مارب اور حدیدہ میں انصاراللہ کی دو عظیم کامیابیاں

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی یمن کا انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل صوبہ معجزاتی طور پر جارح قوتوں کے قبضے سے آزاد ہو چکا ہے۔ یمن کی مسلح افواج اور عوام کی اس غیر متوقع کامیابی نے سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے ذہن میں یہ سوال جنم دے دیا ہے کہ سعودی حکمران کب اس حقیقت کو درک کریں گے کہ یمن کے خلاف جنگ کا نتیجہ صرف ان کی اپنی مشکلات میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں: 1)۔ ساحل پر واقع یمن کا صوبہ الحدیدہ جو “تہامہ” نامی علاقے میں واقع ہے، یمن میں ماہی گیری کی اہم ترین بندرگاہ جانا جاتا ہے۔ یہ صوبہ گذشتہ پانچ برس سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فرانس اور امریکہ کے مشترکہ شدید حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس دوران فرانسیسی اور امریکی جنگی جہاز بھی اس ساحلی پٹی پر گولہ باری کرتے رہے ہیں اور یوں دس سے تیس کلومیٹر چوڑی پٹی ان کے مکمل قبضے میں آ چکی تھی۔ دوسری طرف یمن آرمی اور انصاراللہ رضاکار فورسز مسلسل سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ جارح قوتوں کے خلاف فوجی کاروائیاں انجام دینے میں مصروف رہے۔ تین سال پہلے اقوام متحدہ کے نمائندے گریفتھس کی زیر سرپرستی انصاراللہ یمن اور جارح قوتوں کے درمیان سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں مذاکرات منعقد ہوئے اور معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کی رو سے انصاراللہ یمن کو اس علاقے میں فوجی حملوں سے روک دیا گیا جبکہ قابض قوتوں کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ ساحلی علاقوں سے بہرہ مند ہونے میں اںصاراللہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ سعودی حکام نے بھی صوبہ حدیدہ کو فضائی حملوں کا نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا۔ سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد نے ہر گز اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں اںصاراللہ یمن نے بھی چھوٹے پیمانے پر فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔ جیسے جیسے جارح قوتوں کی وعدہ خلافیاں بڑھتی گئیں انصاراللہ یمن کی فوجی کاروائیوں میں بھی تیزی آتی گئی۔ گذشتہ ہفتے بھی انصاراللہ فورسز نے حدیدہ کے ساحلی علاقے میں آپریشن کیا اور متحدہ عرب امارات کی ایک بٹالین فوج کو قیدی بنا لیا۔ یہ واقعہ یمن جنگ کی تاریخ میں بے مثال تھا۔ یوں متحدہ عرب امارات اس نتیجے پر پہنچا کہ یمن آرمی اور انصاراللہ یمن صوبہ الحدیدہ کو صوبہ مارب سے پہلے آزاد کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دوسری طرف وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھا کہ اس کی فورسز میں انصاراللہ یمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یوں متحدہ عرب امارات نے اس صوبے کو خالی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ 2)۔ اماراتی حکمرانوں نے اپنی اس عظیم ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ دعوی کیا کہ یمن کے صوبہ الحدیدہ سے ان کی پسماندگی طے شدہ حکمت عملی کے تحت انجام پائی ہے اور ان کا مقصد تعز اور عدن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ بعض فوجی ماہرین نے بھی یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ صوبہ الحدیدہ سے پیچھے ہٹنے والی فورسز کو مارب بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ تعز میں اس وقت بھی اہم اور حساس علاقوں پر انصاراللہ کا قبضہ ہے۔ تعز کے شمال میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کا حامل پہاڑی سلسلہ بھی انصاراللہ کے کنٹرول میں ہے۔ اگر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز تعز شہر میں بھیجی جائیں تو اس کا مطلب انہیں انصاراللہ کے سامنے قربانی کا بکرا بنانا ہو گا۔ اسی طرح ان فورسز کی مارب کی جانب روانگی بھی نامعقول دکھائی دیتی ہے۔ 3)۔ صوبہ الحدیدہ کے حساس علاقوں سے اماراتی فورسز کی پسپائی یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کیلئے جنگ بہت آسان کر دے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یمن کے باقی ساحلی علاقوں کی نسبت صوبہ الحدیدہ کا ساحلی علاقہ سب سے زیادہ طویل ہے اور 200 کلومیٹر لمبا ہے۔ دوسری طرف اسٹاک ہوم معاہدے کی رو سے انصاراللہ یمن کو اس ساحلی علاقے سے درآمدات اور برآمدات کی اجازت حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبہ الحدیدہ کی آزادی کے بعد انصاراللہ یمن کے خلاف جاری محاصرہ بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ یمن کی مظلوم قوم اور انقلابی فورسز کیلئے بہت بڑی فتح اور کامیابی ہے۔ اب اگر یمن کے خلاف فضائی اور زمینی محاصرہ جاری بھی رہتا ہے تو وہ بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ انصاراللہ یمن اب اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر بحیرہ احمر سے بنیادی ضرورت کا سامان ملک کے اندر منتقل کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ 4)۔ یمن کے صوبہ الحدیدہ میں حاصل ہونے والی یہ عظیم کامیابی یمنی مجاہدین کو عطا ہونے والا خدا کا تحفہ ہے۔ انصاراللہ یمن نے صوبہ مارب میں گذشتہ چند ماہ سے بڑا فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور اب وہ صوبے کے مرکز مارب شہر کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔ وہ سعودی جنگی طیاروں کے شدید فضائی حملوں کے مقابلے میں بے مثال استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صوبہ مارب میں بھی عنقریب انصاراللہ بہت بڑی فتح سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔ ایسے میں الحدیدہ کی آزادی نے یمنی مجاہدین کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ حدیدہ کا صوبہ تہامہ خطے کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جو یمن کے تین صوبوں پر مشتمل ہے اور اس میں 419 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے۔ اس ساحل کا 90 فیصد حصہ اس وقت انصاراللہ یمن کے قبضے میں آ چکا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

یمن کا انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل صوبہ معجزاتی طور پر جارح قوتوں کے قبضے سے آزاد ہو چکا ہے۔ یمن کی مسلح افواج اور عوام کی اس غیر متوقع کامیابی نے سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے ذہن میں یہ سوال جنم دے دیا ہے کہ سعودی حکمران کب اس حقیقت کو درک کریں گے کہ یمن کے خلاف جنگ کا نتیجہ صرف ان کی اپنی مشکلات میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
1)۔ ساحل پر واقع یمن کا صوبہ الحدیدہ جو “تہامہ” نامی علاقے میں واقع ہے، یمن میں ماہی گیری کی اہم ترین بندرگاہ جانا جاتا ہے۔ یہ صوبہ گذشتہ پانچ برس سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فرانس اور امریکہ کے مشترکہ شدید حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

اس دوران فرانسیسی اور امریکی جنگی جہاز بھی اس ساحلی پٹی پر گولہ باری کرتے رہے ہیں اور یوں دس سے تیس کلومیٹر چوڑی پٹی ان کے مکمل قبضے میں آ چکی تھی۔ دوسری طرف یمن آرمی اور انصاراللہ رضاکار فورسز مسلسل سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ جارح قوتوں کے خلاف فوجی کاروائیاں انجام دینے میں مصروف رہے۔ تین سال پہلے اقوام متحدہ کے نمائندے گریفتھس کی زیر سرپرستی انصاراللہ یمن اور جارح قوتوں کے درمیان سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں مذاکرات منعقد ہوئے اور معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کی رو سے انصاراللہ یمن کو اس علاقے میں فوجی حملوں سے روک دیا گیا جبکہ قابض قوتوں کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ ساحلی علاقوں سے بہرہ مند ہونے میں اںصاراللہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ سعودی حکام نے بھی صوبہ حدیدہ کو فضائی حملوں کا نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا۔

سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد نے ہر گز اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں اںصاراللہ یمن نے بھی چھوٹے پیمانے پر فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔ جیسے جیسے جارح قوتوں کی وعدہ خلافیاں بڑھتی گئیں انصاراللہ یمن کی فوجی کاروائیوں میں بھی تیزی آتی گئی۔ گذشتہ ہفتے بھی انصاراللہ فورسز نے حدیدہ کے ساحلی علاقے میں آپریشن کیا اور متحدہ عرب امارات کی ایک بٹالین فوج کو قیدی بنا لیا۔ یہ واقعہ یمن جنگ کی تاریخ میں بے مثال تھا۔ یوں متحدہ عرب امارات اس نتیجے پر پہنچا کہ یمن آرمی اور انصاراللہ یمن صوبہ الحدیدہ کو صوبہ مارب سے پہلے آزاد کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دوسری طرف وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھا کہ اس کی فورسز میں انصاراللہ یمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یوں متحدہ عرب امارات نے اس صوبے کو خالی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

2)۔ اماراتی حکمرانوں نے اپنی اس عظیم ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ دعوی کیا کہ یمن کے صوبہ الحدیدہ سے ان کی پسماندگی طے شدہ حکمت عملی کے تحت انجام پائی ہے اور ان کا مقصد تعز اور عدن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ بعض فوجی ماہرین نے بھی یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ صوبہ الحدیدہ سے پیچھے ہٹنے والی فورسز کو مارب بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ تعز میں اس وقت بھی اہم اور حساس علاقوں پر انصاراللہ کا قبضہ ہے۔ تعز کے شمال میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کا حامل پہاڑی سلسلہ بھی انصاراللہ کے کنٹرول میں ہے۔ اگر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز تعز شہر میں بھیجی جائیں تو اس کا مطلب انہیں انصاراللہ کے سامنے قربانی کا بکرا بنانا ہو گا۔ اسی طرح ان فورسز کی مارب کی جانب روانگی بھی نامعقول دکھائی دیتی ہے۔

3)۔ صوبہ الحدیدہ کے حساس علاقوں سے اماراتی فورسز کی پسپائی یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کیلئے جنگ بہت آسان کر دے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یمن کے باقی ساحلی علاقوں کی نسبت صوبہ الحدیدہ کا ساحلی علاقہ سب سے زیادہ طویل ہے اور 200 کلومیٹر لمبا ہے۔ دوسری طرف اسٹاک ہوم معاہدے کی رو سے انصاراللہ یمن کو اس ساحلی علاقے سے درآمدات اور برآمدات کی اجازت حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبہ الحدیدہ کی آزادی کے بعد انصاراللہ یمن کے خلاف جاری محاصرہ بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ یمن کی مظلوم قوم اور انقلابی فورسز کیلئے بہت بڑی فتح اور کامیابی ہے۔ اب اگر یمن کے خلاف فضائی اور زمینی محاصرہ جاری بھی رہتا ہے تو وہ بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ انصاراللہ یمن اب اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر بحیرہ احمر سے بنیادی ضرورت کا سامان ملک کے اندر منتقل کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔

4)۔ یمن کے صوبہ الحدیدہ میں حاصل ہونے والی یہ عظیم کامیابی یمنی مجاہدین کو عطا ہونے والا خدا کا تحفہ ہے۔ انصاراللہ یمن نے صوبہ مارب میں گذشتہ چند ماہ سے بڑا فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور اب وہ صوبے کے مرکز مارب شہر کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔ وہ سعودی جنگی طیاروں کے شدید فضائی حملوں کے مقابلے میں بے مثال استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صوبہ مارب میں بھی عنقریب انصاراللہ بہت بڑی فتح سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔ ایسے میں الحدیدہ کی آزادی نے یمنی مجاہدین کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ حدیدہ کا صوبہ تہامہ خطے کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جو یمن کے تین صوبوں پر مشتمل ہے اور اس میں 419 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے۔ اس ساحل کا 90 فیصد حصہ اس وقت انصاراللہ یمن کے قبضے میں آ چکا ہے۔