امریکہ تابوت کے ساتھ عراق سے نکلے گا

  Click to listen highlighted text! تحریر: ہادی محمدی امریکہ اور مغربی دنیا کے زوال کی ایک علامت کسی شعبے میں بھی تخلیقی اور تجدد پسندانہ انداز بیاں سے محروم ہونا ہے۔ یہ حقیقت حال حاضر میں ہر زمانے سے زیادہ عیاں ہو چکی ہے۔ اقتصاد کا میدان ہو یا سیاست کا شعبہ اور سکیورٹی کا میدان ہو یا عالمی سطح پر طاقت کے موازنے کا شعبہ ہو، ہر جگہ یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ گذشتہ چند عشروں، خاص طور پر گذشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ کو اپنی عالمی اور مغربی ایشیا سے متعلق سیاست میں نہ صرف مسلسل ناکامیوں اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ اس کے کئی نعروں کا پول بھی کھل گیا ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر اپنی سیاست چمکانے کیلئے بظاہر خوبصورت اور اقدار بھرے الفاظ اور اصطلاحات بروئے کار لاتا ہے جیسے انسانی حقوق، جمہوریت، جمہوری اقدار، دہشت گردی کے خلاف جنگ وغیرہ وغیرہ۔ آج جب امریکی حکمران جمہوریت کی بات کرتے ہیں یا دنیا کے کسی ملک یا خطے میں جمہوریت کے قیام کیلئے اپنے فرائض کا اعلان کرتے ہیں، تو سب بخوبی جان جاتے ہیں کہ اب انہیں امریکہ کے کسی آمرانہ اقدام یا دنیا کے کسی حصے میں آمرانہ حکومت کی حمایت یا کسی آمر اور ڈکٹیٹر کی حفاظت کی کوشش کرنے کا انتظار کرنا چاہئے۔ امریکی حکمرانوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ خوبصورت نعرے لگا کر دوسروں پر اپنی دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں امریکہ ہمیشہ سے دنیا میں آمرانہ ثقافت کی ترویج کرتا آیا ہے۔ جب بھی امریکہ انسانی حقوق یا شہریوں کے حقوق کا احترام جیسے بظاہر توجہ کا مرکز قرار پانے والے ایشوز کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امریکی حکمران ان الفاظ کی آڑ میں کچھ اور کرنے کے درپے ہیں۔ امریکی حکمران درحقیقت ایسے خوبصورت نعرے لگا کر مجرمانہ اقدامات انجام دیتے ہیں یا ایسے دلوں کو بھانے والے ایشوز کو بنیاد بنا کر کسی اور کی مٹی پلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکی حکومتیں ان پیارے نعروں کو اپنے آمرانہ اور تکفیری رویوں کا بہانہ قرار دیتی آئی ہیں اور انہیں دیگر ممالک کو دبانے اور زچ کرنے کیلئے استعمال کرتی آئی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو ایسے رویوں کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملیں گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نوعیت کی سیاست امریکی حکمرانوں کا تشخص اور پہچان بن چکی ہے۔ امریکہ کے اس منافقانہ رویے کی ایسی ہی ایک واضح مثال عراق کی موجودہ صورتحال ہے۔ امریکی حکام ایک طرف تو عراق سے فوجی انخلاء کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف مختلف ہتھکنڈوں سے اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے درپے ہیں۔ امریکہ عراق میں مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ان میں سے ایک حیلہ اپنے فوجیوں کو نیا عنوان اور نیا یونیفارم دے کر انہیں عراق میں باقی رکھنے کی خواہش ہے۔ وہ فورسز جو کل تک براہ راست فوجی کاروائیاں انجام دیتی آئی ہیں اب انہیں فوجی مشیر کا عنوان دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ ایک طرف جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے جبکہ دوسری طرف عراق میں انجام پانے والے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کر کے امریکی طرز پر حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح عراق کی خودمختاری اور حق خود ارادیت کو پامال کرتے ہوئے وہاں اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھ کر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تیسری نسل پرورش دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراقی عوام امریکہ سے نجات کا واحد راستہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طاقت کے ذریعے اسے ملک سے نکال باہر کرنے میں دیکھتے ہیں۔ عراقی عوام اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ امریکہ کسی معاہدے اور وعدے کا پابند نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ اس کی واضح اور زندہ مثال ہے۔ امریکی حکومت ایک طرف بورجام معاہدے میں شامل تھی جبکہ دوسری طرف ایران کے خلاف نت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں مصروف تھی۔ ان تمام اقدامات سے امریکہ کا واحد مقصد ایران کی اقتصاد اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا کر اسے اپنے ناجائز مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ لیکن جب ایرانی حکومت اور قوم نے استقامت کا مظاہرہ کیا تو اب پھر اس کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کی باتیں کرنے لگا ہے۔ حال ہی میں عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنی ہی اعلان کردہ ڈیڈ لائن یعنی 31 دسمبر 2021ء تک عراق سے فوجی انخلاء مکمل نہ کیا تو اس کے خلاف بھرپور فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اسلامی مزاحمت کے رہنماوں نے امریکی حکام پر واضح کر دیا ہے کہ وعدہ خلافی کی صورت میں امریکی ایئرپورٹس عراق سے پہنچنے والی امریکی فوجیوں کی لاشوں سے بھر جائیں گے۔ یاد رہے گذشتہ برس عراق کی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے ایک بل منظور کیا تھا جس میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو غیر قانونی قرار دے کر اس سے جلد از جلد عراق سے فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس وقت سے آج تک امریکہ عراق میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے بروئے کار لا رہا ہے۔

