صہیونی جاسوسی ادارہ موساد نابودی کی جانب گامزن

  Click to listen highlighted text! تحریر: محسن ایران دوست گذشتہ ہفتے کے آخر میں غاصب صہیونی رژیم کے مختلف ذرائع ابلاغ نے صہیونی جاسوسی ادارے موساد کے تین اعلی سطحی عہدیداران کے مستعفی ہو جانے کی خبر دی۔ اس خبر کے مطابق موساد کے نئی بھرتی کے سربراہ، ٹیکنالوجی کے سربراہ اور اینٹی ٹیروریزم شعبے کے سربراہ نے استعفی پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ موساد کے نئے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کے خلاف اعتراض کی صورت میں کیا ہے۔ یاد رہے ان تین اعلی سطحی عہدیداران کا عہدہ فوج میں جنرل کے برابر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موساد کے اسٹریٹجک وار شعبے کے سربراہ بھی استعفی دینے کے خواہاں ہیں۔ صہیونی ذرائع ابلاغ نے ان واقعات کو “شدید زلزلہ” اور “کاری ضرب” کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے استعفی کی اصل وجہ ڈیوڈ بارنیا کی جانب سے ایجنسی کے اسٹرکچر میں بنیادی تبدیلیاں انجام دینا ہے۔ ڈیوڈ بارنیا گذشتہ ماہ صہیونی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے نئے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں۔ ان کی عمر 56 سال ہے اور وہ 2019ء سے موساد کے نائب سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے اسم مستعار “ڈیڈی” سے معروف ہیں۔ موساد کا حالیہ بحران اس وقت شروع ہوا جب دو ہفتے پہلے الجزیرہ نیوز چینل نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں “تحریک آزادی” نامی ایک نامعلوم گروہ نے موساد کے دو اعلی سطحی افسران کو اغوا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ موساد کے یہ دو افسر اغوا کئے جانے کے وقت ملک سے باہر اہم مشن پر تھے۔ اس ویڈیو میں ایک اغوا شدہ موساد کا افسر جس نے اپنا نام “ڈیوڈ بن روزی” بتایا یہ کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے: “ہم دو اسرائیلی شہری ہیں۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہم انتہائی خوفناک صورتحال کا شکار ہیں۔ میرا دوست بیری شدید بیمار ہے۔” اغوا ہونے والے موساد کے دوسرے افسر کا نام ڈیوڈ بیری ہے۔ تحریک آزادی نامی گروہ نے ان اسرائیلی افسران کی تصاویر شائع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے پاسپورٹ کی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ موساد کے یہ دونوں افسر محفوظ مقام پر ہیں۔ اسی طرح اس گروہ نے ان افسران کی آزادی کو صہیونی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی آزادی سے مشروط کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس واقعے کے ساتھ ساتھ صہیونی جاسوسی ادارے موساد پر ایک اور کاری ضرب بھی وارد ہوئی ہے۔ ہیکرز کے ایک گروپ نے غاصب صہیونی رژیم کے حساس اداروں کو ہیک کر کے انتہائی خفیہ اور حساس معلومات انٹرنیٹ پر شائع کر دی ہیں۔ ان معلومات میں صہیونی رژیم کے حساس فوجی بیسز کی پوزیشن اور اعلی سطحی سکیورٹی و فوجی عہدیداران کی معلومات شامل ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کو تیسرا شدید دھچکہ اس وقت لگا جب “عصائے موسی” یا Moses staff نامی ہیکرز گروپ نے صہیونی رژیم کی انتہائی خفیہ اور حساس فوجی و سکیورٹی معلومات فاش کر دیں۔ حال ہی میں اس گروپ نے صہیونی رژیم کے انفرااسٹرکچر کے تھری ڈی نقشہ جات بھی ڈارک وب میں شائع کر دیے ہیں۔ یہ نقشے پورے مقبوضہ فلسطین میں ہر قسم کی فوجی و سکیورٹی تنصیبات کی ٹھیک ٹھیک معلومات ظاہر کرتے ہیں۔ عصائے موسی نے اپنے اس اقدام کے بارے میں ایک بیانیہ بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: “عالمی برادری صہیونی مجرم حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جس کی ایک مثال گوگل میپس پر مقبوضہ فلسطین کے نقشے نہ ہونا ہے۔ لیکن ہم نے صہیونی رژیم کے انفرااسٹرکچر سے متعلق تھری ڈی نقشوں پر مبنی 22 ٹیرابائٹ ڈیٹا سوشل میڈیا پر شائع کر دیا ہے۔” اس گروپ نے اپنے پیغام کے آخری حصے میں کہا کہ شائع شدہ تصاویر اور ویڈیوز ان معلومات کا چھوٹا سا حصہ ہے جو ہم نے اسرائیلی کمپنیوں کے بارے میں حاصل کی ہیں۔ اس گروپ نے غاصب صہیونی فوج کی انتہائی خفیہ اور حساس یونٹ جو 8200 کے نام سے جانی جاتی ہے، میں شامل افسران اور فوجیوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ اس یونٹ کا اصل کام جدید ترین الکٹرانک آلات کی مدد سے جاسوسی کرنا ہے۔ حال ہی میں یروشلم پوسٹ نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “کالا سایہ” نامی ہیکرز گروپ نے اسرائیل کی انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس گروہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان سرورز سے حاصل شدہ تمام معلومات کو منظرعام پر لے آئے گا۔ صہیونی رژیم کے فوجی و سکیورٹی ماہرین نے Black Shadow نامی اس گروپ کے حملوں کو کامیاب قرار دیا ہے۔ اگرچہ صہیونی ذرائع ابلاغ، موساد کے مذکورہ بالا اعلی سطحی عہدیداران کے مستعفی ہونے کی اصل وجہ اس جاسوسی ادارے کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں قرار دے رہے ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ میں رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد زوال اور نابودی کی جانب گامزن ہے۔ سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی، حماس کے مقابلے میں انٹیلی جنس، فوجی اور سکیورٹی ناکامیاں اور دنیا کے مختلف ممالک میں موساد کے ایجنٹس اور نیٹ ورکس فاش ہو جانے جیسے واقعات نے موساد کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ حالیہ سائبر حملوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں موساد کی کمزوری کو بہت واضح کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ادارہ اپنے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ یوں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اپنے جعلی حدود میں ہی پھنس کر رہ گئی ہے۔

