جنکے ابو نہیں ہوتے وہ اسکول نہیں جاتے

  Click to listen highlighted text! وہ ٹکٹکی باندھے اپنی ٹھوڑی کو اپنے میلے کچیلے ہاتھوں پر ٹکاۓ حسرت بھری نگاہوں سے….سامنے سے گزرتے صاف ستھرے یونیفارم میں ملبوس، چمچماتے شوز پہنے اسکول جاتے بچوں کو دیکھ رہا تھا…وہ ایک نظر اپنے تیل سے لتھڑے گریس سے داغدار کپڑوں کو دیکھتا اور کبھی سامنے سے گزرتے بچوں کے اجلے یونیفارم کو…وہ آج 7 بجے ہی ورکشاپ کے دروازے پر آ کر بیٹھ گیا تھا….ابھی کل ہی تو اسے استاد نے دیر سے آنے پر مارا تھا…استاد تو اسے کام سے نکالنا چاہتا تھا لیکن اس کی اماں کی منت سماجت پر شاید اسے ترس آگیا تھا….شاید اسی وجہ سے آج وہ صبح سویرے ہی گھر سے شام کی بچی روٹی کو دہی کے ساتھ یہاں آن پہنچا تھا….ِغربت کی چکی کے پاٹوں میں کچلے ہوۓ خاندان سے اس کا تعلق تھا…خاندان کیا….بس چھوٹا سا 3 افراد پر مشتمل کنبہ تھا اس کا… نازو،وہ اور اماں…یہی کل کائنات تھی اس کی… ابا کا پھٹا پرانا شناختی کارڈ ہی تو تھا…. جس سے اسے اپنے باپ کی شکل وصورت سے شناسائی ہوئی تھی….اس کے سن شعور کو پہنچنے سے پہلے ہی وہ(ابو) ٹی بی کے ہاتھوں…انہیں بے یارومددگار چھوڑ کر چل بسے تھے۔۔۔اماں…بڑے لوگوں کے گھروں میں جا جا کر دن بھر برتن مانج کر اپنے جگر گوشوں کے لیۓ  دو وقت کی روٹی کا ساماں پیدا کر رہی تھی….”اماں….میں نے بھی اسکول جانا ہے…تو مجھے اسکول کیوں نہیں بھیجتی…مجھے بھی یونیفارم پہننا ہے تو مجھے بستہ کیوں نہیں لے کر دیتی..اماں….! وہ ساتھ والی گلی میں حسیب ہے نا…اسے اس کے بابا روز اسکول چھوڑنے جاتے ہیں…اماں تو مجھے کیوں صبح صبح اس استاد کے پاس بھیج دیتی ہے؟؟؟””روانی میں اماں سے سوال پوچھتے ہوئے اس کے لہجے میں جہاں بھر کی حسرت و یاس سمٹ آتی تھی ۔۔۔ اماں کو اس کے سوال پریشان کر دیتے…اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کی شاید اماں میں سکت ہی نہیں تھی….اس سے جب کوئی جواب نہ بن پاتا تو اسے جھڑک دیتی  “تو اپنے منہ دھیان کام پر جایا کر…ادھر ادھر کیوں تکتا ہے رے تو…”وہ اپنی انہی سوچوں میں غلطاں اپنی ناتمام خواہشات کے دیپ سینے میں جلاۓ بیٹھا تھا….”بیٹا….تم کیوں بیٹھے ہو ادھر؟؟”ایک ہمدرد سی آواز نے اس کی محویت کو توڑا…اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے پینٹ کوٹ میں ملبوس  شفیق سی صورت والے ایک صاحب کھڑے تھے….وہ اپنی چمچاتی کالے رنگ کی کار کھڑی کر کے اتر آۓ تھے…”صاحب جی!! میں ادھر ورکشاپ میں کام کرتا ہوں نا…استاد نہیں آیا ابھی اس لیۓ وکشاپ کے باہر بیٹھا ہوں”اس نے وضاحت سے جواب دیا…”بیٹا…تم اسکول کیوں نہیں جاتے؟؟؟””صاحب جی” نے اس کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیا تھا…اس کی آنکھوں کے کٹورے چھلک سے پڑے …دو گرم آنسو اس کے گالوں سے لڑھک گۓ ___ “جن کے ابو ہوتے ہیں وہ اسکول جاتے ہیں…صاحب جی!!__ میرے ابّا اللہ کے پاس چلے گۓ ہیں…اماں نہیں بھیجتی مجھے___کہتی ہے میرے پاس پیسے نہیں ہیں تمہاری فیس کے لیۓ میں تمہیں کھانا کھلاؤں یا اسکول پڑھاؤں…اماں کہتی ہے تم کام سیکھو اور پیسے کماؤ اسکول کے خواب مت دیکھو..