ٹی ٹی پی کی صحافیوں کو دھمکی

  Click to listen highlighted text! رپورٹ: عدیل زیدی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ایک طویل عرصہ تک جاری رہنے والی قتل و غارت گری کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے لانچ کئے گئے کئی فوجی آپریشنز کے نتیجے میں روکا گیا اور ملک میں امن قائم ہوا، تاہم پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستان میں موجود وہ دہشتگرد گروہ جو افغان جہاد یا افغان طالبان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں، ایک مرتبہ پھر متحرک ہوسکتے ہیں۔ گو کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستانی حکام کے تحفظات پر وضاحت دے چکے ہیں اور یہ یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو کسی صورت پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، تاہم اس کے باوجود یہ خطرہ اپنی جگہ موجود تھا، جو گذشتہ دنوں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے صحافیوں کو دی گئی سنگین دھمکیوں کی صورت میں منظر عام پر آگیا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں ان کے ترجمان محمد خراسانی نے کہا ہے کہ وہ میڈیا کوریج پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس میں ٹی ٹی پی کی تشہیر ’’دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں‘‘ جیسے نفرت انگیز القابات سے کی جا رہی ہے، خراسانی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے لیے اس طرح کی اصلاحات کے استعمال سے میڈیا اور صحافیوں کا جانبدارانہ کردار ظاہر ہوتا ہے اور یہ صحافت کے پیشے پر بدنما داغ ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی میڈیا نے ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم کہنا اس وقت شروع کیا، جب اس نے سلسلہ وار حملوں میں شہریوں کو ہدف بنانا شروع کیا اور حکومت کی جانب سے اس پر پابندی عائد کی گئی۔ ٹی ٹی پی پاکستان میں فعال رہنے والے ان مختلف عسکریت پسند تنظیموں کا گروپ ہے، جو 2007ء میں تشکیل دیا گیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے اگست 2008ء میں اسے کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا، بیت اللہ محسود ٹی ٹی پی کا پہلا سربراہ تھا، جو 2009ء میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ حکومت نے ٹی ٹی پی سے منسلک دیگر گروپوں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی اور 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت میڈیا کو ’’دہشتگردوں کی تعریف‘‘ سے روک دیا گیا۔ محمد خراسانی نے اپنے تازہ بیان میں مزید کہا کہ میڈیا ایک فریق کے کہنے پر ٹی ٹی پی کے خلاف اس طرح کے قابل نفرت الفاظ استعمال کر رہا ہے، جو اسے اپنا دشمن منتخب کرچکا ہے، لہذا میڈیا کو انہیں تحریک طالبان پاکستان کے نام سے پکارنا چاہیئے۔ خراسانی نے اپنے بیان میں تنبیہ کی کہ اگر میڈیا پیشہ وارانہ بددیانتی کرے گا تو وہ اپنے لیے خود دشمن پیدا کرے گا۔ یاد رہے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران ملک بھر میں بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں متعدد پاکستانی صحافیوں کو دہشتگردوں کی جانب سے قتل، زخمی اور اغواء کیا گیا۔ صرف فاٹا اور کے پی میں ہی تقریباً 30 صحافیوں کو عسکری کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگز میں نشانہ بنایا گیا۔ بعض واقعات میں صحافیوں کے اہلخانہ کو قتل کیا گیا یا انہیں آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ جب اس صورتحال پر بات کرنے کیلئے قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی جمیل خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے لیٹر پیڈ پر چند روز قبل ایک تحریر جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافی، جو چاہے نیشنل میڈیا کے ساتھ ہوں یا انٹرنیشنل میڈیا سے منسلک ہوں، وہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ یا تو ’’کالعدم‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا پھر ٹی ٹی پی کے کسی بھی رکن کی موت کی صورت میں ’’ہلاک‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جس پر انہیں تشویش ہے۔ جمیل خان کے بقول ٹی ٹی پی نے صحافیوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کیلئے کالعدم یا ہلاک کا لفظ استعمال کیا تو ان کی جانوں کو خطرہ ہوگا اور وہ ازخود اس دشمنی کا آغاز کرینگے۔ اس دھمکی کے بعد خیبر پختونخوا خاص طور پر قبائلی اضلاع کے صحافی خود کو بہت غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ جمیل خان نے مزید بتایا کہ پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں صرف قبائلی اضلاع میں ایک درجن سے زائد صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جا چکا ہے، کئی صحافی اغواء ہوچکے ہیں، کئی ایک کے خاندانوں کو ٹارچر کیا جاچکا ہے۔ صحافی جیمل خان نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر صحافی حضرات انٹرنیشنل میڈیا کیساتھ منسلک ہیں، لہذا اس صورتحال میں خصوصاً ایسے صحافی خود کو انتہائی غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں، اس حوالے سے حکومت اور صحافیوں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کی جانب سے کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ صحافی جمیل خان کی گفتگو کا جائزہ لیا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک مرتبہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافی اس کیلئے آسان ہدف ثابت ہوسکتے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کے اعلان کے بعد اس کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کو افغان سرزمین پر اب مشکلات پیش آسکتی ہیں، کیونکہ یاد رہے کہ پاکستان میں فوجی آپریشنز کے بعد ٹی ٹی پی کے کئی دہشتگرد افغان فرار ہوگئے تھے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں ٹی ٹی پی خود کو غیر محفوظ تصور کرے گی، لہذا عین ممکن ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے اراکین کسی محفوظ راستے کی تلاش کی خاطر حکومت پاکستان پر دباو ڈالنے کی کوشش کریں اور صحافیوں کو دی جانے والی یہ دھمکی ’’سوئی ہوئی‘‘ ٹی ٹی پی کیلئے دوبارہ میدان میں آنے کا ایک طریقہ کار ہوسکتا ہے۔ حکومت پاکستان اور ملکی سکیورٹی اداروں کو اس صورتحال کو انتہائی باریکی سے دیکھنے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ جو امن اسی ہزار پاکستانیوں کی قربانیاں دینے کے بعد قائم ہوا ہے، اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔

رپورٹ: عدیل زیدی

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ایک طویل عرصہ تک جاری رہنے والی قتل و غارت گری کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے لانچ کئے گئے کئی فوجی آپریشنز کے نتیجے میں روکا گیا اور ملک میں امن قائم ہوا، تاہم پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستان میں موجود وہ دہشتگرد گروہ جو افغان جہاد یا افغان طالبان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں، ایک مرتبہ پھر متحرک ہوسکتے ہیں۔ گو کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستانی حکام کے تحفظات پر وضاحت دے چکے ہیں اور یہ یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو کسی صورت پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، تاہم اس کے باوجود یہ خطرہ اپنی جگہ موجود تھا، جو گذشتہ دنوں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے صحافیوں کو دی گئی سنگین دھمکیوں کی صورت میں منظر عام پر آگیا۔

ٹی ٹی پی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں ان کے ترجمان محمد خراسانی نے کہا ہے کہ وہ میڈیا کوریج پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس میں ٹی ٹی پی کی تشہیر ’’دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں‘‘ جیسے نفرت انگیز القابات سے کی جا رہی ہے، خراسانی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے لیے اس طرح کی اصلاحات کے استعمال سے میڈیا اور صحافیوں کا جانبدارانہ کردار ظاہر ہوتا ہے اور یہ صحافت کے پیشے پر بدنما داغ ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی میڈیا نے ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم کہنا اس وقت شروع کیا، جب اس نے سلسلہ وار حملوں میں شہریوں کو ہدف بنانا شروع کیا اور حکومت کی جانب سے اس پر پابندی عائد کی گئی۔ ٹی ٹی پی پاکستان میں فعال رہنے والے ان مختلف عسکریت پسند تنظیموں کا گروپ ہے، جو 2007ء میں تشکیل دیا گیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے اگست 2008ء میں اسے کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا، بیت اللہ محسود ٹی ٹی پی کا پہلا سربراہ تھا، جو 2009ء میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

