرحد پر موجود ہے، جو کسی بھی وقت بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت ہمارے لیے سرخ لکیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عمل کے پیچھے نیٹو ممبران کی روس کی سرحدوں پر فوجی مراکز قائم کرنے کی خواہش موجود ہے، جسے وہ روس کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ روس نے امریکا کو یوکرائن کے حوالے سے جو مطالبات کی فہرست دی ہے، اس میں روسی سرحدوں کے پاس نیٹو کی مشقوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ ولادمیر پیوٹن یہ بھی چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ سے نکل جائے۔ پیوٹن یوکرائن کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کے بجائے قانونی گارنٹیز کے متقاضی ہیں۔

ترکی کی مانند یوکرائن کو بھی نیٹو کا حصہ بنانے کے حوالے سے نیٹو ممالک کے مابین تشویش پائی جاتی ہے، بعض کا خیال ہے کہ جب تک یوکرائن سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک وہ نیٹو کا حصہ نہیں بن سکتا۔ بعض یوکرائن کو نیٹو کا حصہ بنانے کے حامی ہیں جبکہ بعض دیگر اس وقت روس سے اپنے تعلقات کو مزید خراب کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ موجودہ تناؤ کی فضا میں امریکہ نے تقریبا آٹھ ہزار فوجیوں کو مشرقی یورپ کے لیے مخصوص کیا ہے اور نیٹو نے یورپ کی مشرقی سرحدوں کے تحفظ کے لیے جنگی بیٹرے اور جہاز روانہ کیے ہیں۔ ولادمیر پیوٹن کی ترجمان پیسکوو کا کہنا ہے کہ ہم امریکا اور نیٹو ممبران کی پیش رفت کو دیکھ رہے ہیں، یہ اقدامات یوکرائن کی تناؤ والی فضا کو مزید گھمبیر کرنے کے مترادف ہیں۔

عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ولادمیر پیوٹن اس صورتحال میں یوکرائن پر مکمل قبضے کا حکم دے سکتے ہیں، تاکہ وہ مغرب اور نیٹو کے ساتھ زیادہ موثر انداز سے نمٹ سکیں۔ روس اگر یوکرائن میں اپنی افواج کو داخل کرتا ہے تو اس صورت میں نیٹو ممالک کا روس کے خلاف ردعمل مختلف نوعیت کا ہوسکتا ہے۔ اب تک برطانیہ نے یوکرائن کو ہتھیار مہیا کیے ہیں، جرمنی فیلڈ میڈیکل فیسلٹی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ دیگر ممالک روس کے خلاف معاشی پابندیوں کا سوچ رہے ہیں، تاہم یوکرائن سرد جنگ کے بعد روس اور مغرب کے درمیان ایک زندہ محاذ ہے، جہاں چھوٹی سی غلطی ایک بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