Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

اسرائیل سے تعلقات ختم کئے جائیں، ایرانی صدر کا 50 سربراہان مملکت کو خط

تہران : ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ تمام ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعاون ختم کرنا چاہیے تاکہ اسے غزہ میں نسل کشی روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایرانی صدر نے یہ اپیل روس، چین، ترکیہ، قازقستان، جنوبی افریقہ، کینیا، اردن سمیت 50 ممالک کے سربراہان کے نام ایک خط میں کی۔ انہوں نے لکھا کہ گذشتہ چالیس روز سے جاری جارحیت میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اپنی بے دریغ بمباری میں اب تک کم از کم 13,000 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جن میں 5,500 سے زیادہ بچے اور 3,500 خواتین شامل ہیں جبکہ عوامی املاک تباہ کردیں۔ جبکہ مغربی ممالک دوغلی پالیسی اختیار کرکے صیہونی حکومت کے ہاتھوں انسانی اقدار کی پامالی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر نے لکھا کہ دنیا کے آزاد اور خودمختار خصوصاً اسلامی ممالک سے امید ہے کہ وہ اقتصادی اور سفارتی سطح پر صیہونی حکومت کے خلاف متحد ہوکر دباؤ بڑھائیں گے اور اسرائیلی مظالم روکنے میں کردار ادا کریں گے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ مزاحمتی گروپوں نے اسرائیل اور اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔ ان کے پاس اب بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جو ابھی تک اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular