کھیل کے ذریعہ تربیت

  Click to listen highlighted text! امام جعفر صادق ؑ روز بروز بڑے ہوتے جارہے تھے۔ وہ بچپن ہی سے اپنے بابا امام محمد باقر ؑ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور زبان میں بڑی مٹھاس تھی۔ ہمیشہ آرام سے اور خوبصورت انداز میں گفتگو فرماتے۔ جو بھی آپؑ کی میٹھی باتیں سنتا وہ یہی چاہتا کہ ہمیشہ آپؑ کے پاس بیٹھا رہے اور آپؑ کی پیاری باتیں سنتا رہے۔امام محمد باقر ؑ کے گھر میں دروس ہوتے رہتے تھے۔ روزانہ کئی شاگرد یہاں آتے اور امام ؑ کا درس سنتے۔ جعفر صادق ؑ بھی بچپن ہی سے ان دروس میں شرکت کیا کرتے تھے۔ وہ اتنے ذہین تھے کہ جو کچھ ان کے والد بتاتے ، وہ سب یاد کرلیتے اور ہمیشہ کے لئے اپنے ذہن میں محفوظ رکھتے۔ آپ ؑ جو کچھ سیکھتے اسے اپنی زندگی میں کام میں لاتے۔ایک دن جعفر صادق ؑ اپنے گھر سے باہر نکلے۔ اس وقت وہ ایک کمسن بچے تھے۔ آپؑ نے دیکھا کہ پڑوسیوں کے بچے باہر جمع ہیں۔ ایک بچے نے آپؑ کو دیکھتے ہی کہا:” آﺅاستاد اور شاگرد والا کھیل کھیلتے ہیں۔“سب بچے خوش ہو کر آپؑ کے چاروں طرف جمع ہوگئے۔ آپؑ نے محبت بھری نظروں سے انہیں دیکھا۔ چونکہ بچے ان کو دیکھ کر خوش ہوگئے تھے اس لئے آپؑ بھی بہت خوش ہوئے اور اس عنایت پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد سب بچے ایک دیوار کے پاس بیٹھ گئے اور پھرقرعہ اندازی کی گئی تاکہ جس بچے کا نام نکل آئے وہ استاد بن جائے اور دوسرے اس کے شاگرد۔ پھر استاد کو شاگردوں سے سوال کرنا تھا اور دوسروں کو جواب دینا تھا۔ پھر جو صحیح جواب دیتا وہ استاد بن جاتا اور پھر وہ سوال کرتا اور اس طرح سے کھیل جاری رہتا۔قرعہ اندازی میں جس بچے کا نام نکلا اس نے سب بچوں سے سوال کیا۔”وہ کون سا پھل ہے جو زرد رنگ کا بھی ہوتا ہے اور سرخ رنگ کا بھی ۔ میٹھا بھی ہوتا ہے اور کھٹا بھی۔ اس میں بہت سے دانے بھی ہوتے ہیں۔“سب بچے سوچنے لگے او ر پھر ایک نے سر اٹھا کر کہا:”سیب!“”نہیں ، سیب میں تو زیادہ دانے نہیں ہوتے۔“ استاد نے مسکرا کر کہا۔یہ سن کر ایک بار پھر سارے بچے سوچ میں پڑ گئے۔ لیکن کسی کی سمجھ میں جواب نہیں آرہا تھا۔ اب سب بچے اشتیاق بھری نظروں سے جعفر صادق ؑ کو دیکھنے لگے۔ انہیں امید تھی کہ یہ ذہین بچہ یقینا جواب دے سکتا ہے۔جعفر صادق ؑ نے آرام سے کہا” وہ پھل ، انار ہے۔“جواب درست تھا اس لئے اب استاد بننے کی باری جعفر صادق ؑ کی تھی۔ اس لئے وہ کھڑے ہوئے اور استاد کی جگہ پر آکر سوالات کئے۔ ان کے سوالات ہمیشہ آسان ہوا کرتے تھے لیکن ان میں سے ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی ایسا نکتہ ضرور پوشیدہ ہوتا تھا جس سے بچے کچھ سیکھتے تھے۔اس کے بعد ایک اور بچہ کی باری آئی۔ وہ کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا:’ وہ کون سا پھل ہے جو گول بھی ہوتا ہے اور چھوٹا بھی ۔ جو سفید بھی ہوتا ہے اور سیاہ بھی۔ وہ میٹھا بھی ہوتا ہے اور اس میں چھوٹے چھوٹے دانے بھی ہوتے ہیں؟“”یہ انجیر ہے۔“ جعفر صادق ؑ نے فوراً جواب دیا۔اس بچے کو یہ توقع نہیں تھی کہ اتنی جلدی درست جواب مل جائے گا اور اسے استاد سے شاگرد بننا پڑے گا۔ اسی لئے اس نے سر نفی میں ہلا کر کہا۔’ ’ نہیں !یہ انجیر نہیں ہے۔“سب بچے ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئے۔ لیکن جعفر صادق ؑ نے دوبارہ قطعی لہجے میں کہا:” انجیر ہی ہے۔“استاد بننے والا بچہ مکاری سے مسکرایا تو بچے دوبارہ سوچنے لگے اور ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہنے لگا۔ جب کسی کا جواب درست نہیں ہوا تو ایک لڑکا بول اٹھا،” اگر انجیر نہیں ہے تو خود ہی بتادو وہ کون سا پھل ہے۔“”جواب تم لوگوں کو دینا چاہیے۔“ لڑکے نے ٹال دیا۔جعفر صادق ؑ نے کہا:’ ’ ہم جواب دے چکے ہیں۔ اب اگر تم سمجھتے ہو کہ ہمارا جواب درست نہیں ہے تو خود ہی بتاﺅ کہ صحیح جواب کیا ہے۔“اب وہ بچہ بہت ہی پریشان ہوا کہ کیا جواب دے۔ اگر یہ کہہ دے کہ وہ انجیر ہی ہے تو اس کا جھوٹ کھل جائے گا اور اگر کسی اور پھل کا نام لے تو وہ سوال کے مطابق نہیں ہوگا۔جب وہ کچھ نہ بولا تو بچے سمجھ گئے کہ اس نے بے ایمانی کی ہے۔ اسی لمحہ جعفر صادق ؑ کھڑے ہوئے اور وہاں سے چلے گئے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کیا کھیل کی خاطر انسان کو جھوٹ بولنا چاہیے؟ان کو اس بچے کے جھوٹ کی وجہ سے بہت کوفت ہورہی تھی۔بچوں کا کھیل خراب ہونے ہی والا تھا کہ اس بچے نے کہا:” اگر جعفر ؑ ہمارے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتے تو نہ کھیلیں ہم آپس میں خود ہی کھیل لیتے ہیں۔“کھیل ایک بار پھر شروع ہوگیا لیکن جو بھی سوال پوچھا جاتا ، اتفاق سے کوئی بھی اس کا صحیح جواب نہیں دے پارہا تھا۔ اس لئے آہستہ آہستہ کھیل میں مزہ کم ہونے لگا۔ سب لوگ سمجھ گئے کہ اگر جعفر صادق ؑ ان کے ساتھ نہیں ہوں گے تو کھیل میں مزہ نہیں آئے گا۔ اسی لئے وہ جعفر صادق ؑ کے پاس پہنچے ۔ آپؑ نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور محبت سے بولے:” میں ایک شرط پر تمہارے ساتھ کھیلوں گا۔“”کیا شرط؟“”اس شرط پر کہ کوئی جھوٹ نہیں بولے گا۔“”ٹھیک ہے ! اب کوئی جھوٹ نہیں بولے گا۔“ سب سے پہلے اسی لڑکے نے جواب دیا۔یہ سن کر جعفر صادق ؑ اٹھ کھڑے ہوئے تو سب بچوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اور ایک بار پھر ان کا دلچسپ کھیل شروع ہوگیا۔پیارے بچو! ہمیں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے اور جھوٹ سے بچنا چاہیے چاہے آپس میں مذاق کررہے ہوں یا کھیل کھیل رہے ہوں۔ ہر وقت جھوٹ سے بچنا چاہیے۔ ReplyReply allForward