تحریر: ہادی محمدی
 
امریکہ اور مغربی دنیا کے زوال کی ایک علامت کسی شعبے میں بھی تخلیقی اور تجدد پسندانہ انداز بیاں سے محروم ہونا ہے۔ یہ حقیقت حال حاضر میں ہر زمانے سے زیادہ عیاں ہو چکی ہے۔ اقتصاد کا میدان ہو یا سیاست کا شعبہ اور سکیورٹی کا میدان ہو یا عالمی سطح پر طاقت کے موازنے کا شعبہ ہو، ہر جگہ یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ گذشتہ چند عشروں، خاص طور پر گذشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ کو اپنی عالمی اور مغربی ایشیا سے متعلق سیاست میں نہ صرف مسلسل ناکامیوں اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ اس کے کئی نعروں کا پول بھی کھل گیا ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر اپنی سیاست چمکانے کیلئے بظاہر خوبصورت اور اقدار بھرے الفاظ اور اصطلاحات بروئے کار لاتا ہے جیسے انسانی حقوق، جمہوریت، جمہوری اقدار، دہشت گردی کے خلاف جنگ وغیرہ وغیرہ۔
 
آج جب امریکی حکمران جمہوریت کی بات کرتے ہیں یا دنیا کے کسی ملک یا خطے میں جمہوریت کے قیام کیلئے اپنے فرائض کا اعلان کرتے ہیں، تو سب بخوبی جان جاتے ہیں کہ اب انہیں امریکہ کے کسی آمرانہ اقدام یا دنیا کے کسی حصے میں آمرانہ حکومت کی حمایت یا کسی آمر اور ڈکٹیٹر کی حفاظت کی کوشش کرنے کا انتظار کرنا چاہئے۔ امریکی حکمرانوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ خوبصورت نعرے لگا کر دوسروں پر اپنی دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں امریکہ ہمیشہ سے دنیا میں آمرانہ ثقافت کی ترویج کرتا آیا ہے۔ جب بھی امریکہ انسانی حقوق یا شہریوں کے حقوق کا احترام جیسے بظاہر توجہ کا مرکز قرار پانے والے ایشوز کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امریکی حکمران ان الفاظ کی آڑ میں کچھ اور کرنے کے درپے ہیں۔
 
امریکی حکمران درحقیقت ایسے خوبصورت نعرے لگا کر مجرمانہ اقدامات انجام دیتے ہیں یا ایسے دلوں کو بھانے والے ایشوز کو بنیاد بنا کر کسی اور کی مٹی پلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکی حکومتیں ان پیارے نعروں کو اپنے آمرانہ اور تکفیری رویوں کا بہانہ قرار دیتی آئی ہیں اور انہیں دیگر ممالک کو دبانے اور زچ کرنے کیلئے استعمال کرتی آئی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو ایسے رویوں کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملیں گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نوعیت کی سیاست امریکی حکمرانوں کا تشخص اور پہچان بن چکی ہے۔ امریکہ کے اس منافقانہ رویے کی ایسی ہی ایک واضح مثال عراق کی موجودہ صورتحال ہے۔ امریکی حکام ایک طرف تو عراق سے فوجی انخلاء کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف مختلف ہتھکنڈوں سے اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے درپے ہیں۔
 
امریکہ عراق میں مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ان میں سے ایک حیلہ اپنے فوجیوں کو نیا عنوان اور نیا یونیفارم دے کر انہیں عراق میں باقی رکھنے کی خواہش ہے۔ وہ فورسز جو کل تک براہ راست فوجی کاروائیاں انجام دیتی آئی ہیں اب انہیں فوجی مشیر کا عنوان دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ ایک طرف جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے جبکہ دوسری طرف عراق میں انجام پانے والے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کر کے امریکی طرز پر حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح عراق کی خودمختاری اور حق خود ارادیت کو پامال کرتے ہوئے وہاں اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھ کر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تیسری نسل پرورش دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
 
یہی وجہ ہے کہ عراقی عوام امریکہ سے نجات کا واحد راستہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طاقت کے ذریعے اسے ملک سے نکال باہر کرنے میں دیکھتے ہیں۔ عراقی عوام اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ امریکہ کسی معاہدے اور وعدے کا پابند نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ اس کی واضح اور زندہ مثال ہے۔ امریکی حکومت ایک طرف بورجام معاہدے میں شامل تھی جبکہ دوسری طرف ایران کے خلاف نت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں مصروف تھی۔ ان تمام اقدامات سے امریکہ کا واحد مقصد ایران کی اقتصاد اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا کر اسے اپنے ناجائز مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ لیکن جب ایرانی حکومت اور قوم نے استقامت کا مظاہرہ کیا تو اب پھر اس کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کی باتیں کرنے لگا ہے۔
 
حال ہی میں عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنی ہی اعلان کردہ ڈیڈ لائن یعنی 31 دسمبر 2021ء تک عراق سے فوجی انخلاء مکمل نہ کیا تو اس کے خلاف بھرپور فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اسلامی مزاحمت کے رہنماوں نے امریکی حکام پر واضح کر دیا ہے کہ وعدہ خلافی کی صورت میں امریکی ایئرپورٹس عراق سے پہنچنے والی امریکی فوجیوں کی لاشوں سے بھر جائیں گے۔ یاد رہے گذشتہ برس عراق کی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے ایک بل منظور کیا تھا جس میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو غیر قانونی قرار دے کر اس سے جلد از جلد عراق سے فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس وقت سے آج تک امریکہ عراق میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے بروئے کار لا رہا ہے۔