اتحاد بین المسلمین

  Click to listen highlighted text! تحریر: راحیل انجم اتحاد کا معنی ہے ایک ہونا، یکجا ہونا، اکٹھے ہونا۔ اتحاد ہمیشہ دو یا دو سے زائد چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اتحاد کی دو صورتیں ہوتی ہیں، پہلی صورت میں اگر دو یا دو سے زائد چیزیں آپس میں ملتی ہیں تو وہ ایک نئی چیز کو جنم تو دیتی لیکن اپنے وجود کو ختم کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے دو رنگ لئے اور ان کو آپس میں ملا دیا اور ایک تیسرا رنگ بن گیا، پہلے دو رنگ جو تھے، ان کا وجود ختم ہوگیا، یہ اتحاد کی ایک قسم ہے۔ دوسری قسم میں دو یا دو سے زائد چیزیں آپس میں ملتی ہیں، لیکن وہ اپنے وجود کو بھی برقرار رکھتی ہیں اور ایک تیسری چیز کو بھی وجود دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹیں، مٹی، ریت، سیمنٹ مل کر ایک عمارت بن جاتی ہیں، لیکن وہیں یہ سب چیزیں اپنے وجود کو بھی برقرار رکھتی ہیں(ہم مسلمانوں کے درمیان بھی اسی اتحاد پر زور دیتے ہیں، مزید جانیئے) ہم اگر اس مکمل کائنات میں نظر دوڑائیں اور اپنے موجودہ نظام شمسی پر غور کریں تو ہم حیران رہ جائیں گے اور یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ مکمل کائنات اور ہمارا نظام شمسی اگر اپنا وجود رکھتا ہے تو فقط اتحاد کی وجہ سے۔ یہ کائنات آگ، پانی، ہوا، مٹی کے یکجا ہونے سے وجود میں آئی۔ سورج نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اگر نظام شمسی سے یکجا نہ ہو، ہوا اور پانی اس نظام سے یکجا نہ ہو، اس دنیا میں زندگی کا تصور بھی ممکن نہ رہے۔ کسان مٹی میں بیج ڈالتا ہے، اگر بیج اور مٹی یکجا نہ ہوں اور ساتھ پانی اور ہوا بھی یکجا نہ ہوں تو انسان اور حیوانات بھوک سے مر جائیں۔ پانی کے قطرے مل کر سمندر بنتے ہیں، اینٹیں مل کر عمارت بنتی ہے، مختلف اعضاء ملتے ہیں، تب جا کر انسانی ڈھانچہ بنتا ہے، نہ صرف یہ کہ یہ مکمل کائنات بلکہ انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزیں بھی دو یا دو سے زائد چیزوں کے یکجا ہونے پر ہی وجود میں آتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مکمل کائنات اگر آج قائم ہے اور زندگی رکھتی ہے، خوبصورت ہے، دلفریب ہے، دلکش ہے تو فقط اور فقط مختلف چیزوں کے یکجا ہونے سے یعنی “اتحاد” سے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو تمام مخلوقات سے افضل قرار دیا اور اس کی وجہ ہمارا عقل و شعور ہے اور یہ عقل و شعور ہمیں اس لئے دیا گیا، تاکہ ہم ایک انسانی معاشرہ تشکیل دیں، جہاں اللہ تعالیٰ اپنا قانون نافذ کرسکے، لیکن یہ انسانی معاشرہ بغیر اتحاد کے ممکن نہیں، ہمیں اس بات پہ غور کرنا پڑے گا کہ جب یہ کائنات بغیر اتحاد کے نہیں چل سکتی تو ایک بہترین انسانی معاشرہ جہاں بھائی چارہ نہ ہو، محبت و الفت نہ ہو، ایمانداری نہ ہو، ایثار و قربانی نہ ہو، وہ بغیر اتحاد کے کیسے وجود میں آئے گا۔؟ انسانیت سے بلند ایک درجہ ہے اور وہ ہے مسلمان ہونا، عالم اسلام کے مسلمانوں کو یقیناً یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ انسانی معاشرہ بغیر اتحاد کے قائم نہیں ہوسکتا تو کیا بغیر مسلمانوں کے آپسی اتحاد کے ہم اکیسویں صدی جو کہ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے، جہاں مذہب کو ویسے ہی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، کیا بغیر اتحاد و وحدت آپسی بھائی چارگی کے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کرسکتے ہیں۔؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔” کیا ہم نے اس آیت کی صریحاً نفی نہیں کی؟ کیا ہم نے اس آیت پر عمل کیا؟ عالم اسلام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپسی اتحاد سے مراد اپنا مسلکی وجود کھونا نہیں اور نہ ہی اختلافی نظریات کو چھوڑنا ہے، بلکہ آپسی اتحاد سے مراد عالم اسلام کے درمیان جو مشترکات ہیں، ان کو مدنظر رکھ کر اختلافات پر تفرقہ کئے بغیر ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام اور ایک دوسرے کے نظریات کو برادشت کرنا ہے، تاکہ عالم اسلام اتحاد کی راہ پر گامزن ہو۔ دنیا کو یہ چیز باور کروانا کہ مسلمان متحد ہیں، اسلام امن و محبت کا دین ہے، جو کہ اتحاد و وحدت کا درس دیتا ہے، تاکہ ہم ایک بہترین انسانی معاشرے کو تشکیل دیں، جہاں پر اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔

