نیوٹلرز سے کہتا ہوں اب بھی وقت ہے اپنی پالیسیز پر نظر ثانی کریں، عمران خان

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آپ جتنا مرضی کہہ لیں کہ نیوٹرل ہیں، تاریخ اس کے لیے آپ پر ہی الزام دھرے گی جو آپ نے کیا ہے۔ اب بھی وقت ہے اپنی پالیسیز پر نظر ثانی کرلیں۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں نیب کا کنٹرول بھی ان کے پاس نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ میں نیب ہوتا تو 15-20 لوگوں سے اربوں روپے نکلوا لیتے۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز گل سے ایک جملہ نکل گیا، جو اس کو نہیں کہنا چاہیے تھا، مریم نواز، ایاز صادق اور فضل الرحمان فوج کے خلاف ایسی باتیں کرگئے، ان کےخلاف کچھ نہیں ہوا، کتنا بڑا جرم ہے کہ شہباز گل کو ننگا کرکے تشدد کیا گیا اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں ان لوگوں کو کیوں ملک میں مسلط ہونے دیا، آپ ہی ان لوگوں کی چوری کا بتاتے تھے، میں اینٹی امریکا نہیں، مجھے اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے پاس سب سے زیادہ پاور ہے، پاور کے ساتھ ذمے داری آتی ہے آپ جتنا مرضی کہہ لیں نیوٹرل ہیں، تاریخ میں لوگ آپ پر الزام دھریں گے، انہوں نے کہا کہ چوروں کو تسلیم کروانے کیلئے خوف پھیلا رہے ہیں، میڈیا کا منہ بند کر رہے ہیں، ہمارے لوگوں کو، ایم این ایز کو کال کر رہے ہیں، خوف پھیلا رہے ہیں، ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم انہیں تسلیم کرلیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ کبھی قوم میں ایسا شعور اور بیداری نہیں دیکھی، جس طرح قوم اٹھ رہی ہے، آپ کچھ نہیں کر سکیں گے، بیداری اور شعور کا جن دوبارہ کبھی بوتل میں نہیں ڈال سکتے۔ شہباز گل سے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کھاتا کیا ہے؟ شہباز شریف کے کرپشن کے 4 گواہ ہارٹ اٹیک سے مرے، انہیں پتا تھا کہ وہ کھاتے کیا ہیں؟ کھاتے کیا ہیں پتہ ہوتا ہے تو پھر انہیں ٹھکانے لگاتے ہیں۔ نیوٹرل کو پیغام ہے کہ کیا آپ کو ملک کی فکر ہے، ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی، کیا قرضے لینا کوئی حل ہے؟ حل صرف سیاسی استحکام ہے اور یہ صرف اور صاف شفاف انتخابات سے ہی آئے گا، نیوٹرل سے آخر میں کہتا ہوں ابھی بھی وقت ہے، اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، بند کمروں میں فیصلے اچھے نہیں ہوتے، ان چوروں کے نیچے زندگی گزارنے سے موت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 سے دونوں پارٹیوں کا تماشا دیکھ رہے تھے، دونوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے کیسز بنائے، 96 میں زرداری اور نواز شریف نے ڈیڑھ ارب ملک سے باہر نکالا، نواز شریف نے صرف 3 سال میں 17 فیکٹریاں بنا لیں، بینک سے قرضے لیے، میں کرپشن کے خلاف آیا تھا، جنرل مشرف کے دور میں ان کے کرپشن کی فائلیں دکھائیں گئیں، مشرف کی سپورٹ اس لیے کی کہ وہ کرپشن ختم کرنے آیا تھا، مشرف نے بعد میں ان لوگوں کو این آر او دے دیا، مشرف کے پاس حق نہیں تھا کہ ان کی چوری معاف کرتا۔عمران خان نے کہا کہ آزاد انسان بڑے کام کرتے ہیں، غلام بڑے کام نہیں کرتے، علامہ اقبال غلام انسانوں کو جگانے کی کوشش کر رہے تھے، کوشش ہوتی ہے کہ اپنی غلطیوں سے سیکھوں، قوم جب آزاد ہوتی ہے تو وہ اوپر جاتی ہے، غلامی انسان کے اندر احساس کمتری پیدا کر دیتی ہے، مجھےکبھی آزاد میڈیا سے خوف نہیں ہوا-