امام جعفر صادق ؑ روز بروز بڑے ہوتے جارہے تھے۔ وہ بچپن ہی سے اپنے بابا امام محمد باقر ؑ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور زبان میں بڑی مٹھاس تھی۔ ہمیشہ آرام سے اور خوبصورت انداز میں گفتگو فرماتے۔ جو بھی آپؑ کی میٹھی باتیں سنتا وہ یہی چاہتا کہ ہمیشہ آپؑ کے پاس بیٹھا رہے اور آپؑ کی پیاری باتیں سنتا رہے۔
امام محمد باقر ؑ کے گھر میں دروس ہوتے رہتے تھے۔ روزانہ کئی شاگرد یہاں آتے اور امام ؑ کا درس سنتے۔ جعفر صادق ؑ بھی بچپن ہی سے ان دروس میں شرکت کیا کرتے تھے۔ وہ اتنے ذہین تھے کہ جو کچھ ان کے والد بتاتے ، وہ سب یاد کرلیتے اور ہمیشہ کے لئے اپنے ذہن میں محفوظ رکھتے۔ آپ ؑ جو کچھ سیکھتے اسے اپنی زندگی میں کام میں لاتے۔
ایک دن جعفر صادق ؑ اپنے گھر سے باہر نکلے۔ اس وقت وہ ایک کمسن بچے تھے۔ آپؑ نے دیکھا کہ پڑوسیوں کے بچے باہر جمع ہیں۔ ایک بچے نے آپؑ کو دیکھتے ہی کہا:” آﺅاستاد اور شاگرد والا کھیل کھیلتے ہیں۔“
سب بچے خوش ہو کر آپؑ کے چاروں طرف جمع ہوگئے۔ آپؑ نے محبت بھری نظروں سے انہیں دیکھا۔ چونکہ بچے ان کو دیکھ کر خوش ہوگئے تھے اس لئے آپؑ بھی بہت خوش ہوئے اور اس عنایت پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد سب بچے ایک دیوار کے پاس بیٹھ گئے اور پھرقرعہ اندازی کی گئی تاکہ جس بچے کا نام نکل آئے وہ استاد بن جائے اور دوسرے اس کے شاگرد۔ پھر استاد کو شاگردوں سے سوال کرنا تھا اور دوسروں کو جواب دینا تھا۔ پھر جو صحیح جواب دیتا وہ استاد بن جاتا اور پھر وہ سوال کرتا اور اس طرح سے کھیل جاری رہتا۔
قرعہ اندازی میں جس بچے کا نام نکلا اس نے سب بچوں سے سوال کیا۔
”وہ کون سا پھل ہے جو زرد رنگ کا بھی ہوتا ہے اور سرخ رنگ کا بھی ۔ میٹھا بھی ہوتا ہے اور کھٹا بھی۔ اس میں بہت سے دانے بھی ہوتے ہیں۔“
سب بچے سوچنے لگے او ر پھر ایک نے سر اٹھا کر کہا:”سیب!“
”نہیں ، سیب میں تو زیادہ دانے نہیں ہوتے۔“ استاد نے مسکرا کر کہا۔
یہ سن کر ایک بار پھر سارے بچے سوچ میں پڑ گئے۔ لیکن کسی کی سمجھ میں جواب نہیں آرہا تھا۔ اب سب بچے اشتیاق بھری نظروں سے جعفر صادق ؑ کو دیکھنے لگے۔ انہیں امید تھی کہ یہ ذہین بچہ یقینا جواب دے سکتا ہے۔
جعفر صادق ؑ نے آرام سے کہا” وہ پھل ، انار ہے۔“
جواب درست تھا اس لئے اب استاد بننے کی باری جعفر صادق ؑ کی تھی۔ اس لئے وہ کھڑے ہوئے اور استاد کی جگہ پر آکر سوالات کئے۔ ان کے سوالات ہمیشہ آسان ہوا کرتے تھے لیکن ان میں سے ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی ایسا نکتہ ضرور پوشیدہ ہوتا تھا جس سے بچے کچھ سیکھتے تھے۔
اس کے بعد ایک اور بچہ کی باری آئی۔ وہ کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا:’ وہ کون سا پھل ہے جو گول بھی ہوتا ہے اور چھوٹا بھی ۔ جو سفید بھی ہوتا ہے اور سیاہ بھی۔ وہ میٹھا بھی ہوتا ہے اور اس میں چھوٹے چھوٹے دانے بھی ہوتے ہیں؟“
