ریاض کا موسم اور ہماری بے چینی

  Click to listen highlighted text! تحریر: سید اسد عباس سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والا ’’موسم ریاض‘‘ نامی میگا ایونٹ آج کل خبروں کی زینت ہے۔ اس میلے میں دنیا بھر کے مختلف فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی شہریوں کی تفریح طبع کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس ایونٹ کا ایک اہم پروگرام رقص و سرود کی محافل ہیں، جس میں گذشتہ دنوں بالی وڈ سٹار سلمان خان نے ساتھی فنکاروں کے ہمراہ شرکت کی اور سامعین کے دلوں کو گرمایا۔ سلمان خان کے ہمراہ بھارتی فنکار شلپا سیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور دیگر شامل تھے۔ سلمان خان سے قبل معروف گلوکار جسٹن بیبر نے بھی چھ دسمبر کو ریاض میں ایک کنسرٹ کیا تھا، جس میں تقریباً 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ سلمان خان کے ریاض میں کنسرٹ سے قبل انھیں اعزاز دینے کے لیے ان کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا، جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔ سعودیہ کے شہر طائف میں بھی سعودی حکومت نے ایک میلے کا احیاء کیا ہے، جو زمانہ قبل از اسلام میں بھی منعقد ہوتا تھا۔ عکاظ کے میلے میں بھی شعر و شاعری، رقص و سرود، ڈرامہ اور کھیلوں کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زمانہ قبل اسلام کا جزیرۃ العرب دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قطر اور عرب امارات کی کئی ریاستیں تو پہلے ہی اسلامی روایات کو ترک کرکے اپنی قدیم عرب روایات کو اختیار کرچکی ہیں، تاہم سعودیہ اس دوڑ میں معاشرتی طور پر پیچھے تھا۔ شہزادہ سلمان بھلا اس دوڑ میں کسی سے کیسے پیچھے رہتا۔ شہزادہ سلمان نے سعودیہ کے لیے بھی وہی راستہ اپنایا، جو اس سے قبل جزیرۃ العرب کے دیگر حکمران اختیار کرچکے تھے۔ شہزادہ سلمان نے اس راستے اور فکر کو ’’ویژن 2030ء‘‘ کا نام دیا ہے۔ سعودی ولی عہد کا ارادہ ہے کہ اگلے چند برسوں میں سعودی عرب کو ثقافتی، معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ محمد بن سلمان مملکت سعودیہ میں فقط میلے ٹھیلے ہی نہیں لگا رہے بلکہ دیگر کئی ایک اقدامات بھی کر رہے ہیں، جس سے سعودیہ کا چہرہ اگلے چند برسوں میں ایک اسلامی ریاست کے بجائے ایک تفریحی مرکز کا ہوگا۔ سعودیہ جیسے ملک میں جہاں گذشتہ سو برس سے سلفی شریعت نافذ ہے اور کڑے قوانین ہیں، وہاں یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے محمد بن سلمان نے ہر ممکنہ رکاوٹ کو ایک ایک کرکے اپنے راستے سے ہٹایا ہے۔ عوام جس کو عرصہ دراز سے عیش و عشرت اور تفریح کا دلدادہ کیا جا چکا تھا، ان کے لیے آزادانہ ان سرگرمیوں کا انجام دینا شاید اتنا مشکل نہ تھا، تاہم سعودی حکومت کا دوسرا ستون یعنی ملا کریسی، شاہی خاندان کے طاقتور افراد سے ایک ایک کرکے نمٹا گیا ہے۔ سعودیہ کے شیعہ نشین علاقے سے کئی علماء کو گرفتار کیا گیا، ایک معروف شیعہ عالم شیخ نمبر باقر النمر جو آل سعود کے خلاف اپنے خطابات میں جرات مندانہ اظہارات کرتے تھے، ان کو حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔ ہندوستان کے معروف لکھاری پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے 12 دسمبر کی اپنی تحریر بعنوان ’’سعودی عرب: یوسفی گر نہیں ممکن تو زلیخائی کر‘‘ میں محمد بن سلمان کے تحت سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔ وہ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں: ’’امر بالمعروف کے بجائے امر بالمنکرات پر زور صرف ہو رہا ہے، مغربی تمدن اور اقدار کو بے چون و چرا قبول کیا جا رہا ہے بلکہ ان کو رواج دیا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں سینما ہال اور کاسینو کھولے جا رہے ہیں۔ ساحل سمندر پر ایسی تفریح گاہیں بنائی جا رہی ہیں، جہاں خواتین صرف بکنی پہن کر لباس برہنگی میں جاسکیں گی اور جہاں عام دیدار یار ہوگا۔۔۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’سعودی عرب کے عالم و داعی شیخ محسن العواجی کو جیل میں بند کیا گیا ہے۔ شیخ محمد عریفی کو گرفتار کیا گیا، مشہور زمانہ کتاب ’’لا تحزن‘‘ کے مصنف شیخ عائض القرنی، شیخ سلمان بن عودہ، شیخ سفر الحوالی، شیخ سعد الفقیہ اور شیخ محمد المسعری اور شیخ العواجی کو حق اور ضمیر کی آواز بلند کرنے پر پابندیوں کا اور نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بولناچاہا تو ان کی زبان بند کر دی گئی، اب ملت کے باضمیر علماء ہر حلقہ زنجیر میں اپنی زبان رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی آواز کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔‘‘ ہم جانتے ہیں کہ ان علماء کے علاوہ عالم اسلام کے دسیوں علماء کی کتب اور شخصیات کو سعودیہ میں بین کر دیا گیا ہے۔ متعدد اسلامی تنظیمیں جن میں اخوان، حزب اللہ، حماس وغیرہ شامل ہیں، ان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا، جس میں نیا اضافہ تبلیغی جماعت ہے، جسے دہشت گردی کا درازہ قرار دیا گیا ہے۔ نصاب میں شامل قرآنی موضوعات کو ختم کرکے نصاب کی فقط ایک کتاب کو شامل نصاب کیا گیا ہے۔ محسن عثمانی تحریر کرتے ہیں: ’’ملک میں سعودایزیشن شروع ہوچکا ہے، یعنی صرف سعودی شہریت رکھنے والوں کو ملازمت دینے کا حکم جاری ہوچکا ہے، غیر سعودیوں کے لئے ملازمت کے دروازے بہت محدود کر دیئے گئے ہیں اور غیر سعودی خاندان کے ہر فرد، پر بچے اور پوڑھے مرد اور عورت سب کو تین سو ریال ماہانہ ٹیکس ادا کرنے کا فرمان جاری ہوگیا ہے۔ آئندہ اس میں سال بہ سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ یعنی دوسرے ملکوں کے ملازمین اپنے گھروں کو بھیجنے کے لئے جو بچت کرتے تھے، اس بچت کو ان سےٍ چھین لیا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’سعودی عرب امریکہ اور مغربی ملکوں کے جال میں پوری طرح سے پھنس چکا ہے۔ سعودی عرب پہلے ایک بہت خوش حال ملک تھا، اب وہ خستہ حال ملک ہوچکا ہے اور پہلے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ولڈ بنک کا وہ مقروض نہیں تھا، اب وہ ان اداروں سے قرض لینے پر مجبور ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اربوں اور کھربوں ڈالر کے مالیاتی معاہدے وہ دلداری اور دل بدست آوری کے لئے امریکہ اور مغربی ملکوں سے کر رہا ہے اور ایسے ہتھیار خرید رہا ہے، جن کا استعمال سعودی فوج کے بڑے سے بڑے جنرل بھی نہیں جانتے ہیں، نہ ان کو اس کی ٹریننگ ملی ہے، یہ سارے ہتھیار برائے زینت و آرائش اور برائے نمائش ہیں۔