بس صاحب جی اسی لیۓ نہیں جاتا”اپنی میلی آستین سے آنسو پونچھتے ہوۓ اس نے جواب دیا…آستین پر لگی کالک نے اس کے گال پر آنسوں کی نمی میں گھل کر نقش و نگار سے بنا ڈالے تھے…اس کے جواب نے “صاحب جی” کو بھی آبدیدہ کر دیا تھا..وہ اس کے سر کو شفقت سے تھپتھپاتے ہوۓ کہنے لگے “بیٹا تمہارا نام کیا ہے”قاسم نام ہے جی میرا….صاحب جی سے بات کرنا اسے بڑا اچھا لگ رہا تھا….”بیٹا تمہاری فیس میں دوں گا تم کل سے یہاں نہیں آؤ گے بلکہ ان بچوں کے ساتھ تم بھی کل اسکول جاؤ گے….”یہ سنتے ہی اس کے من میں خوشی کا فوارہ سا پھوٹا تھا…فرط جذبات سے اس کے گال تمتما اٹھے تھے”ابھی اٹھو اور مجھے اپنے گھر لے چلو… صاحب جی نے کہا…. اگلے ہی دن اس کا یونیفارم اور  بیگ آگیا تھا…صاحب جی نے اسے اسکول میں داخل بھی کروا دیا….تھا اور اس کے سارے تعلیمی اخراجات کا ذمہ داری کے ساتھ گھر کی ضروری اخراجات کا بھی ذمہ  لے لیا تھا….آج کاشف نعمان صاحب اسی جگہ کھڑے قاسم کو اجلا یونیفام پہنے خوش وخرم اسکول کی طرف جاتا دیکھ رہے تھے…جہاں کل انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنت میں قربت حاصل کرنے کا سودا کیا تھا….انہیں یقین کامل ہو چلا تھا کہ جنت میں اللہ مجھے پیارے حضور(ص) کا ساتھ ضرور نصیب کرے گا کیوں کہ آپ(ص) نے خود ہی تو کہا تھا:”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح قریب ہوں گے جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی”.ReplyReply allForward

وہ ٹکٹکی باندھے اپنی ٹھوڑی کو اپنے میلے کچیلے ہاتھوں پر ٹکاۓ حسرت بھری نگاہوں سے….سامنے سے گزرتے صاف ستھرے یونیفارم میں ملبوس، چمچماتے شوز پہنے اسکول جاتے بچوں کو دیکھ رہا تھا…وہ ایک نظر اپنے تیل سے لتھڑے گریس سے داغدار کپڑوں کو دیکھتا اور کبھی سامنے سے گزرتے بچوں کے اجلے یونیفارم کو…وہ آج 7 بجے ہی ورکشاپ کے دروازے پر آ کر بیٹھ گیا تھا….ابھی کل ہی تو اسے استاد نے دیر سے آنے پر مارا تھا…استاد تو اسے کام سے نکالنا چاہتا تھا لیکن اس کی اماں کی منت سماجت پر شاید اسے ترس آگیا تھا….شاید اسی وجہ سے آج وہ صبح سویرے ہی گھر سے شام کی بچی روٹی کو دہی کے ساتھ یہاں آن پہنچا تھا….ِغربت کی چکی کے پاٹوں میں کچلے ہوۓ خاندان سے اس کا تعلق تھا…خاندان کیا….بس چھوٹا سا 3 افراد پر مشتمل کنبہ تھا اس کا… نازو،وہ اور اماں…یہی کل کائنات تھی اس کی… ابا کا پھٹا پرانا شناختی کارڈ ہی تو تھا…. جس سے اسے اپنے باپ کی شکل وصورت سے شناسائی ہوئی تھی….اس کے سن شعور کو پہنچنے سے پہلے ہی وہ(ابو) ٹی بی کے ہاتھوں…انہیں بے یارومددگار چھوڑ کر چل بسے تھے۔۔۔اماں…بڑے لوگوں کے گھروں میں جا جا کر دن بھر برتن مانج کر اپنے جگر گوشوں کے لیۓ  دو وقت کی روٹی کا ساماں پیدا کر رہی تھی….”اماں….میں نے بھی اسکول جانا ہے…تو مجھے اسکول کیوں نہیں بھیجتی…مجھے بھی یونیفارم پہننا ہے تو مجھے بستہ کیوں نہیں لے کر دیتی..