یمن کے صوبہ الحدیدہ سے جارح فورسز کی غیر متوقع عقب نشینی

  Click to listen highlighted text! تحریر: علی احمدی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے اسٹریٹجک صوبے الحدیدہ سے عقب نشینی اختیار کر لی ہے، جس کے بعد اس صوبے پر یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کا قبضہ ہوگیا ہے۔ سعودی سربراہی میں یمن کے خلاف نبرد آزما اتحاد کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ یہ عقب نشینی غیر متوقع تھی اور پہلے سے اس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ دوسری طرف قومی نجات حکومت کی فورسز نے لڑائی کے بغیر اس صوبے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ صوبہ الحدیدہ سے عقب نشینی اختیار کرنے والی فورسز میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز بھی شامل تھیں۔ یہ فورسز الخوخہ نامی قصبے تک پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اس غیر متوقع عقب نشینی نے بہت سے فوجی مبصرین حتیٰ خود ان فورسز کو بھی شدید حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس اچانک عقب نشینی سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث سعودی اتحاد کے حمایت یافتہ مسلح دھڑے ایک دوسرے پر غداری کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن علاقوں سے یہ فورسز پیچھے ہٹی ہیں، وہ بہت شدید اور سخت لڑائی کے بعد ان کے ہاتھ لگے تھے۔ اب وہی علاقے ایک بار پھر صنعاء حکومت کے زیر کنٹرول چلے گئے ہیں اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کنٹرول جنگ کے بغیر انجام پایا ہے۔ یمن کے سابق مستعفی صدر منصور ہادی اور سعودی – اماراتی اتحاد کے مشترکہ ہیڈکوارٹر نے اس بارے میں ایک بیانیہ جاری کیا ہے، جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ صوبہ الحدیدہ سے عقب نشینی 2018ء میں سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں انجام پانے والے معاہدے کی روشنی میں فورسز کی تعیناتی کیلئے انجام پائی ہے۔ اسی طرح اس بیانیے میں کہا گیا ہے کہ عقب نشینی اختیار کرنے والی فورسز کو دیگر محاذوں پر بھی منتقل کیا جانا مقصود ہے۔ اخبار العربی الجدید نے آگاہ ذرائع کے بقول لکھا ہے کہ یمن کے صوبہ الحدیدہ میں سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز کی عقب نشینی یہ کہہ کر انجام دی گئی کہ اسٹاک ہوم معاہدے کی پاسداری کیلئے ہمیں پیچھے ہٹنا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے الحدیدہ بندرگاہ میں مشرقی تاریخی حصوں سے عقب نشینی کی گئی ہے۔ یمن سے متعلق اس معاہدے کی ایک شق یہ تھی کہ سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز صوبہ الحدیدہ اور اس کے مرکز سے باہر نکل جائیں۔ اس معاہدے کی روشنی میں یہ علاقہ ہر قسم کے مسلح عناصر سے عاری ہونا چاہیئے اور مقامی مسلح گروہ اس کی سکیورٹی سنبھالیں گے۔ العربی الجدید سے وابستہ آگاہ ذرائع نے کہا ہے کہ جب عقب نشینی کا آغاز ہوا تو فورسز کی دوبارہ تعیناتی کی جگہ واضح نہیں کی گئی تھی، جس کے باعث ان فورسز کو کسی منصوبہ بندی کے بغیر اور ہنگامی حالت میں علاقے سے باہر نکالا گیا۔ ان میں سے بعض فورسز نے صوبہ تعز کے مغرب میں واقع شہر المخا تک عقب نشینی اختیار کی ہے۔ ان فورسز کی نقل مکانی شروع ہونے کے ساتھ ہی الحدیدہ کے ساحلی علاقوں میں تعینات سرحدی فورسز کے یونٹس نے خود کو نئی صورتحال سے روبرو پایا اور حیرت زدہ ہو کر شدید تشویش کا شکار ہوگئے۔ وہ غداری اور بغاوت کے امکان سے خوفزدہ ہوچکے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے عقب نشینی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بعض فورسز اپنی پوزیشن پر باقی رہیں۔ اپنی چوکیوں پر باقی رہ جانے والی فورسز صنعاء حکومت کی زیر کمان فورسز سے ٹکرا گئیں اور یوں دونوں طرف جانی نقصان بھی ہوا۔ البتہ سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز کا زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ یمنی فورسز کے حملے کی توقع نہیں کر رہی تھیں۔ العربی الجدید کے آگاہ ذرائع نے یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کی جانب سے صوبہ الحدیدہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بارے میں کہا ہے کہ اسٹاک ہوم معاہدہ اس بات کا باعث بنا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے طارق صالح کی زیر کمان فورسز جو العمالقہ بریگیڈز کے نام سے معروف ہیں، عقب نشینی اختیار کرکے المخا اور تعز کی جانب چلی گئی ہیں۔ بعض فورسز طارق صالح کی ہمراہی میں تعز کی جانب گئیں اور وہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ طارق صالح نے عدن اور یمن کے جنوبی حصوں میں موجود اپنی تمام فورسز کو مغربی ساحل کی جانب حرکت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ فورسز ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں پر دوبارہ قبضہ قائم کرنے کیلئے فوجی کارروائی انجام دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کے مغربی ساحل سے متحدہ عرب امارات اور اس کی اتحادی فورسز نے صوبہ مارب میں شکست کے بعد مزید بڑی شکست سے بچنے کیلئے عقب نشینی اختیار کی ہے۔ سعودی اتحاد اس طرح اپنی تمام تر فورسز جنوبی یمن میں جمع کرکے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے باب المندب کے بھرپور دفاع کیلئے تیاری میں مصروف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبہ مارب اور صوبہ الحدیدہ پر قبضے کے بعد یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کا اگلا ہدف آبنائے باب المندب ہوگا۔