تحریر: محسن ایران دوست

گذشتہ ہفتے کے آخر میں غاصب صہیونی رژیم کے مختلف ذرائع ابلاغ نے صہیونی جاسوسی ادارے موساد کے تین اعلی سطحی عہدیداران کے مستعفی ہو جانے کی خبر دی۔ اس خبر کے مطابق موساد کے نئی بھرتی کے سربراہ، ٹیکنالوجی کے سربراہ اور اینٹی ٹیروریزم شعبے کے سربراہ نے استعفی پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ موساد کے نئے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کے خلاف اعتراض کی صورت میں کیا ہے۔ یاد رہے ان تین اعلی سطحی عہدیداران کا عہدہ فوج میں جنرل کے برابر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موساد کے اسٹریٹجک وار شعبے کے سربراہ بھی استعفی دینے کے خواہاں ہیں۔ صہیونی ذرائع ابلاغ نے ان واقعات کو “شدید زلزلہ” اور “کاری ضرب” کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے استعفی کی اصل وجہ ڈیوڈ بارنیا کی جانب سے ایجنسی کے اسٹرکچر میں بنیادی تبدیلیاں انجام دینا ہے۔

ڈیوڈ بارنیا گذشتہ ماہ صہیونی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے نئے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں۔ ان کی عمر 56 سال ہے اور وہ 2019ء سے موساد کے نائب سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے اسم مستعار “ڈیڈی” سے معروف ہیں۔ موساد کا حالیہ بحران اس وقت شروع ہوا جب دو ہفتے پہلے الجزیرہ نیوز چینل نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں “تحریک آزادی” نامی ایک نامعلوم گروہ نے موساد کے دو اعلی سطحی افسران کو اغوا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ موساد کے یہ دو افسر اغوا کئے جانے کے وقت ملک سے باہر اہم مشن پر تھے۔ اس ویڈیو میں ایک اغوا شدہ موساد کا افسر جس نے اپنا نام “ڈیوڈ بن روزی” بتایا یہ کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے: “ہم دو اسرائیلی شہری ہیں۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہم انتہائی خوفناک صورتحال کا شکار ہیں۔ میرا دوست بیری شدید بیمار ہے۔”