اماں….! وہ ساتھ والی گلی میں حسیب ہے نا…اسے اس کے بابا روز اسکول چھوڑنے جاتے ہیں…اماں تو مجھے کیوں صبح صبح اس استاد کے پاس بھیج دیتی ہے؟؟؟””روانی میں اماں سے سوال پوچھتے ہوئے اس کے لہجے میں جہاں بھر کی حسرت و یاس سمٹ آتی تھی ۔۔۔ اماں کو اس کے سوال پریشان کر دیتے…اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کی شاید اماں میں سکت ہی نہیں تھی….اس سے جب کوئی جواب نہ بن پاتا تو اسے جھڑک دیتی  “تو اپنے منہ دھیان کام پر جایا کر…ادھر ادھر کیوں تکتا ہے رے تو…”وہ اپنی انہی سوچوں میں غلطاں اپنی ناتمام خواہشات کے دیپ سینے میں جلاۓ بیٹھا تھا….”بیٹا….تم کیوں بیٹھے ہو ادھر؟؟”ایک ہمدرد سی آواز نے اس کی محویت کو توڑا…اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے پینٹ کوٹ میں ملبوس  شفیق سی صورت والے ایک صاحب کھڑے تھے….وہ اپنی چمچاتی کالے رنگ کی کار کھڑی کر کے اتر آۓ تھے…”صاحب جی!! میں ادھر ورکشاپ میں کام کرتا ہوں نا…استاد نہیں آیا ابھی اس لیۓ وکشاپ کے باہر بیٹھا ہوں”اس نے وضاحت سے جواب دیا…”بیٹا…تم اسکول کیوں نہیں جاتے؟؟؟””صاحب جی” نے اس کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیا تھا…اس کی آنکھوں کے کٹورے چھلک سے پڑے …دو گرم آنسو اس کے گالوں سے لڑھک گۓ ___ “جن کے ابو ہوتے ہیں وہ اسکول جاتے ہیں…صاحب جی!!__ میرے ابّا اللہ کے پاس چلے گۓ ہیں…اماں نہیں بھیجتی مجھے___کہتی ہے میرے پاس پیسے نہیں ہیں تمہاری فیس کے لیۓ میں تمہیں کھانا کھلاؤں یا اسکول پڑھاؤں…اماں کہتی ہے تم کام سیکھو اور پیسے کماؤ اسکول کے خواب مت دیکھو..بس صاحب جی اسی لیۓ نہیں جاتا”اپنی میلی آستین سے آنسو پونچھتے ہوۓ اس نے جواب دیا…آستین پر لگی کالک نے اس کے گال پر آنسوں کی نمی میں گھل کر نقش و نگار سے بنا ڈالے تھے…اس کے جواب نے “صاحب جی” کو بھی آبدیدہ کر دیا تھا..وہ اس کے سر کو شفقت سے تھپتھپاتے ہوۓ کہنے لگے “بیٹا تمہارا نام کیا ہے”قاسم نام ہے جی میرا….صاحب جی سے بات کرنا اسے بڑا اچھا لگ رہا تھا….”بیٹا تمہاری فیس میں دوں گا تم کل سے یہاں نہیں آؤ گے بلکہ ان بچوں کے ساتھ تم بھی کل اسکول جاؤ گے….”یہ سنتے ہی اس کے من میں خوشی کا فوارہ سا پھوٹا تھا…فرط جذبات سے اس کے گال تمتما اٹھے تھے”ابھی اٹھو اور مجھے اپنے گھر لے چلو… صاحب جی نے کہا…. اگلے ہی دن اس کا یونیفارم اور  بیگ آگیا تھا…صاحب جی نے اسے اسکول میں داخل بھی کروا دیا….تھا اور اس کے سارے تعلیمی اخراجات کا ذمہ داری کے ساتھ گھر کی ضروری اخراجات کا بھی ذمہ  لے لیا تھا….آج کاشف نعمان صاحب اسی جگہ کھڑے قاسم کو اجلا یونیفام پہنے خوش وخرم اسکول کی طرف جاتا دیکھ رہے تھے…جہاں کل انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنت میں قربت حاصل کرنے کا سودا کیا تھا….انہیں یقین کامل ہو چلا تھا کہ جنت میں اللہ مجھے پیارے حضور(ص) کا ساتھ ضرور نصیب کرے گا کیوں کہ آپ(ص) نے خود ہی تو کہا تھا:”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح قریب ہوں گے جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی”.ReplyReply allForward