حکومت نے ٹی ٹی پی سے منسلک دیگر گروپوں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی اور 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت میڈیا کو ’’دہشتگردوں کی تعریف‘‘ سے روک دیا گیا۔ محمد خراسانی نے اپنے تازہ بیان میں مزید کہا کہ میڈیا ایک فریق کے کہنے پر ٹی ٹی پی کے خلاف اس طرح کے قابل نفرت الفاظ استعمال کر رہا ہے، جو اسے اپنا دشمن منتخب کرچکا ہے، لہذا میڈیا کو انہیں تحریک طالبان پاکستان کے نام سے پکارنا چاہیئے۔ خراسانی نے اپنے بیان میں تنبیہ کی کہ اگر میڈیا پیشہ وارانہ بددیانتی کرے گا تو وہ اپنے لیے خود دشمن پیدا کرے گا۔ یاد رہے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران ملک بھر میں بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں متعدد پاکستانی صحافیوں کو دہشتگردوں کی جانب سے قتل، زخمی اور اغواء کیا گیا۔ صرف فاٹا اور کے پی میں ہی تقریباً 30 صحافیوں کو عسکری کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگز میں نشانہ بنایا گیا۔ بعض واقعات میں صحافیوں کے اہلخانہ کو قتل کیا گیا یا انہیں آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

جب اس صورتحال پر بات کرنے کیلئے قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی جمیل خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے لیٹر پیڈ پر چند روز قبل ایک تحریر جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے صحافی، جو چاہے نیشنل میڈیا کے ساتھ ہوں یا انٹرنیشنل میڈیا سے منسلک ہوں، وہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ یا تو ’’کالعدم‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا پھر ٹی ٹی پی کے کسی بھی رکن کی موت کی صورت میں ’’ہلاک‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جس پر انہیں تشویش ہے۔ جمیل خان کے بقول ٹی ٹی پی نے صحافیوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کیلئے کالعدم یا ہلاک کا لفظ استعمال کیا تو ان کی جانوں کو خطرہ ہوگا اور وہ ازخود اس دشمنی کا آغاز کرینگے۔ اس دھمکی کے بعد خیبر پختونخوا خاص طور پر قبائلی اضلاع کے صحافی خود کو بہت غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔

جمیل خان نے مزید بتایا کہ پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں، جن میں صرف قبائلی اضلاع میں ایک درجن سے زائد صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جا چکا ہے، کئی صحافی اغواء ہوچکے ہیں، کئی ایک کے خاندانوں کو ٹارچر کیا جاچکا ہے۔ صحافی جیمل خان نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر صحافی حضرات انٹرنیشنل میڈیا کیساتھ منسلک ہیں، لہذا اس صورتحال میں خصوصاً ایسے صحافی خود کو انتہائی غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں، اس حوالے سے حکومت اور صحافیوں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کی جانب سے کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ صحافی جمیل خان کی گفتگو کا جائزہ لیا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک مرتبہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافی اس کیلئے آسان ہدف ثابت ہوسکتے ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کے اعلان کے بعد اس کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کو افغان سرزمین پر اب مشکلات پیش آسکتی ہیں، کیونکہ یاد رہے کہ پاکستان میں فوجی آپریشنز کے بعد ٹی ٹی پی کے کئی دہشتگرد افغان فرار ہوگئے تھے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں ٹی ٹی پی خود کو غیر محفوظ تصور کرے گی، لہذا عین ممکن ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے اراکین کسی محفوظ راستے کی تلاش کی خاطر حکومت پاکستان پر دباو ڈالنے کی کوشش کریں اور صحافیوں کو دی جانے والی یہ دھمکی ’’سوئی ہوئی‘‘ ٹی ٹی پی کیلئے دوبارہ میدان میں آنے کا ایک طریقہ کار ہوسکتا ہے۔ حکومت پاکستان اور ملکی سکیورٹی اداروں کو اس صورتحال کو انتہائی باریکی سے دیکھنے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ جو امن اسی ہزار پاکستانیوں کی قربانیاں دینے کے بعد قائم ہوا ہے، اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