  Click to listen highlighted text! اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آپ جتنا مرضی کہہ لیں کہ نیوٹرل ہیں، تاریخ اس کے لیے آپ پر ہی الزام دھرے گی جو آپ نے کیا ہے۔ اب بھی وقت ہے اپنی پالیسیز پر نظر ثانی کرلیں۔اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں نیب کا کنٹرول بھی ان کے پاس نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ میں نیب ہوتا تو 15-20 لوگوں سے اربوں روپے نکلوا لیتے۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز گل سے ایک جملہ نکل گیا، جو اس کو نہیں کہنا چاہیے تھا، مریم نواز، ایاز صادق اور فضل الرحمان فوج کے خلاف ایسی باتیں کرگئے، ان کےخلاف کچھ نہیں ہوا، کتنا بڑا جرم ہے کہ شہباز گل کو ننگا کرکے تشدد کیا گیا اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں ان لوگوں کو کیوں ملک میں مسلط ہونے دیا، آپ ہی ان لوگوں کی چوری کا بتاتے تھے، میں اینٹی امریکا نہیں، مجھے اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، اسٹیبلشمنٹ کے پاس سب سے زیادہ پاور ہے، پاور کے ساتھ ذمے داری آتی ہے آپ جتنا مرضی کہہ لیں نیوٹرل ہیں، تاریخ میں لوگ آپ پر الزام دھریں گے، انہوں نے کہا کہ چوروں کو تسلیم کروانے کیلئے خوف پھیلا رہے ہیں، میڈیا کا منہ بند کر رہے ہیں، ہمارے لوگوں کو، ایم این ایز کو کال کر رہے ہیں، خوف پھیلا رہے ہیں، ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم انہیں تسلیم کرلیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ کبھی قوم میں ایسا شعور اور بیداری نہیں دیکھی، جس طرح قوم اٹھ رہی ہے، آپ کچھ نہیں کر سکیں گے، بیداری اور شعور کا جن دوبارہ کبھی بوتل میں نہیں ڈال سکتے۔ شہباز گل سے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کھاتا کیا ہے؟ شہباز شریف کے کرپشن کے 4 گواہ ہارٹ اٹیک سے مرے، انہیں پتا تھا کہ وہ کھاتے کیا ہیں؟ کھاتے کیا ہیں پتہ ہوتا ہے تو پھر انہیں ٹھکانے لگاتے ہیں۔ نیوٹرل کو پیغام ہے کہ کیا آپ کو ملک کی فکر ہے، ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی، کیا قرضے لینا کوئی حل ہے؟ حل صرف سیاسی استحکام ہے اور یہ صرف اور صاف شفاف انتخابات سے ہی آئے گا، نیوٹرل سے آخر میں کہتا ہوں ابھی بھی وقت ہے، اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، بند کمروں میں فیصلے اچھے نہیں ہوتے، ان چوروں کے نیچے زندگی گزارنے سے موت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 سے دونوں پارٹیوں کا تماشا دیکھ رہے تھے، دونوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے کیسز بنائے، 96 میں زرداری اور نواز شریف نے ڈیڑھ ارب ملک سے باہر نکالا، نواز شریف نے صرف 3 سال میں 17 فیکٹریاں بنا لیں، بینک سے قرضے لیے، میں کرپشن کے خلاف آیا تھا، جنرل مشرف کے دور میں ان کے کرپشن کی فائلیں دکھائیں گئیں، مشرف کی سپورٹ اس لیے کی کہ وہ کرپشن ختم کرنے آیا تھا، مشرف نے بعد میں ان لوگوں کو این آر او دے دیا، مشرف کے پاس حق نہیں تھا کہ ان کی چوری معاف کرتا۔عمران خان نے کہا کہ آزاد انسان بڑے کام کرتے ہیں، غلام بڑے کام نہیں کرتے، علامہ اقبال غلام انسانوں کو جگانے کی کوشش کر رہے تھے، کوشش ہوتی ہے کہ اپنی غلطیوں سے سیکھوں، قوم جب آزاد ہوتی ہے تو وہ اوپر جاتی ہے، غلامی انسان کے اندر احساس کمتری پیدا کر دیتی ہے، مجھےکبھی آزاد میڈیا سے خوف نہیں ہوا-