”یہ انجیر ہے۔“ جعفر صادق ؑ نے فوراً جواب دیا۔
اس بچے کو یہ توقع نہیں تھی کہ اتنی جلدی درست جواب مل جائے گا اور اسے استاد سے شاگرد بننا پڑے گا۔ اسی لئے اس نے سر نفی میں ہلا کر کہا۔’ ’ نہیں !یہ انجیر نہیں ہے۔“
سب بچے ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئے۔ لیکن جعفر صادق ؑ نے دوبارہ قطعی لہجے میں کہا:” انجیر ہی ہے۔“
استاد بننے والا بچہ مکاری سے مسکرایا تو بچے دوبارہ سوچنے لگے اور ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہنے لگا۔ جب کسی کا جواب درست نہیں ہوا تو ایک لڑکا بول اٹھا،” اگر انجیر نہیں ہے تو خود ہی بتادو وہ کون سا پھل ہے۔“
”جواب تم لوگوں کو دینا چاہیے۔“ لڑکے نے ٹال دیا۔
جعفر صادق ؑ نے کہا:’ ’ ہم جواب دے چکے ہیں۔ اب اگر تم سمجھتے ہو کہ ہمارا جواب درست نہیں ہے تو خود ہی بتاﺅ کہ صحیح جواب کیا ہے۔“
اب وہ بچہ بہت ہی پریشان ہوا کہ کیا جواب دے۔ اگر یہ کہہ دے کہ وہ انجیر ہی ہے تو اس کا جھوٹ کھل جائے گا اور اگر کسی اور پھل کا نام لے تو وہ سوال کے مطابق نہیں ہوگا۔
جب وہ کچھ نہ بولا تو بچے سمجھ گئے کہ اس نے بے ایمانی کی ہے۔ اسی لمحہ جعفر صادق ؑ کھڑے ہوئے اور وہاں سے چلے گئے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کیا کھیل کی خاطر انسان کو جھوٹ بولنا چاہیے؟
ان کو اس بچے کے جھوٹ کی وجہ سے بہت کوفت ہورہی تھی۔
بچوں کا کھیل خراب ہونے ہی والا تھا کہ اس بچے نے کہا:” اگر جعفر ؑ ہمارے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتے تو نہ کھیلیں ہم آپس میں خود ہی کھیل لیتے ہیں۔“
کھیل ایک بار پھر شروع ہوگیا لیکن جو بھی سوال پوچھا جاتا ، اتفاق سے کوئی بھی اس کا صحیح جواب نہیں دے پارہا تھا۔ اس لئے آہستہ آہستہ کھیل میں مزہ کم ہونے لگا۔ سب لوگ سمجھ گئے کہ اگر جعفر صادق ؑ ان کے ساتھ نہیں ہوں گے تو کھیل میں مزہ نہیں آئے گا۔ اسی لئے وہ جعفر صادق ؑ کے پاس پہنچے ۔ آپؑ نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور محبت سے بولے:” میں ایک شرط پر تمہارے ساتھ کھیلوں گا۔“
”کیا شرط؟“
”اس شرط پر کہ کوئی جھوٹ نہیں بولے گا۔“
”ٹھیک ہے ! اب کوئی جھوٹ نہیں بولے گا۔“ سب سے پہلے اسی لڑکے نے جواب دیا۔
یہ سن کر جعفر صادق ؑ اٹھ کھڑے ہوئے تو سب بچوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اور ایک بار پھر ان کا دلچسپ کھیل شروع ہوگیا۔
پیارے بچو! ہمیں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے اور جھوٹ سے بچنا چاہیے چاہے آپس میں مذاق کررہے ہوں یا کھیل کھیل رہے ہوں۔ ہر وقت جھوٹ سے بچنا چاہیے۔

ReplyReply allForward