ھیھات منا الذلہ

  Click to listen highlighted text! امام حسین ؑ صاحب ایمان اور پیکر عمل تھے۔ رات کو خدا سے مناجات کرتے تھے اور دن کو کاروبار اور لوگوں کی رہنمائی فرماتے تھے۔ ہمیشہ ناداروں کی فکر میں رہتے تھے اور ان سے میل ملاپ رکھتے تھے اور ان کی دلجوئی کرتے تھے۔ لوگوں سے فرماتے تھے کہ غریبوں کے ساتھ بیٹھنے سے پرہیز نہ کیا کرو کیونکہ خداوند متکبروں کو دوست نہیں رکھتا جہاں تک ہوتا تھا غریبوں کی مدد کرتے تھے۔ تاریک رات میں کھانے کا سامان کندھے پر اٹھا کر ناداروں کے گھر لے جاتے تھے.امام حسینؑ کوشش کرتے تھے کہ غربت اور چھوٹے اور بڑے کے فرق کو ختم کردیں اور عدل و مساوات کو قائم کریں، لوگوں کو خدا سے آشنا کریں۔ امام حسین ؑ کے زمانے میں ظالم یزید شام کی حکومت پر بیٹھا۔ یزید جھوٹے طریقے سے اپنے آپ کو پیغمبر ؐ کا خلیفہ اور جانشین بتلاتا تھا۔ ملک کی آمدنی شراب نوشی اور قمار بازی اور عیاشی پر خرچ کرتا تھا۔ بیت المال کی دولت اور ناداروں کے مال کو اپنی حکومت کو مضبوط کرنے پر خرچ کرتا تھا۔ قرآن اور اسلام کے دستور کو پامال کرتا تھا جب یزید تخت پر بیٹھا تو اس نے خواہش کی کہ امام حسین ؑ اس کی امامت اور ولایت کو تسلیم کرکے اس کی بیت کریں۔ لیکن امام حسینؑ چونکہ اسلام کے حقیقی ولی اور رہبر تھے اس لئے آپؑ ایک ظالم کی رہبری کو کیسے تسلیم کرتے۔ امام حسین ؑ نے اس بات کی وضاحت شروع کردی اور لوگوں کو خبردار کیا اور فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پامال ہورہا ہے اور باطل اور ظلم غلبہ پارہا ہے۔ اس حالت میں مومن کو چاہیے کہ وہ شہادت کے لئے تیار ہو جائے۔ اللہ کی راہ میں شہادت اور جان قربان کرنا فتح اور کامرانی ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا سوائے ذلت اور خواری کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس دوران کوفہ کے لوگوں نے آپؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی چنانچہ امام حسین ؑ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن یزید کے سپاہیوں نے کوفہ کے نزدیک آپؑ اور آپؑ کے باوفا ساتھیوں کا راستہ بند کردیا۔امام حسین ؑ نے فرمایا:میں ہرگز ذلت و رسوائی کو قبول نہیں کروں گا۔ موت کو ذلت سے بہتر سمجھتا ہوں ۔ یزید کی فوج نے امام حسین ؑ اور آپؑ کے اصحاب کا کربلا میں محاصرہ کرلیا۔ امام ؑ اور آپؑ کے وفادار صحابیوں نے پائیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کے مقابلے میں جنگ کی اور آخر کار سب کے سب روز عاشورہ شہید ہوگئے۔ امام حسین ؑ بھی شہید ہوگئے۔ مگر ظلم و جبر و استبداد کو تسلیم نہیں کیا اور باطل کے سامنے نہیں جھکے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کیا اپنے پاک خون سے اسلام اور قرآن کو خطرے سے نجات دلائی اور اس سے مسلمانوں کو آزادی اور دینداری کا درس دیا۔ اب اسلام کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔آج بھی تمام شیطانی گروہ یزید وقت شیطان بزرگ امریکہ کی سربراہی میں متحدہ ہو کر اسلام ، قرآن اور امت مسلمہ کے خون کے پیاسے ہیں لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اصحابِ امام حسین ؑ کی طرح حقیقی نائب امام زمانہ ؑ ولی امر المسلمین آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اپنے عمل سے وفاداری کا اعلان کریں پھر چاہے ہماری تعداد 72 ہی کیوں نہ ہو۔ خدا کی نصرت اور امام زمانہ ؑ کی تائید سے ظلم و ظالم نیست و نابود ہو جائے گا۔ ReplyReply allForward