‘‘ پروفیسر محسن عثمانی نے اپنے مقالے میں سعودی جرائم کے زمرے میں تیونس کے حاکم زین العابدین کو پناہ دینا اور مرسی کی حکومت کے خاتمے کو اذن باریابی بخشا ہے، تاہم یمن کے عوام پر جاری بمباری، بحرین اور احصاء کے عوام پر مظالم، نائجیریا میں شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کے پیروکاروں کے خلاف مظالم نیز فلسطین کاز سے ہاتھ کھینچنے کو بالکل فراموش کر دیا۔ بہرحال جتنا کچھ انھوں نے بیان کیا، یہ بھی ان کی مہربانی ہے۔ امت مسلمہ کے صاحبان نظر، لکھاریوں اور دانشوروں کو اب عقیدت کی دبیز تہوں اور عصبیت کے اندھیروں سے نکل کر امت کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔ پروفیسر محسن عثمانی بجا طور پر حرمین شریفین کی سالمیت کے بارے پریشان ہیں۔ وہ حکمران جو مکمل طور پر مغربی اداروں اور حکومتوں کے زیر اثر جا چکے ہیں، ان سے کچھ بھی بعید نہیں۔ شاید اسی لیے برصغیر کے علماء نے آل سعود کے تیسرے دور اقتدار کے آغاز میں مدینہ اور مکہ کو موتمر عالم اسلامی کے تحت دینے کا تقاضا کیا تھا۔ جسے اس وقت کے حاکم نے شرائط کے ساتھ قبول کیا اور بعد میں برصغیر کے علماء پر حجاز پر قبضے کا الزام لگا کر معاملے کو رفع دفع کر دیا۔ آج وقت آچکا ہے کہ امت مسلمہ ایک مرتبہ پھر اس مسئلے پر غور و فکر کرے۔ ایسا نہ ہو کہ مزید غفلت کے نتیجہ میں ہمیں کسی ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ پروفیسر محسن عثمانی کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ عالم اسلام کے ملکوں میں اردو، عربی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں بیانات دیئے جانے چاہئیں، سلفی، حنفی، اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی کو بر سرعام، برسر منبر اس بات کا اظہار کرنا چاہیئے کہ سعودیہ میں جو تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، وہ ناقابل قبول ہیں۔

تحریر: سید اسد عباس

سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والا ’’موسم ریاض‘‘ نامی میگا ایونٹ آج کل خبروں کی زینت ہے۔ اس میلے میں دنیا بھر کے مختلف فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی شہریوں کی تفریح طبع کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس ایونٹ کا ایک اہم پروگرام رقص و سرود کی محافل ہیں، جس میں گذشتہ دنوں بالی وڈ سٹار سلمان خان نے ساتھی فنکاروں کے ہمراہ شرکت کی اور سامعین کے دلوں کو گرمایا۔ سلمان خان کے ہمراہ بھارتی فنکار شلپا سیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور دیگر شامل تھے۔ سلمان خان سے قبل معروف گلوکار جسٹن بیبر نے بھی چھ دسمبر کو ریاض میں ایک کنسرٹ کیا تھا، جس میں تقریباً 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ سلمان خان کے ریاض میں کنسرٹ سے قبل انھیں اعزاز دینے کے لیے ان کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا، جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔

سعودیہ کے شہر طائف میں بھی سعودی حکومت نے ایک میلے کا احیاء کیا ہے، جو زمانہ قبل از اسلام میں بھی منعقد ہوتا تھا۔ عکاظ کے میلے میں بھی شعر و شاعری، رقص و سرود، ڈرامہ اور کھیلوں کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زمانہ قبل اسلام کا جزیرۃ العرب دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قطر اور عرب امارات کی کئی ریاستیں تو پہلے ہی اسلامی روایات کو ترک کرکے اپنی قدیم عرب روایات کو اختیار کرچکی ہیں، تاہم سعودیہ اس دوڑ میں معاشرتی طور پر پیچھے تھا۔ شہزادہ سلمان بھلا اس دوڑ میں کسی سے کیسے پیچھے رہتا۔ شہزادہ سلمان نے سعودیہ کے لیے بھی وہی راستہ اپنایا، جو اس سے قبل جزیرۃ العرب کے دیگر حکمران اختیار کرچکے تھے۔ شہزادہ سلمان نے اس راستے اور فکر کو ’’ویژن 2030ء‘‘ کا نام دیا ہے۔ سعودی ولی عہد کا ارادہ ہے کہ اگلے چند برسوں میں سعودی عرب کو ثقافتی، معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ محمد بن سلمان مملکت سعودیہ میں فقط میلے ٹھیلے ہی نہیں لگا رہے بلکہ دیگر کئی ایک اقدامات بھی کر رہے ہیں، جس سے سعودیہ کا چہرہ اگلے چند برسوں میں ایک اسلامی ریاست کے بجائے ایک تفریحی مرکز کا ہوگا۔

سعودیہ جیسے ملک میں جہاں گذشتہ سو برس سے سلفی شریعت نافذ ہے اور کڑے قوانین ہیں، وہاں یہ آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے محمد بن سلمان نے ہر ممکنہ رکاوٹ کو ایک ایک کرکے اپنے راستے سے ہٹایا ہے۔ عوام جس کو عرصہ دراز سے عیش و عشرت اور تفریح کا دلدادہ کیا جا چکا تھا، ان کے لیے آزادانہ ان سرگرمیوں کا انجام دینا شاید اتنا مشکل نہ تھا، تاہم سعودی حکومت کا دوسرا ستون یعنی ملا کریسی، شاہی خاندان کے طاقتور افراد سے ایک ایک کرکے نمٹا گیا ہے۔ سعودیہ کے شیعہ نشین علاقے سے کئی علماء کو گرفتار کیا گیا، ایک معروف شیعہ عالم شیخ نمبر باقر النمر جو آل سعود کے خلاف اپنے خطابات میں جرات مندانہ اظہارات کرتے تھے، ان کو حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔

ہندوستان کے معروف لکھاری پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے 12 دسمبر کی اپنی تحریر بعنوان ’’سعودی عرب: یوسفی گر نہیں ممکن تو زلیخائی کر‘‘ میں محمد بن سلمان کے تحت سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔ وہ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں: ’’امر بالمعروف کے بجائے امر بالمنکرات پر زور صرف ہو رہا ہے، مغربی تمدن اور اقدار کو بے چون و چرا قبول کیا جا رہا ہے بلکہ ان کو رواج دیا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں سینما ہال اور کاسینو کھولے جا رہے ہیں۔ ساحل سمندر پر ایسی تفریح گاہیں بنائی جا رہی ہیں، جہاں خواتین صرف بکنی پہن کر لباس برہنگی میں جاسکیں گی اور جہاں عام دیدار یار ہوگا۔۔۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’سعودی عرب کے عالم و داعی شیخ محسن العواجی کو جیل میں بند کیا گیا ہے۔ شیخ محمد عریفی کو گرفتار کیا گیا، مشہور زمانہ کتاب ’’لا تحزن‘‘ کے مصنف شیخ عائض القرنی، شیخ سلمان بن عودہ، شیخ سفر الحوالی، شیخ سعد الفقیہ اور شیخ محمد المسعری اور شیخ العواجی کو حق اور ضمیر کی آواز بلند کرنے پر پابندیوں کا اور نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بولناچاہا تو ان کی زبان بند کر دی گئی، اب ملت کے باضمیر علماء ہر حلقہ زنجیر میں اپنی زبان رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی آواز کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔‘‘