اغوا ہونے والے موساد کے دوسرے افسر کا نام ڈیوڈ بیری ہے۔ تحریک آزادی نامی گروہ نے ان اسرائیلی افسران کی تصاویر شائع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے پاسپورٹ کی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ موساد کے یہ دونوں افسر محفوظ مقام پر ہیں۔ اسی طرح اس گروہ نے ان افسران کی آزادی کو صہیونی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی آزادی سے مشروط کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس واقعے کے ساتھ ساتھ صہیونی جاسوسی ادارے موساد پر ایک اور کاری ضرب بھی وارد ہوئی ہے۔ ہیکرز کے ایک گروپ نے غاصب صہیونی رژیم کے حساس اداروں کو ہیک کر کے انتہائی خفیہ اور حساس معلومات انٹرنیٹ پر شائع کر دی ہیں۔ ان معلومات میں صہیونی رژیم کے حساس فوجی بیسز کی پوزیشن اور اعلی سطحی سکیورٹی و فوجی عہدیداران کی معلومات شامل ہیں۔

اس کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کو تیسرا شدید دھچکہ اس وقت لگا جب “عصائے موسی” یا Moses staff نامی ہیکرز گروپ نے صہیونی رژیم کی انتہائی خفیہ اور حساس فوجی و سکیورٹی معلومات فاش کر دیں۔ حال ہی میں اس گروپ نے صہیونی رژیم کے انفرااسٹرکچر کے تھری ڈی نقشہ جات بھی ڈارک وب میں شائع کر دیے ہیں۔ یہ نقشے پورے مقبوضہ فلسطین میں ہر قسم کی فوجی و سکیورٹی تنصیبات کی ٹھیک ٹھیک معلومات ظاہر کرتے ہیں۔ عصائے موسی نے اپنے اس اقدام کے بارے میں ایک بیانیہ بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: “عالمی برادری صہیونی مجرم حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جس کی ایک مثال گوگل میپس پر مقبوضہ فلسطین کے نقشے نہ ہونا ہے۔ لیکن ہم نے صہیونی رژیم کے انفرااسٹرکچر سے متعلق تھری ڈی نقشوں پر مبنی 22 ٹیرابائٹ ڈیٹا سوشل میڈیا پر شائع کر دیا ہے۔”

اس گروپ نے اپنے پیغام کے آخری حصے میں کہا کہ شائع شدہ تصاویر اور ویڈیوز ان معلومات کا چھوٹا سا حصہ ہے جو ہم نے اسرائیلی کمپنیوں کے بارے میں حاصل کی ہیں۔ اس گروپ نے غاصب صہیونی فوج کی انتہائی خفیہ اور حساس یونٹ جو 8200 کے نام سے جانی جاتی ہے، میں شامل افسران اور فوجیوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ اس یونٹ کا اصل کام جدید ترین الکٹرانک آلات کی مدد سے جاسوسی کرنا ہے۔ حال ہی میں یروشلم پوسٹ نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “کالا سایہ” نامی ہیکرز گروپ نے اسرائیل کی انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس گروہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان سرورز سے حاصل شدہ تمام معلومات کو منظرعام پر لے آئے گا۔ صہیونی رژیم کے فوجی و سکیورٹی ماہرین نے Black Shadow نامی اس گروپ کے حملوں کو کامیاب قرار دیا ہے۔

اگرچہ صہیونی ذرائع ابلاغ، موساد کے مذکورہ بالا اعلی سطحی عہدیداران کے مستعفی ہونے کی اصل وجہ اس جاسوسی ادارے کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں قرار دے رہے ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ میں رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد زوال اور نابودی کی جانب گامزن ہے۔ سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی، حماس کے مقابلے میں انٹیلی جنس، فوجی اور سکیورٹی ناکامیاں اور دنیا کے مختلف ممالک میں موساد کے ایجنٹس اور نیٹ ورکس فاش ہو جانے جیسے واقعات نے موساد کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ حالیہ سائبر حملوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں موساد کی کمزوری کو بہت واضح کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ادارہ اپنے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ یوں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اپنے جعلی حدود میں ہی پھنس کر رہ گئی ہے۔