امام حسین ؑ صاحب ایمان اور پیکر عمل تھے۔ رات کو خدا سے مناجات کرتے تھے اور دن کو کاروبار اور لوگوں کی رہنمائی فرماتے تھے۔ ہمیشہ ناداروں کی فکر میں رہتے تھے اور ان سے میل ملاپ رکھتے تھے اور ان کی دلجوئی کرتے تھے۔ لوگوں سے فرماتے تھے کہ غریبوں کے ساتھ بیٹھنے سے پرہیز نہ کیا کرو کیونکہ خداوند متکبروں کو دوست نہیں رکھتا جہاں تک ہوتا تھا غریبوں کی مدد کرتے تھے۔ تاریک رات میں کھانے کا سامان کندھے پر اٹھا کر ناداروں کے گھر لے جاتے تھے.امام حسینؑ کوشش کرتے تھے کہ غربت اور چھوٹے اور بڑے کے فرق کو ختم کردیں اور عدل و مساوات کو قائم کریں، لوگوں کو خدا سے آشنا کریں۔ امام حسین ؑ کے زمانے میں ظالم یزید شام کی حکومت پر بیٹھا۔ یزید جھوٹے طریقے سے اپنے آپ کو پیغمبر ؐ کا خلیفہ اور جانشین بتلاتا تھا۔ ملک کی آمدنی شراب نوشی اور قمار بازی اور عیاشی پر خرچ کرتا تھا۔ بیت المال کی دولت اور ناداروں کے مال کو اپنی حکومت کو مضبوط کرنے پر خرچ کرتا تھا۔ قرآن اور اسلام کے دستور کو پامال کرتا تھا جب یزید تخت پر بیٹھا تو اس نے خواہش کی کہ امام حسین ؑ اس کی امامت اور ولایت کو تسلیم کرکے اس کی بیت کریں۔ لیکن امام حسینؑ چونکہ اسلام کے حقیقی ولی اور رہبر تھے اس لئے آپؑ ایک ظالم کی رہبری کو کیسے تسلیم کرتے۔ امام حسین ؑ نے اس بات کی وضاحت شروع کردی اور لوگوں کو خبردار کیا اور فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پامال ہورہا ہے اور باطل اور ظلم غلبہ پارہا ہے۔ اس حالت میں مومن کو چاہیے کہ وہ شہادت کے لئے تیار ہو جائے۔ اللہ کی راہ میں شہادت اور جان قربان کرنا فتح اور کامرانی ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا سوائے ذلت اور خواری کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس دوران کوفہ کے لوگوں نے آپؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی چنانچہ امام حسین ؑ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن یزید کے سپاہیوں نے کوفہ کے نزدیک آپؑ اور آپؑ کے باوفا ساتھیوں کا راستہ بند کردیا۔امام حسین ؑ نے فرمایا:میں ہرگز ذلت و رسوائی کو قبول نہیں کروں گا۔ موت کو ذلت سے بہتر سمجھتا ہوں ۔ یزید کی فوج نے امام حسین ؑ اور آپؑ کے اصحاب کا کربلا میں محاصرہ کرلیا۔ امام ؑ اور آپؑ کے وفادار صحابیوں نے پائیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کے مقابلے میں جنگ کی اور آخر کار سب کے سب روز عاشورہ شہید ہوگئے۔ امام حسین ؑ بھی شہید ہوگئے۔ مگر ظلم و جبر و استبداد کو تسلیم نہیں کیا اور باطل کے سامنے نہیں جھکے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کیا اپنے پاک خون سے اسلام اور قرآن کو خطرے سے نجات دلائی اور اس سے مسلمانوں کو آزادی اور دینداری کا درس دیا۔ اب اسلام کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔آج بھی تمام شیطانی گروہ یزید وقت شیطان بزرگ امریکہ کی سربراہی میں متحدہ ہو کر اسلام ، قرآن اور امت مسلمہ کے خون کے پیاسے ہیں لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اصحابِ امام حسین ؑ کی طرح حقیقی نائب امام زمانہ ؑ ولی امر المسلمین آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اپنے عمل سے وفاداری کا اعلان کریں پھر چاہے ہماری تعداد 72 ہی کیوں نہ ہو۔ خدا کی نصرت اور امام زمانہ ؑ کی تائید سے ظلم و ظالم نیست و نابود ہو جائے گا۔

ReplyReply allForward