تحریر: علی احمدی

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے اسٹریٹجک صوبے الحدیدہ سے عقب نشینی اختیار کر لی ہے، جس کے بعد اس صوبے پر یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کا قبضہ ہوگیا ہے۔ سعودی سربراہی میں یمن کے خلاف نبرد آزما اتحاد کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ یہ عقب نشینی غیر متوقع تھی اور پہلے سے اس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ دوسری طرف قومی نجات حکومت کی فورسز نے لڑائی کے بغیر اس صوبے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ صوبہ الحدیدہ سے عقب نشینی اختیار کرنے والی فورسز میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز بھی شامل تھیں۔ یہ فورسز الخوخہ نامی قصبے تک پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اس غیر متوقع عقب نشینی نے بہت سے فوجی مبصرین حتیٰ خود ان فورسز کو بھی شدید حیرت میں ڈال دیا ہے۔

اس اچانک عقب نشینی سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث سعودی اتحاد کے حمایت یافتہ مسلح دھڑے ایک دوسرے پر غداری کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن علاقوں سے یہ فورسز پیچھے ہٹی ہیں، وہ بہت شدید اور سخت لڑائی کے بعد ان کے ہاتھ لگے تھے۔ اب وہی علاقے ایک بار پھر صنعاء حکومت کے زیر کنٹرول چلے گئے ہیں اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کنٹرول جنگ کے بغیر انجام پایا ہے۔ یمن کے سابق مستعفی صدر منصور ہادی اور سعودی – اماراتی اتحاد کے مشترکہ ہیڈکوارٹر نے اس بارے میں ایک بیانیہ جاری کیا ہے، جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ صوبہ الحدیدہ سے عقب نشینی 2018ء میں سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں انجام پانے والے معاہدے کی روشنی میں فورسز کی تعیناتی کیلئے انجام پائی ہے۔