تحریر: راحیل انجم

اتحاد کا معنی ہے ایک ہونا، یکجا ہونا، اکٹھے ہونا۔ اتحاد ہمیشہ دو یا دو سے زائد چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اتحاد کی دو صورتیں ہوتی ہیں، پہلی صورت میں اگر دو یا دو سے زائد چیزیں آپس میں ملتی ہیں تو وہ ایک نئی چیز کو جنم تو دیتی لیکن اپنے وجود کو ختم کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے دو رنگ لئے اور ان کو آپس میں ملا دیا اور ایک تیسرا رنگ بن گیا، پہلے دو رنگ جو تھے، ان کا وجود ختم ہوگیا، یہ اتحاد کی ایک قسم ہے۔ دوسری قسم میں دو یا دو سے زائد چیزیں آپس میں ملتی ہیں، لیکن وہ اپنے وجود کو بھی برقرار رکھتی ہیں اور ایک تیسری چیز کو بھی وجود دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹیں، مٹی، ریت، سیمنٹ مل کر ایک عمارت بن جاتی ہیں، لیکن وہیں یہ سب چیزیں اپنے وجود کو بھی برقرار رکھتی ہیں(ہم مسلمانوں کے درمیان بھی اسی اتحاد پر زور دیتے ہیں، مزید جانیئے)

ہم اگر اس مکمل کائنات میں نظر دوڑائیں اور اپنے موجودہ نظام شمسی پر غور کریں تو ہم حیران رہ جائیں گے اور یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ مکمل کائنات اور ہمارا نظام شمسی اگر اپنا وجود رکھتا ہے تو فقط اتحاد کی وجہ سے۔ یہ کائنات آگ، پانی، ہوا، مٹی کے یکجا ہونے سے وجود میں آئی۔ سورج نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اگر نظام شمسی سے یکجا نہ ہو، ہوا اور پانی اس نظام سے یکجا نہ ہو، اس دنیا میں زندگی کا تصور بھی ممکن نہ رہے۔ کسان مٹی میں بیج ڈالتا ہے، اگر بیج اور مٹی یکجا نہ ہوں اور ساتھ پانی اور ہوا بھی یکجا نہ ہوں تو انسان اور حیوانات بھوک سے مر جائیں۔ پانی کے قطرے مل کر سمندر بنتے ہیں، اینٹیں مل کر عمارت بنتی ہے، مختلف اعضاء ملتے ہیں، تب جا کر انسانی ڈھانچہ بنتا ہے، نہ صرف یہ کہ یہ مکمل کائنات بلکہ انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزیں بھی دو یا دو سے زائد چیزوں کے یکجا ہونے پر ہی وجود میں آتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مکمل کائنات اگر آج قائم ہے اور زندگی رکھتی ہے، خوبصورت ہے، دلفریب ہے، دلکش ہے تو فقط اور فقط مختلف چیزوں کے یکجا ہونے سے یعنی “اتحاد” سے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو تمام مخلوقات سے افضل قرار دیا اور اس کی وجہ ہمارا عقل و شعور ہے اور یہ عقل و شعور ہمیں اس لئے دیا گیا، تاکہ ہم ایک انسانی معاشرہ تشکیل دیں، جہاں اللہ تعالیٰ اپنا قانون نافذ کرسکے، لیکن یہ انسانی معاشرہ بغیر اتحاد کے ممکن نہیں، ہمیں اس بات پہ غور کرنا پڑے گا کہ جب یہ کائنات بغیر اتحاد کے نہیں چل سکتی تو ایک بہترین انسانی معاشرہ جہاں بھائی چارہ نہ ہو، محبت و الفت نہ ہو، ایمانداری نہ ہو، ایثار و قربانی نہ ہو، وہ بغیر اتحاد کے کیسے وجود میں آئے گا۔؟

انسانیت سے بلند ایک درجہ ہے اور وہ ہے مسلمان ہونا، عالم اسلام کے مسلمانوں کو یقیناً یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ انسانی معاشرہ بغیر اتحاد کے قائم نہیں ہوسکتا تو کیا بغیر مسلمانوں کے آپسی اتحاد کے ہم اکیسویں صدی جو کہ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے، جہاں مذہب کو ویسے ہی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، کیا بغیر اتحاد و وحدت آپسی بھائی چارگی کے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کرسکتے ہیں۔؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔” کیا ہم نے اس آیت کی صریحاً نفی نہیں کی؟ کیا ہم نے اس آیت پر عمل کیا؟ عالم اسلام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپسی اتحاد سے مراد اپنا مسلکی وجود کھونا نہیں اور نہ ہی اختلافی نظریات کو چھوڑنا ہے، بلکہ آپسی اتحاد سے مراد عالم اسلام کے درمیان جو مشترکات ہیں، ان کو مدنظر رکھ کر اختلافات پر تفرقہ کئے بغیر ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام اور ایک دوسرے کے نظریات کو برادشت کرنا ہے، تاکہ عالم اسلام اتحاد کی راہ پر گامزن ہو۔ دنیا کو یہ چیز باور کروانا کہ مسلمان متحد ہیں، اسلام امن و محبت کا دین ہے، جو کہ اتحاد و وحدت کا درس دیتا ہے، تاکہ ہم ایک بہترین انسانی معاشرے کو تشکیل دیں، جہاں پر اللہ تعالیٰ کے قانون کو نافذ کیا جاسکے۔