امریکی ایجنسی یو ایس ایڈ نے کورونا وائرس پھیلانے میں کردار ادا کیا، روس

  Click to listen highlighted text! ماسکو : روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تیاری میں ممکنہ طور پر امریکا کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ملوث ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، روس میں تابکاری، کیمیائی اور حیاتیاتی حملوں کی دفاعی فورسز کے سربراہ جنرل ایگور کریلیوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود امریکا کی حیاتیاتی ریسرچ کی لیبارٹریوں میں یوکرین کے شہریوں پر قابل اعتراض تجربات اور تحقیقات کی جا رہی تھیں اور ان ہی تجربات کے سلسلے میں خون اور دیگر مواد کے 16 ہزار نمونے یوکرین سے امریکا اور دیگر یورپی ممالک کو منتقل کیے گئے۔ انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن جیسن کرو کے بیان کو پڑھ کر سنایا ۔ جس میں انہوں نے امریکی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ڈی این اے کے نمونوں کو حیاتیاتی حملوں کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایگور کریلیوف کا کہنا تھا کہ جیسن کرو کے اس بیان کے بعد ہی روسی وزارت دفاع نے کورونا وائرس کی تخلیق اور پھیلاؤ کے مختلف زاویوں پر ازسرنو تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی ہتھیاروں پر تحقیق میں امریکی انتظامیہ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جیسن کرو کے بیان نے ہمیں کورونا وائرس کی وبا اور اس میں امریکی فوج کے ماہرین حیاتیات کے کردار اور اس وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے نئے انداز سے تحقیق کیلئے تحرک دیا ہے۔روس کو شک ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ میں امریکا کی ایجنسی یو ایس ایڈ ملوث ہو سکتی ہے۔ایگور کریلیوف نے پریس کانفرنس کے دوران امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیچز کے آرٹیکل کا بھی حوالہ دیا جس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکا کی جدید ترین کامیابیوں کی مدد سے ممکنہ طور پر لیبارٹری میں کورونا وائرس تخلیق کیا گیا ہے۔

ماسکو : روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تیاری میں ممکنہ طور پر امریکا کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ملوث ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، روس میں تابکاری، کیمیائی اور حیاتیاتی حملوں کی دفاعی فورسز کے سربراہ جنرل ایگور کریلیوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود امریکا کی حیاتیاتی ریسرچ کی لیبارٹریوں میں یوکرین کے شہریوں پر قابل اعتراض تجربات اور تحقیقات کی جا رہی تھیں اور ان ہی تجربات کے سلسلے میں خون اور دیگر مواد کے 16 ہزار نمونے یوکرین سے امریکا اور دیگر یورپی ممالک کو منتقل کیے گئے۔ انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن جیسن کرو کے بیان کو پڑھ کر سنایا ۔ جس میں انہوں نے امریکی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ڈی این اے کے نمونوں کو حیاتیاتی حملوں کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایگور کریلیوف کا کہنا تھا کہ جیسن کرو کے اس بیان کے بعد ہی روسی وزارت دفاع نے کورونا وائرس کی تخلیق اور پھیلاؤ کے مختلف زاویوں پر ازسرنو تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی ہتھیاروں پر تحقیق میں امریکی انتظامیہ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جیسن کرو کے بیان نے ہمیں کورونا وائرس کی وبا اور اس میں امریکی فوج کے ماہرین حیاتیات کے کردار اور اس وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے نئے انداز سے تحقیق کیلئے تحرک دیا ہے۔روس کو شک ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ میں امریکا کی ایجنسی یو ایس ایڈ ملوث ہو سکتی ہے۔ایگور کریلیوف نے پریس کانفرنس کے دوران امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیچز کے آرٹیکل کا بھی حوالہ دیا جس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکا کی جدید ترین کامیابیوں کی مدد سے ممکنہ طور پر لیبارٹری میں کورونا وائرس تخلیق کیا گیا ہے۔