بیماروں کی عیادت

  Click to listen highlighted text! آیت اللہ مہدوی کنی حسن اخلاق اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایک اور نشانی بیماروں کی عیادت ہے۔ اسلام نے اس بارے میں بہت تاکید کی ہے۔ بیماروں کی عیادت مسلمانوں کے باہمی حقوق میں سے ایک ہے اور ہر مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کا پابند ہے۔ حضرت امام علی ؑ رسول گرامیؐ اسلام سے یوں نقل فرماتے ہیں: ”ہر مسلمان کی گردن پر دوسرے مسلمان کے تیس حقوق ہیں جن کی ادائیگی ضروری ہے۔ ان حقوق سے رہائی تب ممکن ہے جب وہ ان کو ادا کرے یا اس کا مسلمان بھائی اسے بخش دے (ان حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ) بیماری کے وقت اس کی عیادت کرے۔“ رسول اللہؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے اوپر یہ حق ہے کہ جب اس سے سامنا ہو تو اسے سلام کرے، جب وہ مریض ہو تو اس کی عیادت کرے اور جب وہ مرجائے تو اس کی تشیع جنازہ میں شریک ہو۔“ بیماروں کی عیادت کا ثواب بیماروں کی عیادت کے بارے میں مروی احادیث میں سے یہاں ہم ایک حدیث بطور نمونہ نقل کرتے ہیں۔ حضرت امام ہشتم ؑ کا ارشاد ہے: ”جو مومن اپنے برادر ایمانی کی عیادت صبح کے وقت کرے تو ایک ہزار فرشتے اس کی مشایعت کریں گے اور جب وہ اس کے پاس بیٹھ جائے تو (اللہ کی) رحمت اس کو گھیر لے گی اور وہ صبح تک اس کے لئے طلب مغفرت کرتے رہیں گے۔ اگر شام کے وقت عبادت کو جائے تو صبح تک یہی اجرو ثواب اس کو ملتا رہے گا۔“ بیمار کی عیادت سے حاجت روائی ہوتی ہے بعض احادیث کی رو سے بیمار کے سرہانے کی جانے والی دعا قبولیت کے مرتبہ سے نزدیک تر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم شکستہ دلوں کے شامل حال ہوتا ہے اور بیمار مؤمن اس خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں میں سے کسی بندے کی ملامت کرے گاا ور فرمائے گا۔ اے میرے بندے جب میں مریض ہوا تو تونے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ وہ عرض کرے گا پروردگار منزہ ہے تیری ذات تو تمام بندوں کا رب ہے۔ تونہ درد میں مبتلا ہوتا ہے نہ بیماری میں۔ پس اللہ فرمائے گا تیرا مومن بھائی بیمار ہوا اور تونے اس کی عیادت نہیں کی۔ مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے(اس کے پاس) پاتے اور میں تمہاری حاجتوں کو اپنے ذمے لیتا اور پوری کرتا۔ یہ میرے مومن بندے کو (میرے نزدیک) حاصل احترام کے باعث ہے اور میں رحمن و رحیم ہوں۔“ بیمار کی عیادت کے آداب بیماروں کی عیادت کے کچھ آداب ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ ان آداب میں سے ایک تحفہ دینا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ایک حدیث نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ رسول اللہؐ کا فرمان ہے: ”جو کوئی کسی مریض کو اس کی پسند کی چیز کھلائے اللہ اسے جنت کے پھلوں میں سے کھلائے گا۔“ بیمار کیلئے دعا رسول اللہؐ نے فرمایا: ”بیماروں کی عیادت کرو اور جنازوں کی تشیع میں شرکت کرو۔ یہ کام تمہیں آخرت کی یاد دلائے گا۔ نیز بیماروں کے لئے دعا کرو اور کہو اے اللہ تو اسے صحت یاب فرما اور اسے اپنی بلا سے محفوظ رکھ۔“ حوصلہ دینا بیماروں کی عیادت کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بیمار سے ایسی گفتگو کی جائے جس سے اسے ذہنی آسودگی اور سکون و اطمینان حاصل ہو مثلاً اس سے کہا جائے: آپ کی بیماری جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی اور اللہ آپ کو جلد صحت یاب فرمائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض افراد بیماری کے دوران حوصلہ ہار جاتے ہیں یہاں تک کہ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ بنابریں ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: ”جب تم مریض کے پا س جاؤ تو اسے زندگی کی نوید دو۔ یہ چیز اگرچہ قضا و قدر کو نہیں بدل سکتی لیکن اس سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔“ یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرتؐ سلمان فارسی ؓ کی عیادت کو تشریف لے گئے تو وہاں سے رخصت ہوتے وقت فرمایا: ”اے سلمان ؓ اللہ تیری تکلیف کو برطرف کردے، تیرے گناہ بخش دے اور تیری زندگی کے آخری لمحات تک تیرے دین اور بدن کی حفاظت فرمائے۔“ ملاقات کو طول نہ دینا بیمار کی عیادت کے وقت یہ نکتہ بھی نظر میں رہے کہ بیمار کے پاس زیادہ دیر ٹھہرنا اچھی بات نہیں مگر یہ کہ مریض خود چاہے۔ امیر المومنین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: ”بیماروں کی عیادت کرنے والوں میں اس شخص کا ثواب سب سے زیادہ ہے جو اپنے برادر دینی کی عیادت کے وقت کم ٹھہرے مگر یہ کہ خود مریض چاہتا ہو کہ وہ زیادہ دیر ٹھہرے۔“ کامل عیادت عیادت کے آداب میں سے ایک جس کی رعایت ضروری ہے یہ ہے کہ مریض کے ساتھ محبت و ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ اس سلسلے میں مروی احادیث میں سے ایک رسول اللہؐ کی یہ حدیث ہے: ”کامل عیادت یہ ہے کہ (عیادت کرنے والا) اپنا ہاتھ بیمار کے اوپر رکھے اور اس کا حال پوچھے۔“ مریض سے خاطر تواضع کی توقع نہ رکھنا مریض کی عیادت کا مقصد اس سے اظہار محبت و ہمدردی، اخوت کا حق ادا کرنا اور اجر و ثواب کا حصول ہے۔ بنابریں جو شخض بیمار کی عیادت کو جائے اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اس کی خاطر مدارت کی جائے۔ کیونکہ بیمار تو خود بیماری کے ہاتھوں گرفتار ہے اور اس کے گھر والے اس کی تیمارداری میں مشغول ہوتے ہیں۔ بنابریں عیادت کے لئے جانے والوں کو چاہیے کہ وہ خود ان کی مدد کریں نہ یہ کہ ان کے لئے باعث زحمت بنیں۔ روایت ہے کہ: ”رسول اللہؐ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عیادت کرنے والا مریض کے ہاں کچھ کھائے کیونکہ اس صورت میں اللہ اس کو عیادت کے ثواب سے محروم رکھے گا۔“

آیت اللہ مہدوی کنی

حسن اخلاق اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایک اور نشانی بیماروں کی عیادت ہے۔ اسلام نے اس بارے میں بہت تاکید کی ہے۔ بیماروں کی عیادت مسلمانوں کے باہمی حقوق میں سے ایک ہے اور ہر مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کا پابند ہے۔
حضرت امام علی ؑ رسول گرامیؐ اسلام سے یوں نقل فرماتے ہیں:
”ہر مسلمان کی گردن پر دوسرے مسلمان کے تیس حقوق ہیں جن کی ادائیگی ضروری ہے۔ ان حقوق سے رہائی تب ممکن ہے جب وہ ان کو ادا کرے یا اس کا مسلمان بھائی اسے بخش دے (ان حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ) بیماری کے وقت اس کی عیادت کرے۔“
رسول اللہؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے اوپر یہ حق ہے کہ جب اس سے سامنا ہو تو اسے سلام کرے، جب وہ مریض ہو تو اس کی عیادت کرے اور جب وہ مرجائے تو اس کی تشیع جنازہ میں شریک ہو۔“
بیماروں کی عیادت کا ثواب
بیماروں کی عیادت کے بارے میں مروی احادیث میں سے یہاں ہم ایک حدیث بطور نمونہ نقل کرتے ہیں۔
حضرت امام ہشتم ؑ کا ارشاد ہے:
”جو مومن اپنے برادر ایمانی کی عیادت صبح کے وقت کرے تو ایک ہزار فرشتے اس کی مشایعت کریں گے اور جب وہ اس کے پاس بیٹھ جائے تو (اللہ کی) رحمت اس کو گھیر لے گی اور وہ صبح تک اس کے لئے طلب مغفرت کرتے رہیں گے۔ اگر شام کے وقت عبادت کو جائے تو صبح تک یہی اجرو ثواب اس کو ملتا رہے گا۔“
بیمار کی عیادت سے حاجت روائی ہوتی ہے
بعض احادیث کی رو سے بیمار کے سرہانے کی جانے والی دعا قبولیت کے مرتبہ سے نزدیک تر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم شکستہ دلوں کے شامل حال ہوتا ہے اور بیمار مؤمن اس خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔
رسول اللہؐ کا ارشاد ہے:
