یکساں قومی نصاب مسلکی قرار، تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاجی تحریک چلائیں گے، شیعہ علمائے کرام

  Click to listen highlighted text! لاہور : شیعہ علماء نے یکساں قومی نصاب کو مسلکی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور خبردارکیا ہے کہ تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ جامعہ المنتظر لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں مہتمم اعلیٰ جامعۃ المنتظر علامہ محمد افضل حیدری نے کہا کہ پہلی سے پانچویں تک کے نصاب میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی لیکن ہمارے اعتراضات دور کئے بغیر نصاب نافذ کر دیا گیا۔ اب حکومت چھٹی سے آٹھویں تک نیا نصاب نافذ کرنے جا رہی ہے۔ جو یکساں نہیں مسلکی نصاب ہے اسے نافذ کرنے سے پہلے ٹھیک کیا جائے اور ہمارے تحفظات و خدشات کو دور کیا جائے۔ تحریک حسینیہ پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ نصاب کی تمام کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد واضح ہوا ہے کہ اس میں سے غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ بدر، غزوہ خیبر اور دیگر تاریخی مسلمات کو نکال دیا گیا ۔غزوات سے حضرت علیؑ کا ذکر غائب کردیا گیا ہے اور اگر کہیں ذکر کیا بھی گیا ہے تو ایک عام سپاہی کی طرح۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا سمیت اہلبیت کے تذکرے کو نکال دیا گیا ہے، بلکہ متنازع افراد کو اہمیت دی گئی ہے کہ جو پہلے ہی قوم کے درمیان فرقہ وارانہ اور مسلکی فضا کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ قوم کو نصاب پر تحفظات ہیں، ہماری سفارشات کو شامل نہ کیا گیا تو اس کا شدید ردعمل ہوگا۔ شیعہ علما کونسل کے سیکریٹری جنرل علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ یکساں قومی نصاب سے ایک مسلک کے عقائد مسلط کئے جا رہے ہیں۔ چھٹی سے آٹھویں تک کا نصاب مکمل متنازع اور مسلکی ہے۔اس میں ایک مسلک کے علاوہ دیگر کی کوئی نمائندگی نہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ نصاب قوتوں نے تیار کرکے دیا ہے۔ ہمارا سوال ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے یہ نصاب تیار کیا ہے۔ انہیں سامنے لایا جائے۔ شیعہ علما کونسل کے نائب صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ تمام مسالک کو اعتماد میں لیکر نصاب کو حتمی شکل دی جائے، اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ہم پُرامن احتجاجی تحریک چلائیں گے اور اسلام آباد میں علماء کنونشن بلائیں گے، ہمارے تحفظات دُور کئے جائیں، ایسا نصاب بنایا جائے جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔

لاہور : شیعہ علماء نے یکساں قومی نصاب کو مسلکی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور خبردارکیا ہے کہ تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
جامعہ المنتظر لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں مہتمم اعلیٰ جامعۃ المنتظر علامہ محمد افضل حیدری نے کہا کہ پہلی سے پانچویں تک کے نصاب میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی لیکن ہمارے اعتراضات دور کئے بغیر نصاب نافذ کر دیا گیا۔ اب حکومت چھٹی سے آٹھویں تک نیا نصاب نافذ کرنے جا رہی ہے۔ جو یکساں نہیں مسلکی نصاب ہے اسے نافذ کرنے سے پہلے ٹھیک کیا جائے اور ہمارے تحفظات و خدشات کو دور کیا جائے۔ تحریک حسینیہ پاکستان کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ نصاب کی تمام کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد واضح ہوا ہے کہ اس میں سے غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ بدر، غزوہ خیبر اور دیگر تاریخی مسلمات کو نکال دیا گیا ۔غزوات سے حضرت علیؑ کا ذکر غائب کردیا گیا ہے اور اگر کہیں ذکر کیا بھی گیا ہے تو ایک عام سپاہی کی طرح۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا سمیت اہلبیت کے تذکرے کو نکال دیا گیا ہے، بلکہ متنازع افراد کو اہمیت دی گئی ہے کہ جو پہلے ہی قوم کے درمیان فرقہ وارانہ اور مسلکی فضا کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ قوم کو نصاب پر تحفظات ہیں، ہماری سفارشات کو شامل نہ کیا گیا تو اس کا شدید ردعمل ہوگا۔ شیعہ علما کونسل کے سیکریٹری جنرل علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ یکساں قومی نصاب سے ایک مسلک کے عقائد مسلط کئے جا رہے ہیں۔ چھٹی سے آٹھویں تک کا نصاب مکمل متنازع اور مسلکی ہے۔اس میں ایک مسلک کے علاوہ دیگر کی کوئی نمائندگی نہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ نصاب قوتوں نے تیار کرکے دیا ہے۔ ہمارا سوال ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے یہ نصاب تیار کیا ہے۔ انہیں سامنے لایا جائے۔ شیعہ علما کونسل کے نائب صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ تمام مسالک کو اعتماد میں لیکر نصاب کو حتمی شکل دی جائے، اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ہم پُرامن احتجاجی تحریک چلائیں گے اور اسلام آباد میں علماء کنونشن بلائیں گے، ہمارے تحفظات دُور کئے جائیں، ایسا نصاب بنایا جائے جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