ہم جانتے ہیں کہ ان علماء کے علاوہ عالم اسلام کے دسیوں علماء کی کتب اور شخصیات کو سعودیہ میں بین کر دیا گیا ہے۔ متعدد اسلامی تنظیمیں جن میں اخوان، حزب اللہ، حماس وغیرہ شامل ہیں، ان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا، جس میں نیا اضافہ تبلیغی جماعت ہے، جسے دہشت گردی کا درازہ قرار دیا گیا ہے۔ نصاب میں شامل قرآنی موضوعات کو ختم کرکے نصاب کی فقط ایک کتاب کو شامل نصاب کیا گیا ہے۔ محسن عثمانی تحریر کرتے ہیں: ’’ملک میں سعودایزیشن شروع ہوچکا ہے، یعنی صرف سعودی شہریت رکھنے والوں کو ملازمت دینے کا حکم جاری ہوچکا ہے، غیر سعودیوں کے لئے ملازمت کے دروازے بہت محدود کر دیئے گئے ہیں اور غیر سعودی خاندان کے ہر فرد، پر بچے اور پوڑھے مرد اور عورت سب کو تین سو ریال ماہانہ ٹیکس ادا کرنے کا فرمان جاری ہوگیا ہے۔ آئندہ اس میں سال بہ سال اضافہ ہوتا رہے گا۔ یعنی دوسرے ملکوں کے ملازمین اپنے گھروں کو بھیجنے کے لئے جو بچت کرتے تھے، اس بچت کو ان سےٍ چھین لیا گیا ہے۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں: ’’سعودی عرب امریکہ اور مغربی ملکوں کے جال میں پوری طرح سے پھنس چکا ہے۔ سعودی عرب پہلے ایک بہت خوش حال ملک تھا، اب وہ خستہ حال ملک ہوچکا ہے اور پہلے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ولڈ بنک کا وہ مقروض نہیں تھا، اب وہ ان اداروں سے قرض لینے پر مجبور ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اربوں اور کھربوں ڈالر کے مالیاتی معاہدے وہ دلداری اور دل بدست آوری کے لئے امریکہ اور مغربی ملکوں سے کر رہا ہے اور ایسے ہتھیار خرید رہا ہے، جن کا استعمال سعودی فوج کے بڑے سے بڑے جنرل بھی نہیں جانتے ہیں، نہ ان کو اس کی ٹریننگ ملی ہے، یہ سارے ہتھیار برائے زینت و آرائش اور برائے نمائش ہیں۔‘‘ پروفیسر محسن عثمانی نے اپنے مقالے میں سعودی جرائم کے زمرے میں تیونس کے حاکم زین العابدین کو پناہ دینا اور مرسی کی حکومت کے خاتمے کو اذن باریابی بخشا ہے، تاہم یمن کے عوام پر جاری بمباری، بحرین اور احصاء کے عوام پر مظالم، نائجیریا میں شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کے پیروکاروں کے خلاف مظالم نیز فلسطین کاز سے ہاتھ کھینچنے کو بالکل فراموش کر دیا۔ بہرحال جتنا کچھ انھوں نے بیان کیا، یہ بھی ان کی مہربانی ہے۔

امت مسلمہ کے صاحبان نظر، لکھاریوں اور دانشوروں کو اب عقیدت کی دبیز تہوں اور عصبیت کے اندھیروں سے نکل کر امت کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔ پروفیسر محسن عثمانی بجا طور پر حرمین شریفین کی سالمیت کے بارے پریشان ہیں۔ وہ حکمران جو مکمل طور پر مغربی اداروں اور حکومتوں کے زیر اثر جا چکے ہیں، ان سے کچھ بھی بعید نہیں۔ شاید اسی لیے برصغیر کے علماء نے آل سعود کے تیسرے دور اقتدار کے آغاز میں مدینہ اور مکہ کو موتمر عالم اسلامی کے تحت دینے کا تقاضا کیا تھا۔ جسے اس وقت کے حاکم نے شرائط کے ساتھ قبول کیا اور بعد میں برصغیر کے علماء پر حجاز پر قبضے کا الزام لگا کر معاملے کو رفع دفع کر دیا۔ آج وقت آچکا ہے کہ امت مسلمہ ایک مرتبہ پھر اس مسئلے پر غور و فکر کرے۔ ایسا نہ ہو کہ مزید غفلت کے نتیجہ میں ہمیں کسی ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ پروفیسر محسن عثمانی کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ عالم اسلام کے ملکوں میں اردو، عربی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں بیانات دیئے جانے چاہئیں، سلفی، حنفی، اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی کو بر سرعام، برسر منبر اس بات کا اظہار کرنا چاہیئے کہ سعودیہ میں جو تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، وہ ناقابل قبول ہیں۔