اسی طرح اس بیانیے میں کہا گیا ہے کہ عقب نشینی اختیار کرنے والی فورسز کو دیگر محاذوں پر بھی منتقل کیا جانا مقصود ہے۔ اخبار العربی الجدید نے آگاہ ذرائع کے بقول لکھا ہے کہ یمن کے صوبہ الحدیدہ میں سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز کی عقب نشینی یہ کہہ کر انجام دی گئی کہ اسٹاک ہوم معاہدے کی پاسداری کیلئے ہمیں پیچھے ہٹنا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے الحدیدہ بندرگاہ میں مشرقی تاریخی حصوں سے عقب نشینی کی گئی ہے۔ یمن سے متعلق اس معاہدے کی ایک شق یہ تھی کہ سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز صوبہ الحدیدہ اور اس کے مرکز سے باہر نکل جائیں۔ اس معاہدے کی روشنی میں یہ علاقہ ہر قسم کے مسلح عناصر سے عاری ہونا چاہیئے اور مقامی مسلح گروہ اس کی سکیورٹی سنبھالیں گے۔

العربی الجدید سے وابستہ آگاہ ذرائع نے کہا ہے کہ جب عقب نشینی کا آغاز ہوا تو فورسز کی دوبارہ تعیناتی کی جگہ واضح نہیں کی گئی تھی، جس کے باعث ان فورسز کو کسی منصوبہ بندی کے بغیر اور ہنگامی حالت میں علاقے سے باہر نکالا گیا۔ ان میں سے بعض فورسز نے صوبہ تعز کے مغرب میں واقع شہر المخا تک عقب نشینی اختیار کی ہے۔ ان فورسز کی نقل مکانی شروع ہونے کے ساتھ ہی الحدیدہ کے ساحلی علاقوں میں تعینات سرحدی فورسز کے یونٹس نے خود کو نئی صورتحال سے روبرو پایا اور حیرت زدہ ہو کر شدید تشویش کا شکار ہوگئے۔ وہ غداری اور بغاوت کے امکان سے خوفزدہ ہوچکے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے عقب نشینی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بعض فورسز اپنی پوزیشن پر باقی رہیں۔

اپنی چوکیوں پر باقی رہ جانے والی فورسز صنعاء حکومت کی زیر کمان فورسز سے ٹکرا گئیں اور یوں دونوں طرف جانی نقصان بھی ہوا۔ البتہ سعودی اتحاد سے وابستہ فورسز کا زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ یمنی فورسز کے حملے کی توقع نہیں کر رہی تھیں۔ العربی الجدید کے آگاہ ذرائع نے یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کی جانب سے صوبہ الحدیدہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بارے میں کہا ہے کہ اسٹاک ہوم معاہدہ اس بات کا باعث بنا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے طارق صالح کی زیر کمان فورسز جو العمالقہ بریگیڈز کے نام سے معروف ہیں، عقب نشینی اختیار کرکے المخا اور تعز کی جانب چلی گئی ہیں۔ بعض فورسز طارق صالح کی ہمراہی میں تعز کی جانب گئیں اور وہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔

طارق صالح نے عدن اور یمن کے جنوبی حصوں میں موجود اپنی تمام فورسز کو مغربی ساحل کی جانب حرکت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ فورسز ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں پر دوبارہ قبضہ قائم کرنے کیلئے فوجی کارروائی انجام دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کے مغربی ساحل سے متحدہ عرب امارات اور اس کی اتحادی فورسز نے صوبہ مارب میں شکست کے بعد مزید بڑی شکست سے بچنے کیلئے عقب نشینی اختیار کی ہے۔ سعودی اتحاد اس طرح اپنی تمام تر فورسز جنوبی یمن میں جمع کرکے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے باب المندب کے بھرپور دفاع کیلئے تیاری میں مصروف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبہ مارب اور صوبہ الحدیدہ پر قبضے کے بعد یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کا اگلا ہدف آبنائے باب المندب ہوگا۔