”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں میں سے کسی بندے کی ملامت کرے گاا ور فرمائے گا۔ اے میرے بندے جب میں مریض ہوا تو تونے میری عیادت کیوں نہیں کی؟ وہ عرض کرے گا پروردگار منزہ ہے تیری ذات تو تمام بندوں کا رب ہے۔ تونہ درد میں مبتلا ہوتا ہے نہ بیماری میں۔ پس اللہ فرمائے گا تیرا مومن بھائی بیمار ہوا اور تونے اس کی عیادت نہیں کی۔ مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے(اس کے پاس) پاتے اور میں تمہاری حاجتوں کو اپنے ذمے لیتا اور پوری کرتا۔ یہ میرے مومن بندے کو (میرے نزدیک) حاصل احترام کے باعث ہے اور میں رحمن و رحیم ہوں۔“
بیمار کی عیادت کے آداب
بیماروں کی عیادت کے کچھ آداب ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ ان آداب میں سے ایک تحفہ دینا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ایک حدیث نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
رسول اللہؐ کا فرمان ہے:
”جو کوئی کسی مریض کو اس کی پسند کی چیز کھلائے اللہ اسے جنت کے پھلوں میں سے کھلائے گا۔“
بیمار کیلئے دعا
رسول اللہؐ نے فرمایا:
”بیماروں کی عیادت کرو اور جنازوں کی تشیع میں شرکت کرو۔ یہ کام تمہیں آخرت کی یاد دلائے گا۔ نیز بیماروں کے لئے دعا کرو اور کہو اے اللہ تو اسے صحت یاب فرما اور اسے اپنی بلا سے محفوظ رکھ۔“
حوصلہ دینا
بیماروں کی عیادت کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بیمار سے ایسی گفتگو کی جائے جس سے اسے ذہنی آسودگی اور سکون و اطمینان حاصل ہو مثلاً اس سے کہا جائے: آپ کی بیماری جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی اور اللہ آپ کو جلد صحت یاب فرمائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض افراد بیماری کے دوران حوصلہ ہار جاتے ہیں یہاں تک کہ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ بنابریں ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
رسول اللہؐ کا ارشاد ہے:
”جب تم مریض کے پا س جاؤ تو اسے زندگی کی نوید دو۔ یہ چیز اگرچہ قضا و قدر کو نہیں بدل سکتی لیکن اس سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔“
یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرتؐ سلمان فارسی ؓ کی عیادت کو تشریف لے گئے تو وہاں سے رخصت ہوتے وقت فرمایا:
”اے سلمان ؓ اللہ تیری تکلیف کو برطرف کردے، تیرے گناہ بخش دے اور تیری زندگی کے آخری لمحات تک تیرے دین اور بدن کی حفاظت فرمائے۔“
ملاقات کو طول نہ دینا
بیمار کی عیادت کے وقت یہ نکتہ بھی نظر میں رہے کہ بیمار کے پاس زیادہ دیر ٹھہرنا اچھی بات نہیں مگر یہ کہ مریض خود چاہے۔ امیر المومنین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں:
”بیماروں کی عیادت کرنے والوں میں اس شخص کا ثواب سب سے زیادہ ہے جو اپنے برادر دینی کی عیادت کے وقت کم ٹھہرے مگر یہ کہ خود مریض چاہتا ہو کہ وہ زیادہ دیر ٹھہرے۔“
کامل عیادت
عیادت کے آداب میں سے ایک جس کی رعایت ضروری ہے یہ ہے کہ مریض کے ساتھ محبت و ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ اس سلسلے میں مروی احادیث میں سے ایک رسول اللہؐ کی یہ حدیث ہے:
”کامل عیادت یہ ہے کہ (عیادت کرنے والا) اپنا ہاتھ بیمار کے اوپر رکھے اور اس کا حال پوچھے۔“
مریض سے خاطر تواضع کی توقع نہ رکھنا
مریض کی عیادت کا مقصد اس سے اظہار محبت و ہمدردی، اخوت کا حق ادا کرنا اور اجر و ثواب کا حصول ہے۔ بنابریں جو شخض بیمار کی عیادت کو جائے اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اس کی خاطر مدارت کی جائے۔ کیونکہ بیمار تو خود بیماری کے ہاتھوں گرفتار ہے اور اس کے گھر والے اس کی تیمارداری میں مشغول ہوتے ہیں۔ بنابریں عیادت کے لئے جانے والوں کو چاہیے کہ وہ خود ان کی مدد کریں نہ یہ کہ ان کے لئے باعث زحمت بنیں۔
روایت ہے کہ: ”رسول اللہؐ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عیادت کرنے والا مریض کے ہاں کچھ کھائے کیونکہ اس صورت میں اللہ اس کو عیادت کے ثواب سے محروم رکھے گا۔“